ناجائز ایڈز چلانے کی نوکری کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کمپنی میں ناجائز ایڈز چلانے کی ملازمت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
بیان کردہ سوال کے حوالے سے شرعی مسئلہ یہ ہے کہ بے پردہ عورتوں کی تصاویر یا ان کی ویڈیوز پر مشتمل اشتہارات (Ads) شائع کرنا شرعاً جائز نہیں، اس لیے کہ جس طرح بے پردہ عورتوں کی تصاویر اور ویڈیوز کو بلا ضرورت دیکھنا ناجائز اور گناہ ہے، اسی طرح ان کی تشہیر، نشر و اشاعت اور ترویج کرنا بھی ناجائز ہے، کہ یہ اشاعت فاحشہ (یعنی برائی کوعام کرنا ہے) اور اشاعت فاحشہ ناجائزو حرام ہے۔ لہٰذا ایسی ملازمت یا کام کرناہرگزجائزنہیں، جس میں بے پردہ عورتوں کی تصاویر، یا ویڈیوز کی تشہیر اور ترویج کرنی پڑتی ہو۔
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ- ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ- اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ ﴾ ترجمہ کنز العرفان: مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ، بیشک اللہ ان کاموں سے خبردار ہے۔ (پارہ 18، سورۃ النور، آیت 30)
اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیرِ رازی میں ہے ”و لا يجوز له أن ينظر إلى شيء منها“ ترجمہ: مرد کے لئے غیر محرم عورت کے کسی عضو کی طرف نظر کرنا، جائز نہیں۔ ( تفسیرِ رازی، جلد 23، صفحہ 361، مطبوعہ: بیروت)
حدیثِ پاک میں ہے "أن النبي صلی اللہ تعالی علیہ و سلم قال لعلي: لا تتبع النظرة، فإنما لك الأولى، و ليس لك الآخرة" ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے ارشاد فرمایا: (بے پردہ غیر محرم عورت پر) پہلی نظر (پڑ جانے) کے بعد دوبارہ نظر نہ ڈالو، کیونکہ پہلی (نگاہ کا از خود پڑ جانا) تمہارے لئے معاف ہے اور دوسری (نگاہ کا خود سے ڈالنا) تمہارے اوپر (گناہ ہے)۔ (المصنف لابنِ ابی شیبہ، کتاب النکاح، جلد 4، صفحہ 6، دار التاج، لبنان)
ہدایہ میں ہے ”و لا یجوز ان ینظر الرجل الی الاجنبیۃ‘‘ ترجمہ: مرد کا اجنبی عورت کی طرف دیکھنا جائز نہیں۔ (الھدایۃ، کتاب الکراھیۃ، جلد 04، صفحہ 460، مطبوعہ: لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے بے پردہ بایں معنی کہ جن اعضاء کا چھپانا فرض ہے، ان میں سے کچھ کھلا ہو، جیسے سر کے بالوں کا کچھ حصہ یا گلے یا کلائی یا پیٹ یا پنڈلی کا کوئی جز، تو اس طورپر تو عورت کو غیر محرم کے سامنے جانا مطلقا حرام ہے، خواہ وہ پیر ہو یا عالم یا عامی جوان ہو، یا بوڑھا، اور اگر بدن موٹے اور ڈھیلے کپڑوں سے ڈھکا ہے، نہ ایسے باریک کہ بدن یا بالوں کی رنگت چمکے۔ نہ ایسے تنگ کہ بدن کی حالت دکھائیں اور جانا تنہائی میں نہ ہو اور پیر جوان نہ ہو، غرض کوئی فنتہ نہ فی الحال ہو، نہ اس کا اندیشہ ہو، تو علم دین امور راہ خدا سیکھنے کے لئے جانے اور بلا نے میں حرج نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 239، 240، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: وہ (نوکری)جس میں خودنا جائز کام کرنا پڑے۔ ۔ ۔ ایسی ملازمت خود حرام ہے اگرچہ تنخواہ خالص ما ل حلال سے دی جائے وہ مال حلال بھی اس کے لئے حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 515، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مسلمانوں میں بے حیائی پھیلانے والوں کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ-فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِؕ-﴾ ترجمہ: بیشک جو لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائی کی بات پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ (پارہ 18، سورۃ النور، آیت 19)
اس آیت کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے: اشاعتِ فاحشہ کے اصل معنی میں بہت وسعت ہے۔چنانچہ اشاعتِ فاحشہ میں جو چیزیں داخل ہیں، ان میں سے بعض یہ ہیں: ۔ ۔ حرام کاموں کی ترغیب دینا۔ ۔ ایسی کتابیں، اخبارات، ناول، رسائل اور ڈائجسٹ وغیرہ لکھنا اور شائع کرنا، جن سے شہوانی جذبات متحرک ہوں۔ فحش تصاویر اور ویڈیوز بنانا، بیچنا اور انہیں دیکھنے کے ذرائع مہیا کرنا۔ ایسے اشتہارات اور سائن بورڈ وغیرہ بنانا اور بنوا کر لگا نا، لگوانا جن میں جاذبیت اور کشش پیدا کرنے کے لئے جنسی عریانیت کا سہارا لیا گیا ہو۔ حیا سوز مناظر پر مشتمل فلمیں اور ڈرامے بنانا، ان کی تشہیر کرنا اور انہیں دیکھنے کی ترغیب دینا۔ ۔ ان تمام کاموں میں مبتلا حضرات کو چاہئے کہ خدارا! اپنے طرز عمل پر غور فرمائیں، بلکہ بطور خاص ان حضرات کو زیادہ غور کرنا چاہئے، جو فحاشی و عریانی اور اسلامی روایات سے جدا کلچر کو عام کر کے مسلمانوں کے اخلاق اور کردار میں بگاڑ پیدا کر رہے ہیں اور بے حیائی، فحاشی و عریانی کے خلاف اسلام نے نفرت کی جو دیوار قائم کی ہے، اسے گرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالی انہیں ہدایت اور عقل سلیم عطا فرمائے۔ (تفسیرِ صراط الجنان، تحت ھذہ الآیہ، ج 6، ص 602، مطبوعہ، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5283
تاریخ اجراء: 24 صفر المظفر 1448ھ / 08 اگست 2026ء