logo logo
AI Search

ٹرانسپورٹ میں مال کا نقصان کس کے ذمہ ہوگا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

خریدو فروخت میں ٹرانسپورٹ کی وجہ سے  مال ہلاک ہوجائے تو وہ کس کے ذمہ ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک پارٹی نے ہم سے مال منگوایا، ہم نے ان سے مال کی کوالٹی، قیمت وغیرہ سب چیزیں طے کرکے عقد کرلیا، مگر پیمنٹ ایک مہینہ بعد دینا طے پایا، اس کے بعد ہم نےوہ مال پارٹی کے کہنے پر، ان کی طرف سے متعین کردہ گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی کے سپرد کردیا، راستے میں گڈز ٹرانسپورٹ والوں کو حادثہ پیش آیا اوروہ مال ہلاک ہوگیا، اب اس پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ مال چونکہ ہم تک نہیں پہنچا، لہٰذا ہم اس کی پیمنٹ نہیں کریں گے۔  دریافت طلب امر یہ ہےکہ ہلاک ہونے والا مال کس کے ذمہ میں ہلاک ہوا؟ اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں۔

جواب

شریعت اسلامیہ کی روسےخرید و فروخت ہو جانے کے بعد خریدار پر لازم ہےکہ خریدی گئی چیز کی قیمت، چیز بیچنے والے کے سپرد کر دے اور بائع (بیچنے والے شخص) پر لازم ہےکہ وہ بیچی جانے والی چیز خریدار کے سپرد کرے۔ خریدار کی طرف سے متعین کردہ شخص کے سپرد کرنا بھی خریدار کے ہی سپرد کرنا ہےکہ وہ بطور وکیل قبضہ کرتا ہے اور وکیل کا قبضہ مؤکل (اصل مالک) کا قبضہ شمار ہوتا ہے۔ پوچھی گئی صورت میں آپ نے مبیع (بیچی گئی چیز) چونکہ مشتری کی متعین کردہ ٹرانسپورٹ کمپنی کے حوالے کردی تھی، لہٰذا آپ کی طرف سے سپرد کرنا پایا گیا۔ اس کے بعد ٹرانسپورٹ کمپنی سےجو مبیع (بیچی گئی چیز) ہلاک ہوئی وہ خریدارکی ہلاک ہوئی، لہٰذا خریدارپر حسبِ وعدہ اس مبیع (بیچی گئی چیز) کی پیمنٹ لازم ہے۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری 
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ اگست 2026ء