logo logo
AI Search

سوئمنگ پول میں نہانے کے پیسے لینا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوئمنگ پول میں نہانے کی اجرت لینے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ، ہم سوئمنگ پول بنانا چاہتے ہیں، جہاں غیر شرعی معاملات یعنی مرد و عورت کا اختلاط، میوزک اور بے ستری وغیرہ کے معاملات نہیں ہوں گے، وہ پول صرف جینٹس کے لیے ہوگا اور آنے والے کا ایسے لباس میں ہونا ضروری ہوگا کہ جس سے بے ستری نہ ہو، وہاں بہتا پانی ہوگا کہ ایک طرف سے آئے گا اور دوسری طرف نکل جائے گا اور فی فرد 200 روپے کی ٹکٹ ہوگی، اور اس کا وقت پورا دن ہوگا یعنی 200 روپے دےکر شام تک جتنی دیر چاہے نہاتا رہے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس طور پر سوئمنگ پول بنانا اور ٹکٹ کے لیے یہ طریقہ اپنانا شرعا درست ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ کے مطابق سوئمنگ پول بنانا، کہ جس میں غیر شرعی معاملات نہ ہوں گے، شرعا درست ہےکہ اپنی چیزوں (جگہ اور پانی) سے پیسوں کے بدلے دوسرے کو نفع اٹھانے کا اختیار دیا جاتا ہے، اور اس کی شریعت میں اجازت موجود ہے ۔ اور اس میں ٹکٹ کا جو طریقہ اپنایا گیا، کہ شام تک جتنی دیر چاہیں نہائیں، ٹکٹ 200 روپے ہی ہوگی، یہ بھی شرعادرست ہے۔ اور یہ معلوم مدت ہے، لہذا اس کی وجہ سے قیاسا بھی یہ عقد درست قرار پائے گا۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ:

فقہائےکرام نے حمام میں نہانے کے اجارے کو قیاسا فاسد قرار دیا تھا، اور اس کی درج ذیل وجوہات بیان فرمائیں:

ایک یہ کہ حمام میں کتنی دیر رکے گا، وقت کی یہ مقدار مجہول ہے، اور دوسری یہ کہ کتنا پانی اپنے اوپر ڈالے گا، پانی کی یہ مقدار مجہول ہے، تیسری یہ کہ یہاں استہلاک عین پر اجارہ ہے، یعنی جو پانی اپنے اوپر ڈالے گا، وہ زمین پر بہہ کر ضائع ہو جائے گا۔ لیکن لوگوں کے عرف وتعامل کے باعث استحسانا اس کی اجازت عطا فرمائی۔

اور ہماری صورت میں عرف و تعامل کی وجہ سے تو اجازت بنتی ہی ہے، لیکن قیاسا بھی یہ عقد درست ہے، کہ حمام کا اجارہ قیاسا فاسد ہونے والی وجوہات یہاں مفقود ہیں، جس کی تفصیل یہ ہے کہ:

ہماری صورت میں ایک دن کی مدت بیان کی جاتی ہے اور یہ مدت معلوم ہے، لہذا ٹھہرنے کی مقدار معلوم ہوگئی۔ اور پانی کو برتن میں لے کر اپنے جسم پر ڈالنا کہ پانی باہر زمین پر بہہ جائے، جس سے استہلاک عین والی صورت پائی جائے، یہ والی صورت یہاں نہیں ہوتی، بلکہ پانی اپنی روٹین میں جاری ہے اوریہ لوگ اس کے اندر جاکر نہاتے ہیں، لہذا ڈالے جانے والے پانی کی مقدار مجہول ہونے والا معاملہ اور استہلاک عین والا معاملہ بھی یہاں نہیں، بلکہ یہاں یہ معاملہ آئے گا کہ پانی کی منفعت جیسے اس سے ٹھنڈک وغیرہ کا حصول کتنی دیر تک کے لیے ہوگا؟ اور یہ چیز مدت استعمال کو بیان کرنے سے حاصل ہوجائے گی اور وہ بیان کردی جاتی ہے۔

استہلاک کے حوالے سے وضاحت:

ہماری صورت میں پانی کا استہلاک نہیں کیونکہ اس میں جاری پانی میں نہایا جاتاہے، اور پانی اپنی روٹین سے جاری رہتا ہے، باہر زمین وغیرہ پر نہیں گرایا جاتا کہ پانی ضائع یا خرچ ہو جبکہ ضائع یا خرچ ہونے میں استہلاک ہے۔ جیسا کہ اسراف کے حوالے سے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے تحقیق فرمائی کہ: "ممنوع اسراف دو صورتوں میں ہوگا: یا تو قصد معصیت سے استعمال کیا جائے اور اگر قصد معصیت نہ ہو تو پانی کا خرچ و ضائع کرنا پایا جائے جسے استہلاک کہا جاتاہے۔ چنانچہ اسی وجہ سے نہر جاری میں وضو کرنے کے حوالے سے فرمایا گیا کہ: وہاں اسراف تبھی ہوگا کہ قصد معصیت سے پانی ڈالے یعنی یہ سمجھے کہ تین سے زائد مرتبہ عضو پر پانی ڈالنے سے سنت حاصل ہوگی، اگر یہ قصدنہ ہو تو اسراف نہیں کہ پانی کا خرچ و استہلاک نہیں ہے ۔"

