اجیر خاص کا اپنا کام دوسرے سے کروانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اجیر خاص کا کسی دوسرے شخص کو اپنے کام پر اجیر رکھنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ یونائیٹڈ اسٹیٹس (United States) میں وہاں کے شہریوں کے لیے جائز کاموں کی نوکری آفر ہوتی ہے۔ یہ نوکری انہیں گھر پر رہ کر ہی کرنی ہوتی ہے اور اس میں ان کے وقت کا اجارہ ہوتا ہے کہ روز اتنے سے اتنے بجے تک کام کرنا ہے۔ ماہانہ انہیں اس کی تنخواہ مل جاتی ہے۔
لیکن جن لوگوں کو جاب آفر ہوتی ہے وہ یہ کرتے ہیں کہ جو کام انہیں کمپنی یا کسی ادارے سے ملتا ہے، وہ کام خود نہ کر کےملک ہندوستان، پاکستان یا بنگلادیش کے کسی بندے کو کم پیسوں میں ہائر کر کے اس سے کروا لیتے ہیں۔
اب اس میں سوال یہ ہے کہ کیا ہم اجرت پر ان کا کام کر کے دے سکتے ہیں؟ جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ کمپنی نے وہ کام انہیں کرنے کے لیے دیا تھا اور وہ خود نہ کر کے ہم سے کروا رہے ہیں؟ نیز اس میں بظاہر یہی لگتا ہے کہ کمپنی کی طرف سے ان پر خود کام کرنے کی پابندی ہوتی ہے، اسی وجہ سے وہ جاب صرف وہیں کے شہریوں کے لیے آفر ہوتی ہے۔ اور اس میں ہم تک کام پہنچنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ اصل اجیر کام لینے اور واپس جمع کروانے کا ایکسیس ورکر کو دے دے گا، یوں ورکر خود کام وصول کرے گا اور خود واپس جمع کروا دے گا، لیکن ورکر کا معاہدہ اصل اجیر سے ہی ہوگا، اور اس کی اجرت بھی وہی اصل اجیر ہی دے گا۔
جواب
دریافت کی گئی صورت میں جس شخص کو کمپنی کی طرف سے جاب آفر ہوگی، وہ کمپنی کا اجیرِ خاص ہوگا کہ اس میں ایک مخصوص وقت کے لیے وہ کمپنی کا کام کرے گا، اور اجیرِ خاص کام مکمل کرنے کے لیے کسی اور کو اجیر نہیں رکھ سکتا، کیونکہ اس میں عقد اجیر کی منفعت پر ہی واقع ہوتا ہے اور منفعت اسی کے ساتھ متعین ہو جاتی ہے، پھر یہاں تو کمپنی کی طرف سے اسے پابندی بھی ہے کہ وہ خود کام کرے۔ لہٰذا اگر وہ خود کام نہ کر کے کسی اور سے کروائے، تو وہ اجرت کا بھی مستحق نہیں ہوگا، اس لئے کسی اور سے کام کروا کر اس کا کمپنی سے اجرت لینا بھی ناجائز ہوگا۔
نیز اس میں ایک طرح سے کمپنی کو دھوکا دینا بھی ہے کہ دھوکا اصل حالت کو چھپانے کا نام ہے اور اس میں وہ یہی کرے گا کہ آگے اس کو اپنا کام بتا کر کمپنی سے اجرت وصول کرے گا۔
تاہم آپ جو اجرت پر اس کا جائز کام کریں گے، اگر اس سے آپ کی گناہ پر مدد کرنے کی نیت نہ ہو، بلکہ محض اجرت حاصل کرنا مقصود ہو، تو آپ کا اجرت پر وہ کام کرنا، جائز ہوگا۔ کیونکہ آپ جو کام کریں گے، وہ اپنی ذات میں ایک جائز اور مباح عمل ہوگا، اور اس کے ذریعے آگے اس شخص کا ناجائز کام کرنا اس کا اپنا ذاتی فعل ہوگا، آپ کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ نیز کام کرنے کے بعد آپ اجرت کے بھی مستحق ہوں گے، کیونکہ آپ اس شخص کے اجیر ہوں گے اور فی نفسہ اس کا اجیر بننےمیں شرعا کوئی خرابی نہیں، لہذا اس کا کام مکمل کرنے کے بعد آپ اجرت کے مستحق ہو جائیں گے، اور اس پر آپ کی اجرت واجب ہو جائےگی۔
