logo logo
AI Search

بینک کے کنسٹریکشن پروجیکٹ پر کام کرنا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بینک کے کنسٹریکشن پروجیکٹ پہ کام کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مجھے ایک بینک کی برانچ کا کنسٹریکشن پروجیکٹ آفر ہوا ہے، جس میں بلڈنگ کا کام، انٹیریر، اور فرنیچر وغیرہ شامل ہیں، کیا اس طرح کا کام کرنا شرعا جائز ہے؟

جواب

دریافت کی گئی صورت میں آپ کا بینک کے لیے بلڈنگ، انٹیریر اور فرنیچر وغیرہ پر مشتمل کنسٹریکشن پروجیکٹ کرنا شرعاً جائز ہے؛ اس لیے کہ بلڈنگ اور فرنیچر وغیرہ گناہ کے لیے متعین نہیں، اور بینک والے اگر اس میں کوئی غیر شرعی امور سرانجام دیں، تو وہ ان کا ذاتی فعل ہے، آپ پر اس کا وبال نہیں، بشرطیکہ آپ کی گناہ پر تعاون کی نیت نہ ہو۔

المحیط البرہانی فی فقہ النعمانی میں ہے "ولو استأجر الذمی مسلمًا لیبنیٰ لہ بیعة أو کنیسةً جاز ویطیب لہ الأجر" ترجمہ: اور اگر ذمی نے مسلمان کو اجیر کیا کہ وہ اس کے لئے گرجا یا کنیسہ بنا دے تو ایسا کرنا جائز ہے اور اس کے لئے اجرت جائز ہے۔ (المحیط البرهانی فی فقہ النعمانی، جلد 7، صفحہ 482، دار الكتب العلمية، بيروت)

در مختار میں ہے "وجاز تعمیر کنیسۃ" ترجمہ: اور (کنیسہ) یہود کی عبادت گاہ تعمیر کرنا جائز ہے۔

عبارتِ بالا کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمۃ ’’رد المحتار‘‘ میں نقل فرماتے ہیں: "ولو آجر نفسه لیعمل فی الکنیسۃ ویعمرھا لابأس بہ لأنہ لامعصیۃ فی عین العمل" ترجمہ: اگر کنیسے (یہود کی عبادت گاہ) میں کام کرنے اور اسے تعمیر کرنے کے لئے مزدوری کی تو حرج نہیں کیونکہ اس عمل میں معصیت نہیں ہے۔ (ردالمحتار علي الدر المختار، جلد 6، صفحہ 391، دارالفکر، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4995
تاریخ اجراء: 24 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 12 مئی 2026ء