logo logo
AI Search

قبر پر تلاوت کی اجرت لینا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قبر پر تلاوت کرنے والوں کی رقم کے ذریعے خدمت کرنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ہمارے یہاں یہ رواج ہے کہ میت کی تدفین کے بعد اہلِ میت قبر پر حافظ صاحب اور چند بچوں کو لے جا کر قرآنِ مجید کی تلاوت کرواتے ہیں، اور یوں کہتے ہیں کہ آپ دو تین گھنٹے تلاوت کریں، ہم آپ کی خدمت کریں گے۔ بعد میں انہیں دو تین ہزار روپے دے دیے جاتے ہیں، کسی عالمِ دین نے بتایا کہ اس طرح تلاوتِ قرآن پر اجرت لینا دینا حرام ہے، اور یہ مشورہ دیا کہ یوں کیا جائے کہ دو گھنٹے کا مطلق خدمت کے کام پراجارہ کر لیا جائے۔ جب حافظ صاحب نے یہ بات سامنے والوں کو سمجھائی تو انہوں نے کہا کہ ہم نہ قرآنِ مجید کی اجرت دیتے ہیں اور نہ ہی اس کی طاقت رکھتے ہیں، ہم تو محض آپ کی خدمت کرتے ہیں، اور ہم اسے اجرت سمجھ کر دیتے ہی نہیں۔ اس صورتِ حال کے بارے میں شرعی حکم واضح فرمائیں؟

جواب

تلاوتِ قرآن پر اجرت لینا ناجائز و حرام ہے، پوچھی گئی صورت میں بھی معاملہ واضح طور پر تلاوتِ قرآن کی اجرت پر مبنی ہے، کیونکہ یہاں خدمت کا وعدہ تلاوت کے عوض کیا جا رہا ہے، اور عملاً یہی عرف قائم ہے کہ قبر پر تلاوت کے بعد رقم دی جاتی ہے، ایسی صورت میں یہ کہنا کہ یہ اجرت نہیں بلکہ محض خدمت ہے، شرعاً مؤثر نہیں، کیونکہ نام بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ لہٰذا جن حضرات نے اس طریقۂ کار کو ناجائز قرار دیا ہے، اور حیلہ بتایا کہ ایک دو گھنٹے کا مطلق خدمت کے کام پر اجارہ کیا جائے، پھر اس وقت میں تلاوتِ قرآن وغیرہ کروائی جائے، ان کی بات درست ہے۔

نیز یہاں خدمت کے جائز ہونے کے لئے اتنا کہنا کافی نہیں ہوگا، ہم اس کو اجرت نہیں سمجھتے، بلکہ صراحتاً اجرت کی نفی کرنا ہوگی یعنی دونوں فریقین طے کرتے وقت اگر صراحتاً کہیں کہ نہ ہم اجرت دیں گے اور نہ آپ اجرت لیں گے، پھر اگر خدمت کردی تو اب جائز ہوگا کہ صراحت عرف سے بڑھ کر ہے۔

العقود الدریہ میں علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں

نصوص المذھب من متون و شروح و فتاوی متفقۃ علی بطلان الاستئجار علی الطاعات و منھا التلاوۃ کما سمعت الا مااستثناہ المتاخرون للضرورۃ کالتعلیم و الاذان و الامامۃ و لایصح الحاق التلاوۃ المجردۃ بالتعلیم لعدم الضرورۃ اذ لاضرورۃ داعیۃ الی الاستئجار علیھا بخلاف التعلیم لمافی الزیلعی و کثیر من الکتب لو لم یفتح لھم باب التعلیم بالاجر لذھب القرآن فافتوا بجوازہ و رأوہ حسنا۔ اھ و لا شک ان المنع من الاستئجار علی التلاوۃ لاھداء ثوابھا الی المستاجر لیس فیہ ذھاب القرآن فلا یصح قیاسھا علی التعلیم