کتاب الاصل للشیبانی میں ہے "لو أعطى فلساً على أن يدخل الحمام فيغتسل كان هذا فاسداً، لأنه لا يدري بكم يغتسل من الماء ومتى يخرج ۔۔۔، ولكن أستحسنه فيما بينهم فأجيزه." ترجمہ: اگر کسی نے حمام والے کو ایک پیسہ دیا اس طور پر کہ حمام میں داخل ہو کر نہائے گا تو یہ فاسد ہے کہ وہ نہیں جانتا کہ غسل میں کتنا پانی استعمال کرے گا اور کب باہر نکلے گا لیکن میں استحسانا اسے جائز قرار دیتا ہوں۔ (کتاب الاصل للشیبانی، کتاب الاجارات، باب اجارۃ الحمامات، ج 03، ص 506، مطبوعہ بیروت)

المبسوط للسرخسی میں ہے "لو أعطاه فلسا على أن يدخل الحمام فيغتسل فهو فاسد في القياس لجهالة مقدار مكثه ومقدار ما يصب من الماء لكنه استحسن وجوزه؛ لأنه عمل الناس وقد استحسنوه وقد قال:- صلى اللہ عليه وسلم - ما رآه المسلمون حسنا فهو عند اللہ حسن ولأن في اشتراط إعلام مقدار ذلك حرجا والحرج مدفوع شرعا." ترجمہ: اگر کسی نے حمام والے کو ایک پیسہ دیا اس طور پر کہ حمام میں داخل ہو کر نہائے گا تو قیاسا یہ فاسد ہے کہ اس کے ٹھہرنے کی مقدار مجہول ہے اور کتنا پانی استعمال کرے گا وہ مقدار بھی مجہول ہے لیکن استحسانا اسے جائز قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ لوگوں کا عمل ہے اور لوگوں نے اسے اچھا سمجھا ہے اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: "جس کو مسلمان اچھا سمجھیں تو وہ اللہ تعالی کے نزدیک اچھا ہے۔" اور یہ وجہ بھی ہے کہ اس کی مقدار بیان کرنے کو شرط قرار دینے میں حرج ہے اور حرج شرعا ختم کیا گیا ہے۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الاجارات، باب اجارۃ الحمامات، ج 15، ص 160، مطبوعہ بیروت)

بنایہ شرح ہدایہ میں ہے "وكذا ترك القياس في استئجار الحمام والظئر لأن فيهما استهلاك الماء واللبن" ترجمہ: اور اسی طرح قیاس کو چھوڑا گیا ہے حمام اور دایہ کو اجارے پر لینے والے مسئلے میں کیونکہ ان میں پانی اور دودھ کو ہلاک کرنا ہے۔ (بنایہ شرح ہدایہ، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج 07، ص 149، مطبوعہ کوئٹہ)

تبیین الحقائق میں ہے "(وصح بيع نعل على أن يحذوه أو يشركه) وقال زفر - رحمه اللہ - لا يجوز وهو القياس؛ لأن فيه شرطا لا يقتضيه العقد وجه الاستحسان أن الناس تعاملوه وبمثله يترك القياس، ولهذا أجزنا الاستصناع واستئجار الصباغ والظئر والحمام وإن كانت إجارة على استهلاك الأعيان." ترجمہ: اور نعل کو اس شرط پر بیچنا درست ہے کہ اس کا جوتا بنا کر دے یا اسے تسمہ لگائے اور امام زفر علیہ الرحمۃ نے فرمایا: یہ جائز نہیں اور یہی قیاس ہے کیونکہ اس میں ایسی شرط ہے جس کا عقد تقاضا نہیں کرتا، استحسان کی وجہ یہ ہے کہ اس پر لوگوں کا تعامل ہے اور اس کی وجہ سے قیاس ترک کر دیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ہم نے استصناع کو جائز قرار دیا، رنگریز، دایہ اور حمام کو کرائے پر لینے کو جائز قرار دیا اگرچہ ان میں عین چیزوں کو ہلاک کرنے پر اجارہ ہے۔ (تبیین الحقائق، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج 04، ص 393، مطبوعہ کوئٹہ)

