logo logo
AI Search

اکیڈمی کی آمدنی کا کچھ فیصد بطور کرایہ طے کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

آمدنی کا کچھ فیصد کرایہ طے کر کے چیز کرایہ پر دینا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا دوست اکیڈمی کھولنے کے لیے میری بیٹھک کرائے پر لینا چاہتا ہے، تو کیا  ہم اس طرح معاہدہ کرسکتے ہیں کہ وہ ہر ماہ اکیڈمی سے حاصل ہونے والی آمدنی کا چالیس فیصدمجھے کرائے کے طور پر دے  گا ؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں مذکور معاہدہ کرنا شرعاً جائز نہیں، کیونکہ اجارہ صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کرایہ واضح اور متعین ہو، جبکہ اکیڈمی سے حاصل ہونے والی آمدنی کا چالیس فیصد حصہ ہر ماہ کتنا بنے گا؟ یہ معلوم نہیں، لہذا اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے یہ اجارہ فاسد قرار پائے گا اور اجارۂ فاسدہ کرنا ناجائز وگناہ ہے۔

در مختار میں ہے: ’’وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين، لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة‘‘ ترجمہ:  اجارے کی شرط یہ ہے کہ اجرت اور منفعت معلوم ہو، کیونکہ ان کی جہالت باعثِ نزاع ہوتی ہے۔ (الدر المختار، صفحہ  569، دار الكتب العلمية، بيروت)

اسی میں ہے: ”و تفسد بجهالة المسمى“ ترجمہ: مقررہ اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے اجارہ فاسد ہو جاتا ہے۔ (الدر المختار، صفحہ 579، دار الكتب العلمية، بيروت)

فتاوی رضویہ میں ہے: ’’اجارہ جو امرِ جائز پر ہو، وہ بھی اگر بے تعینِ اجرت ہو، تو بوجہِ جہالت اجارہ فاسدہ اور عقد حرام ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 529، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

کمائی کا فیصد گھر کے کرائے کے طور مقرر کرنے کے حوالے سے محیطِ برہانی میں ہے: ”وإذا دفع الرجل إلى الرجل بيتا ليبيع فيه البر، على أن ما رزق الله في ذلك من شيء فهو بينهما نصفان، فقبض البيت وباع فيه البر، فأصاب مالا، فإن جميع ذلك لصاحب البر، ولصاحب البيت علیہ أجر مثل البيت. واعلم بأن هذه الإجارة فاسد، لأنه لم يذكر فيها مدة ولأن الأجر فهو نصف ما يربح مجهول، وإذا فسدت الإجارة كان على العامل أجر مثل البيت، وكان ما أصاب العامل من المال له، لأنه بدل بره“

ترجمہ: اگر کوئی شخص کسی کو اپنا گھر گندم بیچنے کے لیے اس شرط پر دے، کہ جو کچھ اللہ تعالی اس تجارت میں نفع دے گا وہ دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوگا، پھر اس شخص نے گھر قبضے میں لے کر اس میں گندم کی تجارت کی اور کچھ مال کمایا، تو وہ سارا مال گندم بیچنے والے کا ہوگا، جبکہ گھر کا مالک اس سے جتنا کرایہ اس جیسے گھر کا بنتا ہو، وہ لے گا۔ اور جان لیجیے کہ یہ اجارہ فاسد ہے، کیونکہ اس میں مدت بیان نہیں کی گئی، نیز اس میں کمائی کے نصف کو بطور اجرت مقرر کیا گیا ہے، جو کہ مجہول ہے۔ پھر جب اجارہ فاسد ہو جائے، تو کام کرنے والے پر اس گھر کی اجرتِ مثل لازم ہوگی اور جو مال اس نےکمایا وہ اسی کا ہوگا، کیونکہ وہ اس کی گندم کا معاوضہ ہے۔ Top of Form Bottom of Form(المحيط البرهاني في الفقه النعماني، ج 7، ص 476، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

اجرت مجہول ہونے کی وجہ سے اجارہ ناجائز و گناہ ہوگا۔ فتاوی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں ہے: ’’اجرت مجہول ہے اور ایسااجارہ حرام اورعاقدین گنہگار۔ “ (فتاوی رضویہ، ج 25، ص 259، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: PIN-7741
تاریخ اجراء:19 شوال المکرم1447 ھ/08 اپریل 2026ء