زمین ٹھیکے پر دے کر گندم لینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ٹھیکے پر زراعت و مزارعت کی ایک جائز صورت
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے ایک ایکڑ زمین 6 مہینے کی مدت پر کسی کو گندم کاشت کرنے کے لیے دی، اور کہا کہ گندم کاشت کرنے کے بعد مجھے 25 من گندم یا اس وقت اتنی گندم کی جو قیمت ہوگی وہ رقم دے دینا۔ اس میں اسی زمین ہی کی گندم ہونا ضروری نہیں قرار دیا۔ تو اس مسئلے کی وضاحت فرما دیں جائز و ناجائز تمام صورتوں کی، عین نوازش ہوگی۔سائل: محمد بابر (لاہور)
جواب
اس شخص کا سوال میں بیان کیے گئے طریقے کے مطابق معاملہ کرنا شرعا جائز و درست ہے۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ زراعت کے لیے زمین اجرت (ٹھیکے) پر دینا جائز ہے، جبکہ کاشت کی جانے والی فصل بیان کردی جائے، یا مالکِ زمین کاشت کار کو یہ کہ دے کہ جو چاہو کاشت کرلو۔ ہاں، اجرت مقرر کرنے میں شرعا یہ شرط ہے کہ وہ یا تو غلے کے سوا رقم وغیرہ کسی مقرر مال سے ہو، یا اگر غلے سے ہو تو اسی زمین کی فصل سے ہونا صراحتاً یا دلالتاً طے نہ ہو، بلکہ اسی زمین کی قید کے بغیر مطلقا مخصوص اوصاف (جیسے مونجی سپر کرنل عمدہ و خشک وغیرہ) کے بیان کے ساتھ غلے کی متعین مقدار طے کر کے ہو۔ اگرچہ بعد میں اسی زمین کی فصل سے ہی لین دین ہو جائے۔
صحیح البخاری میں حدیث مبارک ہے: ’’عن رافع بن خدیج حدثنی عمای انھم کانوا یکرون الارض علی عھد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم بما ینبت علی الاربعاء او شيء یستثنیہ صاحب الارض فنھي النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم عن ذلک فقلت لرافع فکیف ھی بالدینار و الدرھم؟ فقال رافع: لیس بھاباس بالدینار والدرھم․‘‘ ترجمہ: حضرت سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میرے دو چچاؤں نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد میں زمین اس غلے کے عوض کرائے پر دیتے تھے جو نہروں کے کناروں والی زمین پر پیدا ہوتا تھا، یا زمین کا مالک اس پیدوار میں سے کچھ (مثلاً تہائی یا چوتھائی) کا استثنا کرلیتا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمادیا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے پوچھا: زمین درہم و دینار (یعنی رقم) کے عوض کرائے پر دینا کیسا ہے؟ تو انھوں نے کہا کہ ان کے بدلے اس میں حرج نہیں۔ (صحیح بخاری، جلد 3، صفحہ 108، الحدیث 2346، دار طوق النجاۃ، مصر)
علامہ نووی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ’’و قال الشافعی و ابو حنیفۃ و کثیرون تجوز اجارتھا بالذھب و الفضۃ و بالطعام و الثیاب و سائر الاشیاء، سواء کان من جنس ما یزرع فیھا أم من غیرہ․‘‘ ترجمہ: امام شافعی و امام ابوحنیفہ اور جمہور فقہائے کرام کے نزدیک زمین کا اجارہ سونے چاندی، غلے، کپڑوں اور دوسری تمام چیزوں کے عوض جائز ہے؛ خواہ وہ معاوضہ اسی جنس سے ہو جو اس زمین میں کاشت کی گئی، یا اس کے علاوہ کسی اور جنس سے ہو۔ (شرح صحیح مسلم للنووی، جلد 10، صفحہ 191، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
الحجۃ علی اھل المدینہ میں ہے: ”و قال محمد ما بأس بذلك أَن يسْتَأْجر الرجل الارض الْبَيْضَاء بشيء معلوم و ان كان ممَّا تخرجه الأرْض اذا لم يشترط مِمَّا تخرجه الأرض․“ ترجمہ: امام محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کوری زمین کسی معین شے کے بدلے اجرت پر لینے میں کوئی حرج نہیں، اگرچہ وہ اجرت اسی زمین سے نکلنے والی شے سے ادا کی جائے، بشرطیکہ اس زمین کی کاشت میں سے ہونے کی شرط نہ ہو۔ (الحجۃ علی اھل المدینۃ، جلد 4، صفحہ 185، عالم الکتب، بیروت)
