رجسٹریشن فیس خود ادا کرنے کی شرط لگانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
گاڑی رجسٹریشن کروانے کی فیس بعد میں ادا کرنے کی شرط رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بائیک مارکیٹ میں کچھ دکاندار میرے جاننے والے ہیں۔ میں ان کے ساتھ اس طرح کام کرنا چاہ رہا ہوں کہ ان کی روزانہ جو بائیکیں سَیل ہوں گی، میں ان کی رجسٹریشن کروادیا کروں گا، اور دکانداروں کی طرف سے مجھ سے یہ طے ہے کہ پہلے آپ فائلیں لے جائیں اور رجسٹریشن بھی کروائیں، اس رجسٹریشن کی فیس آپ خود ہی ادا کریں، پھر جب کام ہوجائے گا تو ہم رجسٹریشن فیس اور آپ کی طے شدہ اجرت آپ کو دے دیں گے، لہٰذا پورا مہینا میں فائلیں جمع کرواتا رہوں گا اور فیس بھی خود بھرتا رہوں گا، مہینے کے آخر میں حساب کرکے ادارے کو دی گئی فیس کی مد میں رقم اور اپنی اجرت ان سے لے لوں گا، تو شرعا اس طرح کرنا میرے لیے جائز ہے یا نہیں؟
جواب
سوال میں بیان کردہ طریقے کے مطابق شرعاً آپ کا کام کرنا، جائز نہیں، لہٰذا اس طریقے کے مطابق آپ کام نہیں کر سکتے۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ یہاں دو باتیں ہیں۔
(1) رجسٹریشن کرواکر دینا اور اس پر اجرت لینا یہ تو فی نفسہٖ جائز ہے کہ یہ ایک منفعت مقصودہ ہے، اس کا عوض لینا جائز ہوتا ہے لہٰذا اس میں تو کسی طرح کا کلام نہیں ہے۔
(2) رجسٹریشن کی فیس ادا کرنا جوکہ دکاندار کے ذمے لازم ہے۔ رجسٹریشن کروانے میں یہ فیس ادا کرنا اگر اجیر (یعنی جو اجرت کے عوض رجسٹریشن کروا رہا ہے، اس) پر شرط ہو، تو یہ عقدِ اجارہ کے خلاف شرط ہے، کیونکہ اصل میں یہ فیس دُکاندار پر لازم تھی اور دُکاندار کی طرف سے آپ ادارے کو ادا کریں گے اور بعد میں دُکاندار سے وصول کریں گے تو یوں یہ دُکاندار پر قرض ہوجائے گی، جبکہ عقدِ اجارہ میں خلافِ عقد ایسی شرط لگانا کہ جس پر عرف و تعامل بھی نہ ہو، اس سے اجارہ فاسد یعنی ناجائز و گناہ ہوجاتا ہے، لہٰذا سوال میں بیان کی گئی صورت میں دُکانداروں کا آپ کے ساتھ یہ طے کرنا (شرط لگانا) کہ فیس آپ خود ادا کریں گے، یہ شرطِ فاسد ہے، جس وجہ سے آپ کا معاملہ ناجائز ہوجائے گا اور اس شرط کے ساتھ آپ کا کام کرنا ناجائز و گناہ ہوجائے گا، اس لیے آپ یہ کام نہیں کر سکتے۔
جو منفعت شریعت اور عقل و شعور رکھنے والے لوگوں کی نظر میں قابل اجارہ ہو، تو اس کے بدلے اجرت لینا جائز ہے، چنانچہ اجارے کی تعریف میں منفعت مقصودہ کے متعلق تنویر الابصار مع درمختار میں ہے: ”تمليك نفع مقصود من العين بعوض“ ترجمہ: ایسی منفعت جو عین شے سے مقصود ہو، اس کا عوض کے بدلے مالک بنادینا اجارہ کہلاتا ہے۔
اس کے تحت علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’(قوله تمليك) يشمل بيع العين و المنفعة۔۔۔ (قوله مقصود من العين) اى فى الشرع و نظر العقلاء، ملتقطاً“ ترجمہ: مالک بنانا، عین اور منفعت دونوں کی بیع کو شامل ہے۔ شریعت اور عقلاء کی نظر میں وہ منفعت، منفعتِ مقصودہ ہو۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الاجارۃ، جلد 6، صفحہ 4، دار الفکر، بیروت)
عقدِ اجارہ میں فیس ادا کرنے ( یعنی قرض) کی شرط لگانا، ناجائز ہے، کیونکہ قرض کی شرط، عقدِ اجارہ کے تقاضے کے خلاف ہے۔ چنانچہ تنویر الابصار متنِ درِ مختار میں ہے: ”تفسد الاجارۃ بالشروط المخالفۃ لمقتضی العقد، فکل ما افسد البیع یفسدھا“ ترجمہ: اجارہ ایسی شرطوں سے فاسد ہو جاتا ہے، جو مقتضیٔ عقد کے خلاف ہوں، لہٰذا ہر وہ شرط جس سے بیع فاسد ہوتی ہے، اس سے اجارہ فاسد ہو جاتا ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 9، صفحہ 77، مطبوعہ کوئٹہ)
