logo logo
AI Search

کرایہ دار سامان بھول جائے تو مالک مکان استعمال کر سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کرایہ دار اپنا سامان بھول جائے، تو مالکِ مکان کا اسے استعمال کر نا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہمارے گھر میں کرائے پر 3 دن رہنے کے لئے 3 افراد آئے تھے، جب وہ گئے تو اپنا ear buds بھول گئے، ہمارے پاس کوئی ایسا ذریعہ بھی نہیں ہے کہ ان سے رابطہ ہو سکے تو کیا وہ ear buds ہم استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب

بیان کی گئی صورت میں ان ear buds کو استعمال کرنا فی الحال آپ کے لیے جائز نہیں؛ کیونکہ وہ لقطہ  ہیں، اور لقطے کے متعلق حکم ہے کہ: اس کی تشہیر و اعلان کیاجائے، اگر مالک آجائے، تو اسے دے دیں، اور اگر تشہیر و اعلان کے بعد بھی مالک نہ آیا، اور اتنا وقت گزر گیا کہ غالب گمان ہوگیا کہ وہ اب اس کی تلاش نہیں کرے گا، تو اس صورت میں آپ کو اختیار ہو گا، کہ چاہیں تو ان کی حفاظت کریں، اور اگر چاہیں تو کسی شرعی فقیر کو دے دیں، یا چاہیں تو کسی نیک کام مثلا مسجد یا مدرسے وغیرہ میں دے دیں، اور اگر آپ خود شرعی فقیر ہوں، تو خود بھی رکھ سکتے ہیں، لیکن بعد میں کبھی اس کا اصل مالک آ گیا، اور وہ صدقے پر راضی نہ ہوا، اس نے اپنے ear buds کا مطالبہ کیا، تو اگر  وہ ear buds موجود ہوئے، تو وہ، و گرنہ ان کی قیمت اسے ادا کرنی پڑے گی۔

مالِ لقطہ کے حکم کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے

’’یعرف الملتقط اللقطۃ فی الأسواق والشوارع مدۃ یغلب علی ظنہ أن صاحبھا لا یطلبھا بعد ذلک۔۔۔ثم بعد تعریف المدۃ المذکورۃ الملتقط مخیر بین أن یحفظھا حسبۃ وبین أن یتصدق بھافإن جاء صاحبھا فأمضی الصدقۃ یکون لہ ثوابھا وإن لم یمضھا ضمن الملتقط أو المسکین إن شاء لو ھلکت فی یدہ فإن ضمن الملتقط لا یرجع علی الفقیر وإن ضمن الفقیر لا یرجع علی الملتقط وإن کانت اللقطۃ فی ید الملتقط أو المسکین قائمۃ أخذھا منہ ‘‘

ترجمہ: لقطہ اٹھانے والا بازاروں اور راستوں میں لقطہ کا اتنی مدت تک اعلان کرے کہ غالب گمان ہو جائے کہ اب مالک اس چیز کو تلاش نہیں کرے گا، پھر اتنی مدت تشہیر کرنے کے بعداٹھانے والے کواختیار ہے کہ ثواب کی نیت سے لقطہ کی حفاظت کرے یا اسے صدقہ کردے، پھر اگر مالک آگیا اور اس نے صدقہ کو جائز کر دیا، تو اسے ثواب ملے گا اور اگر مالک صدقہ کرنا جائز قرار نہ دے اور وہ چیز بھی ہلاک ہو چکی ہو، تو اسے یہ اختیار ہے کہ ملتقط(چیز اٹھانے والے) سے تاوان لے یا مسکین سے، اگر ملتقط سے تاوان لیا، تو ملتقط مسکین سے رجوع نہیں کر سکتا اور اگر مسکین سے لیا، تو مسکین ملتقط سے رجوع نہیں کر سکتا اور اگر وہ گمی ہوئی چیز ملتقط یا مسکین کے پاس موجود ہے، تووہ اپنی چیز اس سے لے لے گا۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب اللقطۃ، ج 2، ص 289، 290، مطبوعہ کوئٹہ)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن اپنے ایک فتوے میں چندہ دہندگان کے نہ ملنے کی صورت میں حکم ارشاد فر ماتے ہیں: ’’ہاں جو اُن میں نہ رہا اور اُن کے وارث بھی نہ رہے یا پتانہیں چلتا یا معلوم نہیں ہوسکتا کہ کس کس سے لیاتھا، کیا کیا تھا، وہ مثل مالِ لقطہ ہے، مصارفِ خیر مثل مسجد اور مدرسہ اہل سنت ومطبع اہل سنت وغیرہ میں صَرف ہو سکتا ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 563، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں ہے” اُٹھانے والااگر فقیر ہے تو مدت مذکورہ تک اعلان کے بعد خود اپنے صرف ميں بھی لا سکتا ہے۔‘‘ (بہارِ شریعت، ج 2، حصہ 10، ص 476، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4897
تاریخ اجراء:15 شوال المکرم 1447ھ/04 اپریل 2026 ء