کرائے کی دکان میں آگ لگ جائے تو مرمت کروانا کس کے ذمہ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کرائے کی دکان میں آگ لگ گئی تو مرمت کروانا کس پر لازم ہے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
زید نے کپڑے کا کاروبار کرنے کے لیے خالد سے ایک دکان کرائے پر لی، دو ماہ کے بعد شارٹ سرکٹ کی وجہ سے دکان میں آگ لگ گئی، جس سے زید کا کافی کپڑا جل گیا، اور دکان کی دیواروں اور چھت کو بھی نقصان پہنچا۔ اب خالد یہ کہتا ہے کہ دکان چونکہ زید کے پاس تھی، اس لیے دکان کی دیواروں اور چھت کی مرمت زید کروائے گا، جبکہ شاٹ سرکٹ ہونے میں زید کی کوئی کوتاہی و لاپرواہی نہیں ہے ۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ایسی صورت میں دکان کی مرمت کس کے ذمہ ہے؟
جواب
جب زید کا کوئی قصور نہیں تو اس پر مرمت کروانا ہرگز لازم نہیں اور نہ اس سے کسی قسم کا کوئی تاوان لیا جاسکتا ہے بلکہ اگر خالد آئندہ کے لئے زید کو کرایے پر دکان دینا چاہتا ہے تو مرمت کروانا اس کی ذمہ داری ہے کیونکہ کرایہ پر دی جانے والی چیز کو استعمال کے قابل بنانا مالک كے ذمہ ہوتا ہے، کیونکہ وہ چیز مالک کی ملکیت پر باقی رہتی ہے، جبکہ کرایہ دار کے پاس وہ فقط امانت ہوتی ہے، اس لیے ملکیت سے متعلقہ ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوگی، کرایہ دار پر مرمت وغیرہ کی شرط لگانا، شرطِ فاسد ہے۔ نیز کرایہ پر دینے کے بعد اس چیز میں کوئی نقصان ہو جائے اور اس میں کرایہ دار کی طر ف سے کوئی تعدی و کوتا ہی نہ پائی جائے، تو اس پر تاوان لازم نہیں ، ہاں اگر اس کا قصورو زیادتی ہو، تو کرایہ دار پر تاوان لازم ہو گا۔ لہذا اس تفصیل کے مطابق پوچھی گئی صورت میں چونکہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی جس میں کرایہ دار کا کوئی قصور نہیں، اس لیے دکان کی مرمت کا خرچہ مالک (خالد) ہی برداشت کرے گا۔
کرایہ پر دی جانے والی چیز کو قابلِ انتفاع بنانا مالک کی ذمہ داری ہے، لہٰذا کرایہ دار پر دكان كی مرمت کو لازم نہیں کیا جا سکتا، چنانچہ بدائع الصنائع میں ہے:
”ولو استأجر دارابأجرة معلومة وشرط الآجر تطيين الدار ومرمتها۔۔۔على المستأجر فالاجارة فاسدة، وكذا إذا آجر أرضاً وشرط كري نهرها۔۔۔لأن ذلك كله على المؤاجر، فإذا شرط على المستأجر فقد جعله أجرةً وهو مجهول فصارت الأجرة مجهولة“
ترجمہ: اور اگر کسی نے معلوم اجرت پر گھر کرایہ پر لیا اور کرایہ پر دینے والے نے یہ شرط لگا دی کہ گھر کی لپائی اور (توڑ پھوڑ کی) مرمت کرایہ پر لینے والے کے ذمہ پر لازم ہو گی، تو ایسا اجارہ فاسد ہے، اسی طرح جب کسی نے زمین کرایہ پر دی اور یہ شرط لگا دی کہ اس کے لیے نہر کرایہ پر لینے والا نکالے گا، (تو یہ اجارہ بھی فاسد ہو گا )، کیونکہ یہ سب کام موجر (کرایہ پر دینے والے) پر لازم ہیں، تو جب وہ کرایہ پر لینے والے کے ذمہ لازم کرے گا، تو گویا وہ اس کو بھی اجرت میں شامل کرنے والا کہلائے گا، حالانکہ وہ مجہول ہے، لہٰذا ساری اجرت ہی مجہول قرار پائے گی ۔ (بدا ئع الصنائع، کتاب الاجارۃ ، جلد4، صفحہ 194، مطبوعہ دار الكتب العلميه )
مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:
”اعمال الأشياء التي تخل بالمنفعة المقصودة عائدة على الآجر ، مثلا۔۔۔ تعمير الدار وطرق الماء وإصلاح منافذه وإنشاء الأشياء التي تخل بالسكنى وسائر الأمور التي تتعلق بالبناء كلها لازمة على صاحب الدار “
