خود کو غیر ملکی ظاہر کر کے فری لانسنگ کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آئیڈینٹی بدل کر کلائنٹ سے کام حاصل کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہم ایک کمپنی کے ساتھ کام کر رہے ہیں، جو کہ یو ایس بیسڈ ہے، لیکن وہ کام پاکستان سے کرتے ہیں، جب کلائنٹ ہنٹنگ کرتے ہیں، یعنی کلائنٹ سے بات کرتے ہیں، تو انہی کے ایکسنٹ میں کرتے ہیں، اور وہاں یہ شو کرواتے ہیں، کہ ہم یو ایس سے ہیں، جبکہ یہ جھوٹ ہے، مسئلہ یہ ہے، کہ اگر پاکستانی شو کیا جائے، تو کلائنٹ ٹرسٹ نہیں کرتا، اور کام نہیں دیتا، اور جو چیزیں وہ سکھا رہے ہیں، وہ پاکستان میں نہیں چلتیں، ان ویب سائٹس، یا ایپلیکیشنز کو، استعمال کرنے کے لیے، وی پی این ایپ کے ذریعے لوکیشن بدل کر کام کرنا پڑتا ہے، کیا اس طرح کام کرنا جہاں اپنی آئیڈینٹی بدلنی پڑے، شرعی طور پر جائز ہے؟ جبکہ نیت دھوکہ دینے کی نہیں ہے، بلکہ اس کے بغیر کام نہیں ملتا۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں، مذکورہ بالا کمپنی میں، اوپر مذکور طریقہ کار کے مطابق، کام کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، اس لیے کہ اس میں جھوٹ، اور دھوکہ پایا جارہا ہے، اور یہ دونوں باتیں شرعاً حرا م ہیں، اس کے بغیر کام نہ ملنا، جھوٹ اور دھوکے کو جائز نہیں کر دے گا، سینکڑوں جائز طریقوں سے رزق کمایا جا سکتا ہے، صرف اسی ایک طریقے میں رزق منحصر نہیں ہے۔
دھوکے کے متعلق صحیح مسلم میں ہے "عن أبي هريرة أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: ما هذا يا صاحب الطعام؟ قال أصابته السماء يا رسول اللہ، قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني" ترجمہ: روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم غلے کے ایک ڈھیر پر سے گزرے، تو اپنا ہاتھ شریف اس میں ڈال دیا، آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی انگلیوں نے اس میں تری پائی، تو فرمایا: اے غلے والے! یہ کیا ہے؟ عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم! اس پر بارش ہوئی ہے۔ فرمایا: تو گیلے حصے کو تو نے اوپر کیوں نہیں کر دیا، تاکہ اسے لوگ دیکھ لیتے۔ جس نے دھوکہ دیا، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ (صحیح مسلم، ج 1، ص 99، حدیث 102، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
مذکورہ حدیث پاک کے تحت علامہ حسين بن محمود بن حسن شیرازي حنفی علیہ الرحمۃ (متوفى 727ھ) المفاتیح فی شرح المصابیح میں فرماتے ہیں: "(الغش): ستر حال شيء على أحد؛ يعني: إظهار شيء على خلاف ما يكون ذلك الشيء في الباطن، كهذا الرجل؛ فإنه جعل الحنطة المبلولة في الباطن و اليابسة على وجه الصبرة، ليرى المشتري ظاهر الصبرة و يظن أن جميع الصبرة يابس، فهذا الفعل هو الغش و الخيانة، وهو محرم؛ لأنه إضرار بالناس" ترجمہ: غش کا معنی ہے: شے کی حالت کسی سے پوشیدہ ر کھنا، یعنی کسی شے کو اس کے خلاف ظاہر کرنا، جو اس شے کی حقیقت ہے، جیسا کہ یہ شخص، کہ اس نے تر گندم کو نیچے، اور خشک گندم کو ڈھیر کے اوپر رکھا، تاکہ خریدنے والا ڈھیر کا اوپر والا حصہ دیکھے، اور یہ گمان کرے، کہ پوری گندم خشک ہے، تو یہ فعل دھوکہ، اور خیانت ہے، اور یہ حرام ہے، کیونکہ اس میں لوگوں کو نقصان پہچانا ہے۔ (المفاتیح فی شرح المصابیح، جلد 3، صفحہ 438، دار النوادر، کویت)
دھوکے کے متعلق مبسوط سرخسی میں ہے "الغدر حرام" ترجمہ: دھوکہ دینا حرام ہے۔ (مبسوط سرخسی، ج 10، ص 96، دار المعرفۃ، بيروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "غَدَر و بد عہدی مطلقاً سب سے حرام ہے، مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد۔" (فتاوی رضویہ، ج 14، ص 139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
جھوٹ کی وعید کے متعلق حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "إن الصدق بر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وإن العبد ليتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا، وإن الكذب فجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وإن العبد ليتحرى الكذب حتى يكتب كذابا" ترجمہ: بیشک سچ نیکی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور بندہ مسلسل سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں صدیق (بہت بڑا سچا) لکھ دیا جاتا ہے اور بلاشبہ جھوٹ گناہ ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور بندہ مسلسل جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں کذاب (بہت بڑا جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم، جلد 8، صفحہ 29، رقم الحدیث 2607، دار الطباعۃ العامرۃ، ترکی)
مبسوط سرخسی میں ہے "إن الكذب حرام" ترجمہ: بیشک جھوٹ حرام ہے۔ (مبسوط سرخسی، جلد 30، صفحہ 15، دار المعرفۃ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4991
تاریخ اجراء: 21 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 09 مئی 2026ء