جن شرائط سے بیع فاسد ہوتی ہے، ان سے اجارہ بھی فاسد ہوتا ہے۔ چنانچہ غرر الاحکام متنِ درر الحکام، کتاب الاجارہ میں ہے: ’’تفسد بالشرط المفسد للبيع‘‘ ترجمہ: بیع کو فاسد کرنے والی شرطوں سے اجارہ بھی فاسد ہو جاتا ہے۔ (درر الحكام شرح غرر الأحكام، ج 2، ص 230، مطبوعہ دار إحياء الكتب العربية، بیروت)
امامِ اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ منی آرڈر کے متعلق فرماتے ہیں: بلا شبہہ یہ عقد، عقدِ اجارہ اور فیس اجرتِ عمل (ہے) اور قرض تنہا پر نفعِ مستقرض (یعنی قرض لینے والے کے فائدے) اور سفاتج (یعنی ہُنڈوی) پر قیاس مختل، مگر جبکہ یہ قرض مفروض و داخلِ ضابطہ ہے، تو اجارہ ایسی شرط پر ہوا، جس میں احد العاقدَین (سودا کرنے والے دو افراد میں سے ایک) کا نفع ہے اور مقتضائے عقد نہیں، اِسی قدر منع وفسادِ عقد کے لئے بس ہے۔ (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 576، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
ہدایہ میں ہے: کل شرط لا یقتضیہ العقد و فیہ منفعۃ لاحد المتعاقدین او للمعقود علیہ و ھو من اھل الاستحقاق یُفسدہ ۔۔۔ الا ان یکون متعارفا، لان العرف قاضٍ علی القیاس، ملخصا‘‘ ترجمہ: عقد کو ایسی شرط فاسد کرتی ہے کہ جس کا عقد تقاضا نہ کرے اور اس میں سودا کرنے والے افراد میں سےکسی ایک کا یا جس کا سودا کیا گیا ہے، اسکا فائدے کے اہل افراد میں سے ہونے کی وجہ سے فائدہ ہو، سِوائے اِس کے کہ اگر اس شرط کا لوگوں میں عرف ہو (تو عقد فاسد نہیں ہوگا)، کیونکہ عرف قیاس کا خاتمہ کر دیتاہے۔ (الهداية، جلد 3، صفحہ 59، مطبوعہ ملتان)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بیع میں ایسی شرط ذکر کرنا کہ خود عقد اُس کا مقتضی ہے، مضر نہیں ۔۔۔ اور اگر وہ شرط مقتضائے عقد نہیں، مگر عقد کے مناسب ہو، اس شرط میں بھی حرج نہیں ۔۔۔ اور اگر وہ شرط نہ اس قسم کی ہو نہ اُس قسم کی مگر شرع نے اُس کوجائز رکھا ہے جیسے خیار شرط یا وہ شرط ایسی ہے جس پر مسلمانوں کا عام طور پرعمل درآمد ہے۔۔۔ ایسی شرط بھی جائز ہے۔ ملخصا (بھارِ شریعت، حصہ 11، ج 2، ص 701، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اجارہ بشرط القرض ناجائز ہے، لیکن جس اجارے، کرائے میں قرض کی شرط کا عرف ہو، وہ عرف کی وجہ سے جائز ہو گا۔ چنانچہ امامِ اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ منی آرڈر کے متعلق فرماتے ہیں: ’’بلا شبہہ یہ عقد ، عقدِ اجارہ اور فیس اجرتِ عمل (ہے)۔۔۔ مگر جبکہ یہ قرض مفروض و داخلِ ضابطہ ہے، تو اجارہ ایسی شرط پر ہوا، جس میں احد العاقدَین (سودا کرنے والے دو افراد میں سے ایک) کا نفع ہے اور مقتضائے عقد نہیں، اِسی قدر منع وفسادِ عقد کے لئے بس ہے، و لٰکِنی اقول و بحول اللہ تعالٰی اجول: ہُنوز بلوغِ شرط تا حدِ اِفساد میں اور شرط باقی ہے کہ عرفِ ناس اس شرط کے ساتھ جاری نہ ہو، ورنہ بحکمِ تعارف جائز رہے گی۔ ملخصا‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 19، ص 576، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Aqs-2810
تاریخ اجراء: 20 محرم الحرام 1447ھ / 16 جولائی 2025ء