اسی طرح آپ کے ڈائریکٹ کمپنی سے کام لینے اور پھر اس کو جمع کروانے سے بھی حکم جواز میں تبدیلی نہیں آئے گی، کیونکہ اس میں آپ اس کے اجیر ہونے کے ساتھ ساتھ، اس کی طرف سے کمپنی سے کام لینے کے وکیل بھی ہوں گے، اور ایک شخص اجیر اور وکیل دونوں ہوسکتا ہے، شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی بہتر ہے کہ جب آپ کو معلوم ہے کہ وہ آگے اس کے ذریعے دھوکا دہی اور ناجائز کام کرے گا تو اس کا کام نہ کریں۔
اس کی نظائر یہ مسائل ہیں: اگر کوئی عورت اپنے محبوب کو بھیجنے کے لیے کسی سے اجرت پر خط لکھوائے، یا کوئی نوحہ یا گانے لکھوائے، یا گرجا کی عمارت بنوائے، تو اگر گناہ پر مدد کرنے کی نیت نہ ہو، تو لکھنا اور عمارت بنا کر دینا جائز ہے، اور ان کی اجرت بھی حلال ہے، کہ یہ تمام کام اپنی ذات میں جائز و مباح ہیں۔ اور گناہ کا فعل اگر ہے تو وہ گانا ہے یا گرجا میں غیر خدا کی عبادت کرنا ہے۔ لہذا جو یہ کام کرے گا وہی گناہ گار ہوگا۔
اجیرِ خاص کی تعریف کے بارے میں تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ’’الاجیر الخاص و یسمی ’’اجیر وحد‘‘ و ھو من یعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصیص ۔۔ کمن استؤجر شھرا للخدمۃ۔‘‘ ملتقطا ترجمہ: اجیر خاص کا دوسرا نام اجیرِ وحد بھی ہے اور اس سے مراد وہ شخص ہے، جو مقررہ وقت میں خاص طور پر کسی ایک کا کام کرے جیسے کسی کو ایک ماہ تک خدمت کے لئے اجرت کے بدلے میں اجیر رکھا جائے (تو وہ اجیر خاص ہے)۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 6، صفحہ 69، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)
اجیر خاص کام مکمل کرنے کے لئے کسی اور کو اجرت پر نہیں رکھ سکتا چنانچہ مبسوط للسرخسی میں ہے: ’’و ليس للأجير الخاص أن يستأجر غيره لإقامة العمل۔‘‘ یعنی: اجیر خاص کو اختیار نہیں کہ وہ کام مکمل کرنے کے لئے کسی اور کو اجرت پررکھے۔ (مبسوط للسرخسی، جلد 15، صفحہ 127، دار المعرفہ، بيروت، لبنان)
اجیر خاص ہونے کی صورت میں عقد اسی اجیر کے منافع پر واقع ہوتا ہے اور وہ اسی کے ساتھ متعین ہو جاتے ہیں چنانچہ مجمع الانہر میں اجیر خاص کے متعلق بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’أن العقد ورد على منافعه۔‘‘ یعنی (اجیر خاص) میں عقد اسی کے منافع پر واقع ہوا ہے۔ (مجمع الانہر، جلد 2، صفحہ 393، المطبعة العامرة، تركيا)
نیز تبیین الحقائق میں اجیر مشترک (جس کے خود کام کرنے کی شرط لگی ہو) کے حوالے سے بیان کیا اور اسی میں اجیر خاص کا ایک مسئلہ بیان کیا فرمایا: و لا يستعمل غيره إن شرط عمله بنفسه ۔۔ لأن المعقود عليه العمل من محل معين فلا يقوم غيره مقامه كما إذا كان المعقود عليه المنفعة بأن استأجر رجلا شهرا للخدمة لا يقوم غيره مقامه في الخدمة ولا يستحق به الأجر لأنه استيفاء للمنفعة بلا عقد لتعين المعقود عليه لذلك۔ یعنی اگر اجیر مشترک کےخود کام کرنے کی شرط لگی ہو تو وہ کسی اور کو وہ کام نہیں کرواسکتا، کیونکہ اب معقود علیہ ایک متعین محل کے ساتھ خاص ہو گیا، لہذا اب اس کے قائم مقام دوسرا نہیں ہو سکتا، جس طرح کہ اگر معقود علیہ منفعت ہو مثلا اگر کسی نے کسی شخص کو ایک ماہ تک خدمت کے لئے اجیر رکھا تو اب خدمت میں اس کے قائم مقام کوئی اور نہیں ہو سکتا، اگر اس نے کسی اور کو قائم کیا تو وہ اس کی اجرت کا مستحق بھی نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں ایسے شخص کے منافع کو پیش کرنا ہے جس کے لئے عقد ہی نہیں، کہ معقود علیہ (خدمت کی منفعت) تو اس پہلے شخص کے ساتھ خاص ہو گئی تھی۔ (تبیین الحقائق، جلد 5، صفحہ 112، المطبعة الكبرى الأميريہ، بولاق القاهرة)
دھوکے سے متعلق سنن ابن ماجہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حدیث پاک ہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ’’لیس منا من غش‘‘ ترجمہ: جو شخص دھوکہ دہی کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ (سنن ابن ماجہ، باب النھی عن الغش، جلد 2، صفحہ 749، دار احیاء الكتب العربيه)
علامہ عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لفظ "غش" کی وضاحت کرتے ہوئے فیض القدیر میں فرماتے ہیں: ’’الغش ستر حال الشیء‘‘ یعنی دھوکہ کا مطلب ہے کسی چیز کی اصلی حالت چھپانا۔ (فیض القدیر،جلد 6، صفحہ 185، مطبوعہ مصر)
دھوکہ دینا ناجائز وحرام چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے: غدر وبدعہدی مطلقًا سب سے حرام ہے، مسلم ہو یا کافر ذمی ہو یا حربی مستامن ہو یا غیر مستامن اصلی ہو یا مرتد۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 14، صفحہ 139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اس شخص کا کام کرکے دینا جائز ہے کیونکہ فی نفسہ وہ ایک جائز کام ہوگا، یہی وجہ ہے کہ اجرت پر گانے یا نوحہ لکھ کر دینا جائز ہے چنانچہ بدائع الصنائع اور العقود الدریۃ میں ہے (و الفظ للآخر): الاستئجار لكتابة الغناء و النوح فإنه جائز لأن الممنوع عنه نفس الغناء و النوح لا كتابتهما۔ یعنی: گانے یا نوحہ لکھنے پر اجارہ کرنا جائز ہے، کیونکہ فی نفسہ گانا اور نوحہ منع ہے، ناکہ ان کا لکھنا۔ (العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية، جلد 2، صفحہ 322، دار المعرفة)
اسی طرح فتاوی ہندیہ میں ہے: و إن استأجره ليكتب له غناء بالفارسية أو بالعربية فالمختار أنه يحل لأن المعصية في القراءة كذا في الوجيز للكردري۔ یعنی: اگر کسی نے کسی سے اجرت پر فارسی میں یا عربی میں گانے لکھوائے تو مختار قول پر لکھ کر دینا جائز ہے۔ کیونکہ گناہ گانوں کو پڑھنے میں ہے ناکہ لکھنے میں جیسے کہ امام کردری کی وجیز میں ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 4، صفحہ 450، المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)
