logo logo
AI Search

فرضی میڈیکل بل پر پیسے لینا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جھوٹی پرچی پر میڈیکل کی سہولت لینا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہوٹل کی نوکری میں سال کا میڈیکل بھی ملتا ہے، اگر کوئی بیمار ہو، تو میڈیکل کے بل جمع کروا کے، پیسے مل سکتے ہیں، لیکن اگر کوئی بیمار نہ ہوا ہو، یا بیمار ہوا پیسے بھی لگے، لیکن جمع کروانے کے لیے، بلز پاس نہیں ہیں، ایسے میں کسی ڈاکٹر کو کچھ پیسے دے کر، فرضی بل بنوایا، اور میڈیکل کے پیسے لیے، تو کیا وہ پیسے جائز ہوئے یا نہیں؟ اور ڈاکٹر کو جو رقم دے کر بل بنوایا، وہ رشوت میں آئے گی یا نہیں؟

جواب

فرضی بل بنوا کر میڈیکل کے پیسے لینا جھوٹ اور دھوکا ہے، جو کہ ناجائز وحرام اور گناہ ہے، اور اس کام کے لیے ڈاکٹر کو جو پیسے دئیے، وہ واضح طور پر رشوت کے زمرے میں داخل ہیں، اور رشوت دینا، اورلینا،دونوں سخت ناجائز و حرام کام ہیں۔

قر آن مجید میں جھوٹ بولنے والوں کے متعلق اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ

ترجمہ کنز العرفان: اور ان کےلئے ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے دردناک عذاب ہے۔ (القرآن، پارہ 01، سورۃ البقرہ، آیت: 10)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے اس آیت سے معلوم ہوا کہ جھوٹ بولنا حرام ہے اور اس پر درد ناک عذاب کی وعید ہے لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس سے بچنے کی خوب کوشش کرے۔ (صراط الجنان، جلد1، صفحہ 75، مکتبۃ المدینہ ، کراچی)

نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

من غش فلیس منا

ترجمہ: جو دھوکہ دہی کرے ، وہ ہم میں سے نہیں۔ (سنن الترمذی، صفحہ 513، حدیث:1315، دار ابن کثیر)

علامہ عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فیض القدیر میں فرماتے ہیں:

الغش ستر حال الشیء

ترجمہ: دھوکے کا مطلب ہے کسی چیز کی اصلی حالت کو چھپانا۔ (فیض القدیر، جلد 6، صفحہ 185، مطبوعہ: مصر)

امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: غَدَر و بد عہدی مطلقاً سب سے حرام ہے، مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد۔ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

رشوت کے متعلق مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے

لعن النبی صلی اللہ علیہ وسلم الراشی و المرتشی و الرائش، یعنی الذی یمشی بینھما

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے رشوت دینے والے، رشوت لینے والے اور ان دونوں کے درمیان معاملہ کروانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد 4، صفحہ 444، مکتبۃ الرشد، الریاض)

امام اہل سنت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا کہ رشوت کس کو کہتے ہیں؟ اور اس کا لینا کیسا ہے؟ اور کس صورت میں لینا جائز ہے اور کس میں ناجائز؟ تو اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: رشوت لینا مطلقاً حرام ہے کسی حالت میں جائزنہیں جو پرایا حق دبانے کے لئے دیا جائے رشوت ہے یوہیں جو اپنا کام بنانے کے لئے حاکم کو دیا جائے رشوت ہے لیکن اپنے اُوپر سے دفع ظلم کے لئے جو کچھ دیاجائے دینے والے کے حق میں رشوت نہیں یہ دے سکتا ہے لینے والے کے حق میں وہ بھی رشوت ہے اور اسے لینا حرام۔ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 597، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4760
تاریخ اجراء: 27شعبان المعظم1447ھ / 16فروری2026ء