ترجمہ: نصوصِ مذہب یعنی متون، شروح اور فتاویٰ اس بات پر متفق ہیں کہ عبادات جن میں تلاوتِ قرآن بھی شامل ہے جیسا کہ آپ سن چکے، ان پر اجارہ باطل ہے، سوائے ان صورتوں کے کہ جن کا متاخرین نے ضرورت کی بنا پر استثناء فرمایا ہے۔ جیسا کہ تعلیم، اذان اور امامت اور ضرورت متحقق نہ ہونے کی وجہ سے محض تلاوتِ قرآن کو تعلیمِ قرآن کے ساتھ ملحق کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ کوئی ایسی ضرورت کہ جو تلاوتِ قرآن پر اجارہ کی طرف داعی ہو موجود نہیں، برخلاف تعلیمِ قرآن کے، کیونکہ زیلعی اور کثیر کتب میں مذکور ہے کہ اگر اجرت کے ساتھ تعلیمِ قرآن کا دروازہ نہ کھولا جائے، تو قرآن پاک ضائع ہوجائے گا، تو اس پر فقہاء نے جواز کا فتوی دیا اور اسے پسند فرمایا، اور شک نہیں کہ مستاجر کو ثواب ہدیہ کرنے کے لیے تلاوتِ قرآن پر اجارہ سے منع کردیا جائے، تو اس میں ضیاعِ قرآن کا خطرہ نہیں ہے، لہٰذا اسے تعلیم پر قیاس کرنا درست نہیں۔ (العقود الدریہ، جلد 2، صفحہ 138، مطبوعہ: کوئٹہ)

اسی طرح کے سوال کا جواب دیتے ہوئے سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: جبکہ اُن میں معہود ومعروف یہی لینا دیناہے تویہ اُجرت پرپڑھنا پڑھوانا ہوا

فان المعروف عرفا کالمشروط لفظاً

(کیونکہ عُرف و رواج میں جو کچھ مشہور ہے وہ اس طرح ہے کہ جس طرح الفاظ سے شرط طے کی جائے۔ ت) اور تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی پر اُجرت لینا دینا دونوں حرام ہے، لینے والے دینے والے دونوں گنہگار ہوتے ہیں

کما حققہ فی ردالمحتار و شفاء العلیل و غیرھا

(جیسا کہ فتاوٰی شامی، شفاء العلیل او ردیگر کتب میں اس کی تحقق فرمائی گئی۔ ت) اور جب یہ فعل حرام کے مرتکب ہیں تو ثواب کس چیز کا اموات کو بھیجے گا، گناہ پر ثواب کی امید اور زیادہ سخت و اشد ہے

کما فی الھندیۃ و البزازیۃ و غیرھما و قد شدد العلماء فی ھذا ابلغ تشدید

(جیسا کہ فتاوٰی عالمگیری اور بزازیہ وغیرہ میں مذکور ہے، علماء کرام نے اس مسئلہ میں بہت شدّت برتی ہے۔ ت) ہاں اگر لوگ چاہیں کہ ایصال ثواب بھی ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو گھنٹے دو گھنٹے کے لئے نوکر رکھ لیں اور تنخواہ اتنی دیر کی ہر شخص کی معین کردیں مثلاً پڑھوانے والا کہے میں نے تجھے آج فلاں وقت سے فلاں وقت تک کے لئے اس قدر اجرت پر نوکر رکھا جو کام چاہوں گا لُوں گا وہ کہے میں قبول کیا، اب اتنی دیر کے واسطے اس کا اجیر ہوگیا جو کام چاہے لے سکتا ہے اس کے بعد اس سے کہے فلاں میّت کے لئے اتنا قرآن عظیم یا اس قدر کلمہ طیبہ یا درود شریف پڑھ دو، یہ صورت جواز کی ہے۔ اللہ تعالٰی مسلمانوں کو توفیق عطا فرمائے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 537، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

تلاوت قرآن پر صراحۃً، دلالۃً کسی طرح سے اجارہ نہ ہو، محض صدقہ و صلہ کے طور پر کچھ لیا، دیا جائے، تو یہ جائز ہے۔ چنانچہ فتاوی اجملیہ میں ہے تلاوتِ قرآن کریم پر اجرت لینا اور دینا بالکل ناجائز ہے۔ اسی طرح جس مقام کے عرف میں اس پر لیا دیا جاتا ہے، تو حسبِ دستور تلاوت پر لینا اور دینا بھی ناجائز ہے، ہاں جہاں نہ ایسا عرف و رواج ہو، نہ دینے والا اور نہ لینے والا بہ نیتِ اجرت لیتے، دیتے ہوں، تو وہاں صدقہ و صلہ ہے، اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں۔ (فتاوی اجملیہ، جلد 2، صفحہ 620، شبیر برادرز، لاہور)

صریح عرف پر فائق ہے، چنانچہ رد المحتار میں علامہ شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں

الصريح يفوق الدلالة أعني العرف

ترجمہ: صراحت، دلالت یعنی عُرف پر فوقیت رکھتی ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، جلد 4، صفحہ 281، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4770
تاریخ اجراء: 06 رمضان المبارک1447ھ /24 فروری2026ء