ترجمہ: ایسی چیزیں جو منفعتِ مقصودہ میں مخل بنیں، اُن کی درستی کی ذمہ داری مالک پر عائد ہوتی ہے، مثلاً گھر کی مرمت ، پانی کا راستہ، گزرگاہ و راستے کی درستی اور ان چیزوں کو ٹھیک کروانا جو رہائش اختیار کرنے میں مخل ہیں اور تمام وہ کام جو گھر کی عمارت کے متعلق ہیں، ان کا کروانا، مالک ِمکان پر لازم ہے۔ (مجلة الاحكام العدلية، الكتاب الثاني في الاجارات، الباب السادس ، صفحہ 99، مطبوعہ كراچی )
کرائے پر لی گئی چیز کرایہ دار کے پاس امانت ہوتی ہے جیساکہ علامہ زَبِیدی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 800ھ/1397ء) لکھتےہیں:
’’العين المستأجرة أمانة في يد المستأجر سواء كانت العين المستأجرة في الإجارة الصحيحة، أو الفاسدة فإنها أمانة“
ترجمہ: کرائے پر لی گئی چیز کرایہ دار کے پاس امانت ہوتی ہے، خواہ وہ کرایہ داری کا معاملہ اجارہ صحیح ہو یا فاسد ، بہر صورت وہ چیز امانت ہی رہے گی۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 1، صفحہ321، مطبوعہ ملتان )
بدائع الصنائع میں ہے:
’’أن المستأجر أمانة في يد المستأجر كالدار، والدابة، وعبد الخدمة، ونحو ذلك“
ترجمہ: کرائے پر لی گئی چیز کرایہ دار کے ہاتھ میں امانت ہوتی ہے، جیسے مکان، سواری کا جانور، خدمت کا غلام وغیرہ۔ (بدائع الصنائع، جلد 4، صفحہ 210، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)
اور اگر نقصان کرایہ دار کی زیادتی و کوتاہی سے نہ ہو، تو تاوان لازم نہیں ہو گا، جیساکہ درمختار مع رد المحتار میں ہے:
”(ولا يجمع بينهما) أي ۔۔۔ضمان وأجر، كما لو استأجر دابة ليركبها ففعل وجب الأجر ولا ضمان وإن عطبت“
ترجمہ : اور اجارہ میں اجرت اور ضمان کو جمع نہیں کیا جائے گا، جیسا کہ اگر کسی نے سواری کے لیے جانور کرایہ پر لیا اور طے شدہ عمل کیا، تو اجرت واجب ہو جائے گی، لیکن اگر جانور (بغیر تعدی کے خود ) ہلاک ہو جائے، تو ضمان لازم نہیں ہو گا۔ (ردالمحتار مع الدرالمختار، جلد 1، صفحہ 484، مطبوعہ کوئٹہ)
مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے:
”لا يلزم الضمان إذا تلف المأجور في يد المستأجر ما لم يكن بتقصيره أو تعديه أو مخالفته لمأذونيته،۔۔۔ يلزم الضمان على المستأجر لو تلف المأجور أو طرأ على قيمته نقصان بتعديه“
ترجمہ: جب کرائے پر دی گئی چیز کرایہ دار کے پاس ہلاک ہو جائے تو تاوان لازم نہیں ہوگا، جب تک کہ اس (نقصان) میں کرایہ دار کی کوتاہی یا زیادتی یا دی گئی اجازت کی خلاف ورزی شامل نہ ہو۔ البتہ اگر کرایہ دار کی زیادتی کی وجہ سے کرائے کی چیز ضائع ہو جائے یا اس کی قیمت میں کوئی کمی واقع ہو جائے، تو اس پر تاوان دینا لازم ہوگا۔ (مجلة الاحكام، الباب الثامن، الفصل الثاني: في ضمان المستأجر، صفحہ 112، مطبوعہ كراچی )
تاوان لازم نہ ہونے کی علت کے متعلق تبیین الحقائق کی عبارت ’’العين أمانة في يد المستأجر“ کے تحت حاشیہ شلبی میں ہے:
’’لأنه قبضها بإذن المالك ولم يوجد منه الخلاف بعد ذلك فلا يضمن“
ترجمہ: کیونکہ کرایہ دار نے وہ چیز مالک کی اجازت سے حاصل کی تھی اور اس کے بعد کرایہ دار کی طرف سے کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی، لہٰذا وہ تاوان نہیں دے گا۔ (حاشیہ الشلبی علی تبیین الحقائق، جلد5، صفحہ 133، مطبوعہ دار الكتاب الإسلامي)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”کرایہ دار سے اگر مکان جل جائے تو تاوان نہیں کہ اُس نے قصداً ایسا نہیں کیا ہے۔“ (بھار شریعت، حصہ 14، صفحہ 117، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD -9817
تاریخ اجراء: 08 رمضان المبارک 1447ھ /26 فروری 2026