انشورنس کمپنی میں جاب کرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
انشورنس کمپنی میں ملازمت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
انشورنس کی کمپنی میں کام کر سکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب
انشورنس کمپنی میں جس جاب میں کوئی ناجائز کام کرنا پڑے، مثلا سود کا لین دین کرنا پڑے، یا سودی دستاویزات لکھنا پڑیں، یا سود کے لین دین میں گواہ وغیرہ بننا پڑے، یا جوئے وغیرہ کا لین دین کرنا پڑے، ایسی جاب، ناجائز و حرام ہے، البتہ! اگر انشورنس کمپنی میں ایسی جاب ہو کہ جس میں کوئی ناجائز کام نہ کرنے پڑے، جیسے ڈرائیور یا سیکورٹی گارڈ، الیکٹریشن اور صفائی وغیرہ کے کام کی نوکری، تو وہ شرعاً جائز ہے۔
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا: "بینک کی ایسی ملازمت کے متعلق کیا حکم ہے، جس میں سودی قرض وصول کرنا وغیرہ کام کرنے پڑتے ہیں؟"
آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: "(ایسی ملازمت) جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑے، جیسے یہ ملازمت جس میں سود کا لین دین، اس کا لکھنا پڑھنا، تقاضا کرنا اُس کے ذمہ ہو، ایسی ملازمت خود حرام ہے، اگرچہ اس کی تنخواہ خالص مال حلال سے دی جائے، وہ مال حلال بھی اس کیلئے حرام ہے، اور مال حرام ہے تو حرام در حرام۔" (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 515، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: "ہاں یہ (عہدہ) شرعاً حرام ہے جبکہ صورت وہی ہے جو ذکر کی ہے، کیونکہ یہ عہدہ ان سودی چیکوں و رسیدوں پر بڑی شہادت ہے۔۔۔تو اس عہدہ پر قائم شخص سودی اور حرام معاملات پر معاون ہوتا ہے اور بیشک اللہ تعالی نے فرمایا ہے: ﴿ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان﴾ یعنی گناہ اور عداوت پر باہمی تعاون نہ کرو، اور طبرانی نے اپنی کبیر میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے حسن سند کے ساتھ مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ اللہ تعالی نے سود کھانے، کھلانے، لکھنے اور گواہی دینے والے پر لعنت فرمائی ہے جبکہ وہ جانتے ہوئے یہ عمل کریں، تو بیشک حرمت کے تین وجوہ گناہ میں اعانت، سود کی کتابت اور گواہی، کا سب رجسڑار جامع ہوتا ہے۔ " (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 476-477، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ علیہ وقار الفتاوی میں ارشاد فرماتے ہیں: "جن لوگوں کو سود کے کاغذات لکھنا نہیں ہوتے ہیں مثلا ًدربان، پیون، اور ڈرائیور، ان کی ملازمتیں جائز ہیں۔"
مزید فرماتے ہیں: "بینک کے جو ملازم (جن کے متعلق سود کا کام ہو جیسے)سود کا حساب کتاب لکھتے ہیں یا سود طے کرتے ہیں، ان کی ملازمت ناجائز ہے۔" (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 324-326، ملتقطاً، بزم وقار الدین، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4955
تاریخ اجراء: 07 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/25 اپریل 2026ء