logo logo
AI Search

اکیڈمی میں بچوں کی چھٹیوں کے باوجود پوری فیس لینا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ٹیوشن میں بچوں کی چھٹیوں کے باوجود پوری فیس لے سکتے ہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں ٹیوشن پڑ ھاتی ہوں، بچوں کے والدین نے فیس تو دے دی ہے پر بچے ریگولر پڑ ھنے نہیں آرہے، جولائی کی چھٹیوں کی وجہ سے، ایک دن آتے ہیں، بلاوجہ چھ دن چھٹی کرتے ہیں، تو میرا یہ فیس لینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم جاننے سے پہلے یہ جان لیں کہ ہمارے یہاں اسکول ٹیوشن وغیرہ کے تعلیمی اجارے عام طور پر اجارہ خاصہ یعنی وقت کے اجارے ہوتے ہیں جس میں باہمی رضامندی سے جگہ اور وقت کا تعین کر لیا جاتا ہے کہ فلاں جگہ اور فلاں وقت میں تعلیم کا سلسلہ ہوا کرے گا۔ ایسی صورت میں استاذپر یہ لازم ہے کہ وہ متعینہ وقت اور جگہ میں خود کو پڑھانے کے لئے حاضر رکھے اور اس کی جانب سے تعلیم کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہ پائی جائے، اب چاہے طالب علم پڑھنے آئے یا نہ آئے، بہر صورت وہ فیس کا مستحق ہوجائے گا کیونکہ معاہدے کے مطابق طالب علم استاذ سے استفادہ پر قادر تھا اور فقہائے کرام کے ارشادات کے مطابق جب مستاجر (طالب علم) اجیر (استاذ) سے مقررہ وقت اور جگہ میں متعینہ منفعت حاصل کرنے پر قادر ہو، خواہ بالفعل حاصل نہ کرے، تو بھی اجیر اجرت (فیس) کا مستحق ہو جاتا ہے۔

لہذا اس تفصیل کے مطابق اگر آپ ٹیوشن کے وقت اپنے آپ کو مقررہ جگہ پر متعینہ مدت کے لیے حاضر رکھتی ہیں اور آپ کی جانب سے تعلیم کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، تو اب طالب علم آئے یا نہ آئے، آپ اجرت کی مستحق ہوں گی، ہاں! اگر آپ بھی مقررہ جگہ، متعینہ مدت کے لیے اپنے آپ کو حاضر نہیں رکھتیں، تو چونکہ اس صورت میں آپ کی طرف سے تسلیم نفس نہیں ہوتی، لہذا اتنے دنوں کی اجرت کی آپ مستحق نہیں ہوں گی۔

درر الحكام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے: ”لو استؤجر أستاذ لتعليم علم أو صنعة فإن ذكرت مدة انعقدت الإجارة على المدة حتى أن الأستاذ يستحق الأجرة لكونه حاضرا ومهيأ للتعليم قرأ التلميذ، أو لم يقرأ“ ترجمہ: اگر کسی اُستاذ کو کسی علم یا ہنر کی تعلیم کے لیے اجرت پر رکھا جائے اور مدت متعین کر دی جائے، تو یہ وقت کا اجارہ ہوگا حتی کہ اُستاذ اس مدت میں موجود اور تعلیم کے لیے تیار رہنے سے اجرت کا مستحق ہو جائےگا، خواہ شاگرد پڑھے یا نہ پڑھے۔ (درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام، ج 01، ص 653-654، دار الجيل)

سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن لکھتے ہیں: ”مدرسین و امثالہم اجیر خاص ہیں اور اجیر خاص پر وقت مقررہ معہود میں تسلیمِ نفس لازم ہے اور اسی سے وہ اجرت کا مستحق ہوتا ہے اگرچہ کام نہ ہو۔ مثلاً مدرس وقت معہود پر مہینہ بھر برابر حاضر رہا اور طالب علم کوئی نہ تھا کہ سبق پڑھتا، مدرس کی تنخواہ واجب ہو گئی، ہاں اگر تسلیم نفس میں کمی کرے مثلا بلارخصت چلا گیا، یا رخصت سے زیادہ دن لگائے، یا مدرسہ کا وقت چھ گھنٹے تھا، اس نے پانچ گھنٹے دئے، یا حاضر تو آیا لیکن وقت مقرر خدمت مفوضہ کے سوا اور کسی اپنے ذاتی کام اگرچہ نماز نفل یا دوسرے شخص کے کاموں میں صرف کیا کہ اس سے بھی تسلیم منتقض ہوگئی، یونہی اگر آتا اور خالی باتیں کرتا چلا جاتا ہے، طلبہ حاضر ہیں اور پڑھاتا نہیں کہ اگرچہ اجرت کا م کی نہیں تسلیم نفس کی ہے، مگریہ منع نفس ہے، نہ کہ تسلیم، بہر حال جس قدر تسلیم نفس میں کمی کی ہے اتنی تنخواہ وضع ہوگی۔ (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 506، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

نوٹ: جن صورتوں میں آپ اجرت کی مستحق نہیں ہوتیں، ان صورتوں میں اگر بچوں کے سر پرست اپنی خوشی سے، یہ جانتے ہوئے کہ ہم پر دینا لازم نہیں، پھر بھی آپ کو ان دنوں کی اجرت دیتے ہیں، تو آپ کے لیے وہ اجرت لینا جائز ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5260

تاریخ اجراء: 14 صفر المظفر1448ھ/29 جولائی 2026ء