ریپئرنگ کے دوران لیپ ٹاپ ٹوٹ جائے تو نقصان کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ریپئرنگ والے سے لیپ ٹاپ ٹوٹ جائے تو نقصان کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کی لیپ ٹاپ کی دکان ہے، وہ لیپ ٹاپ ریپئرنگ کا کام کرتا ہے، کام کرتے ہوئے اگر لیپ ٹاپ کا کوئی نقصان ہو جائے مثلاً اس کی سکرین ٹوٹ جائے یا دب جائے، یا اسی طرح کا کوئی نقصان ہو جائے، جس میں اس شخص کی کوئی لاپرواہی و کوتاہی نہیں پائی جاتی، بلکہ وہ پوری احتیاط سے کام کرتا ہے، تو کیا اس شخص پر اِس کا تاوان لازم ہو گا جبکہ دکان پر لکھ کر لگایا ہوا ہے کہ ریپئرنگ کے دوران کوئی نقصان ہوا تو ہم ذمہ دار نہ ہوں گے ؟
جواب
سب سے پہلے یہ جان لیں کہ جو خاص وقت میں کسی خاص شخص کے لیے کام کرنے کا پابند نہ ہو بلکہ وہ مختلف لوگوں کے کام کرتا ہو، اسے اجیر مشترک کہتے ہیں اور قوانین شرعیہ کے مطابق اجیر مشترک کے فعل سے اگر چیز کا نقصان ہو جائے یا چیز ہلاک ہو جائے تو اجیر مشترک پر ا س کا تاوان لازم ہے اگرچہ اس کی طرف سے کوئی کوتا ہی نہ پائی گئی ہو ۔
پوچھی گئی صورت میں لیپ ٹاپ ریپئرنگ کا کام کرنے والا شخص اجیر مشترک ہوتا ہے، لہذا لیپ ٹاپ ریپئر کرتے ہوئے اگر اس کے فعل سے کوئی نقصان ہو جاتا ہے مثلاً سکرین ٹوٹ جائے یا دب جائے، تو اس شخص پر تاوان لازم ہو گا اگرچہ اس نے پوری احتیاط سے کام کیا ہو اور اس کی طرف سے کوئی کوتاہی نہ پائی گئی ہو۔ رہا دکان پر یہ لکھ کر دینا کہ "ریپئرنگ کے دوران کوئی نقصان ہوا تو ہم ذمہ دار نہ ہوں گے" تو ایسا لکھ کر لگا دینے سے، نقصان کی صورت میں وہ شرعاً تاوان سے بری الذمہ نہیں ہو گا كيونكہ یہ تحریر ، شرعی حکم کے خلاف ہے اور جو تحریر، شرعی حکم کے خلاف ہو اس کا اعتبار نہیں۔
اجیر مشترک کی تعریف بیان کرتے ہوئے مبسوط سرخسی میں ہے: ”والمشترک من یستوجب الأجر بالعمل و يعمل لغير واحد ولهذا يسمي مشترك“ ترجمہ: اجیر مشترک وہ ہے جو کام کے بدلے اجرت کا مستحق ہو تا ہے اور وہ کسی خاص شخص کے لیے کام نہیں کرتا اسی وجہ سے اسے اجیر مشترک کہا جاتا ہے۔ (مبسوط سرخسی، جلد 15، صفحہ 115، دار الکتب العلمیہ)
فتاوی رضویہ میں ہے: ”اجیر مشترک پیشہ ور، کہ اجرت پر ہر شخص کا کام کرتے ہیں، کسی خاص کے نوکر نہیں، جیسے راج، مزدور، بڑھئی، درزی وغیرہم ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 518، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اجیر مشترک کے فعل سے جو نقصان ہو، اس کا وہ ضامن ہو گا چنانچہ مبسوط سرخسی میں ہے: ”رجل سلم إلي قصار ثوبا فدقه بأجر مسمي فتخرق أو عصره فتخرق أو جعل فيه النورة أو وسمه فاحترق فھو ضامن لذلك كله لأن هذا من جناية يده وقد بينا أن الاجير المشترك ضامن لما جنت يده“ ترجمہ: کسی شخص نے دھوبی کو کپڑ ادیا، دھوبی نے معین اجرت کے بدلے کپڑے کو (کوٹ کر) دھویا پس وہ کپڑا پھٹ گیا یا اس نے کپڑا نچوڑا اور وہ پھٹ گیا یا اس نے کپڑے میں نورہ (ایک قسم کا پاؤڈر) یا وسمہ (رنگ والی جڑی بوٹی) ڈالا پس وہ کپڑا، جل گیا تو وہ دھوبی ان سب صورتوں میں ضامن ہو گا کیونکہ یہ جرم اس کے ہاتھ سے ہوا ہے اور ہم بیان کر چکے کہ اجیر مشترک کے ہاتھ سے جو جرم ہو اس کا وہ ضامن ہو گا۔ (مبسوط سرخسی، جلد 16، صفحہ 11، دار الکتب العلمیہ)
اجیر مشترک کے فعل سے شے کا نقصان ہونے کی صورت میں اگرچہ اس کی طرف سے کوتاہی نہ پائی جائے پھر بھی ضمان لازم ہو گا چنانچہ مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے: ”الأجير المشترك يضمن الضرر والخسائر التي تولدت عن فعله ووصفه إن كان بتعديه وتقصيره أو لم يكن“ ترجمہ: اجیر مشترک کے فعل سے چیز میں جو ضرر و نقصان پیدا ہو، اس کا وہ ضامن ہے، چاہے اس کی طرف سے زیادتی و کوتاہی پائی جائے یا نہ پائی جائے ۔ (مجلة الأحكام العدلية، صفحہ 114، مطبوعہ کراچی)
بہار شریعت میں ہے: اجیر مشترک کے فعل سے اگر چیز ضائع ہوئی تو تاوان واجب ہے مثلاً دھوبی نے کپڑا پھاڑدیا اگرچہ قصداً نہ پھاڑا ہو چاہے اُسی نے خود پھاڑا یا اُس نے دوسرے سے دھلوایا اُس نے پھاڑا بہر حال تاوان واجب ہے۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 14، صفحہ 156، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: OKR-0310
تاریخ اجراء: 07 صفر المظفر 1448ھ/22 جولائی 2026ء