مسلمان کا گرجا گھر بنا کر دینا جائز اور اس کی اجرت بھی حلال ہے چنانچہ ہندیہ، بحر الرائق اور محیط برہانی میں ہے (و الفظ للاخر): استأجر الذمي مسلما ليبني له بيعة أو كنيسة جاز و يطيب له الأجر.وكذلك لو أن امرأة استكتبته كتابا إلى حبها جاز و يطيب له الأجر لأنه بدل عمله۔ یعنی: اگر کسی ذمی نے کنیسہ یا گرجا گھر بنانے کے لئے کسی مسلمان کو اجرت پر لیا تو جائز ہے، اور اس کی اجرت بھی مسلمان کے لئے حلال ہے، اسی طرح اگر کسی عورت نے کسی شخص سے اپنے محبوب کو بھیجنے کے لئے خط لکھوا یاتو جائز ہے۔ اس کی اجرت بھی اس کے لئے حلال ہے۔ کیونکہ اجرت اس کے کام (لکھنے) کے بدلے میں ملی ہے (جو کہ فی نفسہ جائز ہے)۔ (محیط برہانی، جلد 7، صفحہ 482، دار الكتب العلمية، بيروت)
اس کے ذریعے آگے اس شخص کا ناجائز کام کرنا اس کا اپنا ذاتی فعل ہوگا، آپ پر اس کا کوئی گناہ نہیں ہوگا چنانچہ مجمع الانہر میں گھر اجارے پر دینے کے متعلق فرمایا: أن الإجارة واردة على منفعة البيت ولا معصية فيه و إنما معصيته بفعل المستأجر و هو فعل الفاعل المختار فقطع نسبته منه۔ یعنی: اجارہ گھر کی منفعت پر ہوا اور اس میں فی نفسہ کوئی گناہ نہیں ہے، گناہ اس فعل میں ہے جو اجارے پر لینے والا کرے گا۔ اور چونکہ یہ ایک با اختیار شخص کا اپنا فعل ہے، لہذا اجارے پر دینے والے سے اس کی نسبت ختم ہو جائے گی ۔ (مجمع الانهر، جلد 2، صفحہ 529، داراحیاء التراث العربي، بيروت)
ایک شخص اجیر بھی ہو سکتا ہے اور وکیل بھی مثلاً خریدار بائع سے کہے کہ میری طرف سے کسی کو اجرت پر رکھ کر مبیع فلاں کو پہنچادو، اور بائع ایسا ہی کرے تو یوں وہ قبضہ کرنے کا وکیل بھی ہوگا اور اسے اس کے مقام تک پہنچانے کا اجیر بھی جیسا کہ فتاوی تاتارخانیہ میں فتاوی عتابیہ کے حوالے سے منقول ہے: وفی الفتاوی العتابیۃ: اذا قال المشتری للبائع: ابعثہ الی ابنی، و استأجر البائع رجلا یحملہ الی ابنہ، فھذا لیس بقبض، و الأجر علی البائع، الا أن یقول: استأجر علی من یحملہ، فقبض الأجیر یکون قبض المشتری ان صدقہ أنہ استأجر و دفع الیہ۔ ترجمہ: فتاوی عتابیہ میں ہے: اگر مشتری نے بائع سے کہا کہ مبیع میرے بیٹے کو بھیج دو، بائع نے ایک اجیر رکھ کر وہ مبیع مشتری کے بیٹے کو بھیج دی، تو (اس اجیر کو مبیع حوالے کرنے سے) مشتری کا قبضہ نہیں ہوگا، اور اس اجیر کی اجرت بائع پر لازم ہوگی۔ ہاں! اگر مشتری بائع سے یہ کہتا ہے کہ میرے ذمے ایک اجیر رکھو جو اسے میرے بیٹے تک پہنچادے تو اس اجیر کا قبضہ مشتری کا قبضہ شمار ہوگا، اگر مشتری اس کی تصدیق کرتا ہے کہ بائع نے اجارے پر بندہ رکھا اور مبیع اس کے حوالے کردی تھی۔ (الفتاوی التاتارخانیہ، جلد 8، صفحہ 263، مطبوعہ زکریا بک ڈپو)
البتہ بہتر ہے کہ اس کا کام نہ کیا جائے، جیسا کہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ سے فوٹوگرافر کو دکان کرائے پردینے سے متعلق سوال ہواتو اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمۃ نےارشاد فرمایا: اس شخص کو دکان کرایہ پر دی جاسکتی ہے، مگر پھر بھی بہتر یہ ہے کہ ایسے کو کرائے پر دیں جو جائز پیشہ کرتا ہو۔ ملتقطا (فتاویٰ امجدیہ، جلد 3، صفحہ 272، مکتبہ رضویہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:مولانا محمد ساجد عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0488
تاریخ اجراء: 22 شوال المکرم 1447ھ / 11 اپریل 2026ء