ایک معاہدے میں ثمن کی ادائیگی ایک سال کے اندر کرنا قرار پایا تو اس کے متعلق فتاوی رضویہ میں فرمایا: "اسے اجل مجہول سمجھنا اصلاً وجہ صحت نہیں رکھتا عرفاً لغۃً ہر طرح سال کے اندر اور ایک سال تک کا حاصل ایک ہے جس سے اجل کی تحدید ایک سال سے ہوتی ہے اور سال شے معین ہے نہ کہ مجہول۔۔۔۔ آغاز وعدہ سے اختتام سال تک مشتری کو اختیار ادا ہونا مضر نہیں بلکہ عین مقصود تاجیل ہے کہ اجل اسی کے رفاہ کے لئے ہے۔ " (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 266، رضا فاونڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے "منفعت کی مقدار کا علم مدت بیان کرنے سے ہوتا ہے مثلاً پانچ روپے میں ایک مہینہ کے لیے مکان کرایہ لیا یا ایک سال کے لیے کھیت اجارہ پر لیا۔ یہ اختیار ہے کہ جس مدت کے لیے اجارہ ہو وہ قلیل مدت ہو مثلاً ایک گھنٹہ یا ایک دن یا طویل دس برس، بیس برس، پچاس برس ۔" (بھار شریعت، ج 03، حصہ 14، ص 109، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بہار شریعت میں ہے "حمام کی اُجرت جائز ہے اگرچہ یہاں یہ متعین نہیں ہوتا کہ کتنا پانی صرف کریگا اور کتنی دیر تک حمام میں ٹھہرے گا۔ ہاں اگر حمام میں دوسروں کے سامنے اپنے ستر کو کھولے جیسا کہ عموماً حمام میں ایسا ہوتا ہے یا خود اپنا ستر نہیں کھولا تو دوسرو ں کے ستر پر نظر پڑتی ہے اس وجہ سے حمام میں جانا منع ہے خصوصاً عورتوں کو اس میں جانے سے بہت زیادہ احتیاط چاہيے اور اگر نہ اپنا ستر کھولے نہ دوسرے کے ستر کی طرف نظر کرے تو حمام میں جانے کی ممانعت نہیں۔ " (بھار شریعت، ج 03، حصہ 14، ص 144، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فتاوی رضویہ میں اسراف کے حکم کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے فرمایا: " اقول: معصیت تو خود معصیت ہی ہے ولہٰذا اُس میں منع مال ضائع کرنے پر موقوف نہیں اور غیر معصیت میں جبکہ وہ فعل فی نفسہٖ گناہ نہیں لاجرم ممانعت میں اضاعت ملحوظ ولہٰذا عام تفسیرات میں لفظ انفاق ماخوذ کہ مفید خرچ و استہلاک ہے ۔۔۔۔۔ ان صورتوں میں کی اول یعنی غرض فاسد و ناروا کیلئے تقدیر شرعی پر زیادت مطلقا ممنوع و ناجائز ہے اگرچہ پانی اصلا ضائع نہ ہو۔ قول اوّل کا یہی محمل ہے اور حق صریح بلکہ مجمع علیہ ہے اور اسی پر حمل کے لئے ہمارے علماء نے حدیث ہشتم کو صورت فساد اعتقاد پر محمول فرمایا یعنی جبکہ جانے کہ تقدیر شرعی سے زیادہ ہی میں سنّت حاصل ہوگی۔ ظاہر ہے کہ اس نیت فاسدہ سے نہر نہیں سمندر میں ایک چُلّو بلکہ ایک بوند زیادہ ڈالنا اسراف و گناہ ناجائز ہوگا کہ اصل گناہ اُس نیت میں ہے، گناہ کی نیت سے جو کچھ کرے گا سب گناہ ہوگا۔ رہی صورت اخیرہ کہ محض بلا وجہ زیادت ہو، اوپر واضح ہولیا کہ یہاں تحقیق اسراف و حصول ممانعت اضاعت پر موقوف ہے تو اس صورت میں دیکھنا ہوگا کہ پانی ضائع ہوا یا نہیں، اگر ہوا مثلاً زمین پر بہہ گیا اور کسی مصرف میں کام نہ آیا تو ضرور اسراف و ناروا ہے۔ اور یہی محمل قول چہارم ہے اور یقینا صواب و صحیح بلکہ متفق علیہ ہے کون کہے گا کہ بیکار پانی ضائع کرنا جائز و روا ہے۔۔۔بالجملہ حاصل حکم یہ نکلا بے حاجت زیادت اگر باعتقاد سنیت ہو مطلقاً ناجائز و گناہ ہے اگرچہ دریا میں اور اگر پانی ضائع جائے تو جب بھی مطلقاً مکروہ تحریمی اگرچہ اعتقاد سنیت نہ ہو اور اگر نہ فساد عقیدت نہ اضاعت تو خلاف ادب ہے مگر عادت کرلے تو مکروہ تنزیہی ۔" (فتاوی رضویہ، ج 1۔ب، ص 940، 989، 1030، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی

مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری

فتوی نمبر: Lar-10768

تاریخ اجراء: 08 ذو الحجۃ 1442 ھ/19 جولائی 2021ء