رقم کی طرح غلہ بھی بطور اجرت مقرر کرسکتے ہیں، جبکہ اسی کھیت کی کاشت سے ہونے کی شرط نہ لگائی گئی ہو۔ چنانچہ العقود الدریہ میں ہے: ’’سئل قاریٔ الھدایۃ ھل یجوز استئجار أرض للزراعۃ بکذا إردب غلۃ أم لا؟ فأجاب: نعم! یجوز إذا کانت الأجرۃ مشارا إلیھا أو موصوفۃ فی ذمتہ و لا تکون من الغلۃ التی تخرج من زرع الأرض المستأجرۃ․‘‘ ترجمہ : قاریٔ الہدایہ سے سوال کیا گیا کہ کاشت کرنے کیلئے زمین غلے کے ایک اِرْدَب (یعنی 24 صاع کے ایک بڑے پیمانے) کے عوض اجارہ پر لینا جائز ہے یا نہیں؟ تو ارشاد فرمایا: جائز ہے؛ جبکہ کسی موجود غلے کی طرف اشارہ کر کے، یا غلے کے اوصاف بیان کر کے ہو، مگر وہ غلہ اسی ٹھیکے پر لی زمین کی کاشت سے ہونے کی شرط پر نہ ہو۔ (العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ، کتاب الاجارہ، جلد 2، صفحہ 110، دار المعرفہ بیروت)
کنز العمال میں ہے: ”نهى عن عسب الفحل و قفيز الطحان․“ ترجمہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے نَر جانور کی جفتی کی اجرت اور قفیز طحان سے منع فرمایا ہے۔ (کنز العمال، جلد 4، صفحہ 84، مؤسسة الرسالة)
قفیز طحان کی تعریف کرتے ہوئے محیط برہانی میں ہے: ”جعل الأجر بعض ما يحدث من عملہ․“ ترجمہ: اجیر یا مزدور کے کام سے نکلنے والی چیز میں سے بعض حصہ اجرت مقرر کرنا۔ (المحیط البرھانی، کتاب الاجارات، جلد 7، صفحہ 473، دار الكتب العلمية بيروت)
اگر زمین کاشتکاری کے لیے ٹھیکے پر دینے کی صورت میں اجرت اسی فصل سے مقرر کی جائے تو یہ قفیز طحان کی صورت اور ناجائز ہے۔ اس کے کئی نظائر کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ جیسا کہ مبسوط سرخسی میں ہے: ”أنه استأجره ليجعل أرضه بستانا بآلات نفسه، على أن يكون أجره نصف البستان الذي يظهر بعمله و آلاته، و ذلك في معنى قفيز الطحان فيكون فاسدا․“ ترجمہ: کسی نے دوسرے کو اس کام پر اجیر مقرر کیا کہ وہ اپنے اوزاروں سے زمین میں باغ اگائے، اس شرط پر کہ اس کے کام اور اوزاروں سے جتنا بھی باغ ظاہر ہوگا اس میں سے آدھا حصہ اگانے والے کو بطور اجرت ملے گا۔ تو یہ قفیز طحان کے معنی میں ہوگا اور عقد فاسد قرار پائے گا۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب المزارعۃ، جلد 23، صفحہ 105، دار المعرفة، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: زمین کو زراعت کے لئے اُجرت پر دینا جائز ہے؛ جب کہ یہ بیان ہو جائے کہ اُس میں کیا چیز بوئی جائے گی، یا مزارع سے کہہ دے کہ جو تو چاہے بولیا کر۔ اگر ان چیزوں کا بیان نہیں ہوگا تو منازعت ہوگی؛ کیوں کہ زمین کبھی زراعت کے لئے اجارہ پر دی جاتی ہے کبھی دوسرے کام کے لئے، اور زراعت سب چیزوں کی ایک قسم نہیں کہ بیان کرنے کی حاجت نہ ہو۔ بعض چیزوں کی زراعت زمین کے لئے مفید ہوتی ہے اور بعض کی مضر ہوتی ہے۔ اگر ان چیزوں کو بیان نہیں کیا گیا تو اجارہ فاسد ہے۔ مگر جب کہ اُس نے زراعت بودی تو اب صحیح ہوگیا کہ کام کرلینے سے وہ جہالت جو پیدا ہوگئی تھی جاتی رہی، اور مستاجر پر اُجرت واجب ہوگئی۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 14، صفحہ 124، مکتبۃ المدینہ)
اسی میں ہے: اجارہ پر کام کرایا گیا اور یہ قرار پایا کہ اُسی میں سے اتنا تم اُجرت میں لے لینا یہ اجارہ فاسد ہے۔ مثلاً کپڑا بُننے کے ليے سوت دیا اور یہ کہہ دیا کہ آدھا کپڑا اُجرت میں لے لینا، یا غلہ اُٹھا کر لاؤ اُس میں سے دو سیر مزدوری لے لینا، یا چکی چلانے کے ليے بیل ليے اور جو آٹا پیسا جائے گا اُس میں سے اتنا اُجرت میں دیا جائے گا، یوہيں بھاڑ میں چنے وغیرہ بھنواتے ہیں اور یہ ٹھہرا کہ اُن میں سے اتنے بھنائی میں ديے جائیں گے؛ یہ سب صورتیں ناجائز ہیں۔ ان سب میں جائز ہونے کی صورت یہ ہے کہ جو کچھ اُجرت میں دینا ہے اُس کو پہلے سے علیحدہ کردے کہ یہ تمھاری اُجرت ہے۔ مثلاً سوت کو دو حصہ کر کے ایک حصہ کی نسبت کہا کہ اس کا کپڑا بُن دو اور دوسرا دیا کہ یہ تمھاری مزدوری ہے، یا غلہ اُٹھانے والے کو اُسی غلہ میں سے نکال کر دے دیا کہ یہ مزدوری ہے اور یہ غلہ فلاں جگہ پہنچادے۔ بھاڑ والے پہلے ہی اپنی بھنائی نکال کر باقی کو بھونتے ہیں۔ اسی طرح سب صورتوں میں کیا جاسکتا ہے۔ دوسری صورت جواز کی یہ ہے کہ مثلاً کہہ دے کہ دو سیر غلہ مزدوری دیں گے، یہ نہ کہے کہ اس میں سے دیں گے۔ پھر اگر اُسی میں سے دے دے جب بھی حرج نہیں۔ (بھارشریعت، جلد3، حصہ14، صفحہ149، مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-2570
تاریخ اجراء: 07 جمادی الآخرہ 1447ھ / 29 نومبر 2025ء