ابرو بنانے کی اجرت لینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ابرو بنانے کی اجرت لینے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس کے بارے میں کہ کیا کوئی پالر والی ابرو بنانے کے پیسے لے سکتی ہے؟
جواب
صرف خوبصورتی و زینت کےلئے ابرو کے بال نوچنا، اوراسے بنانا، اور بنوانا، دونوں کام ناجائز و حرام ہیں، اور ناجائز و حرام کام پر اجارہ کرنا، ناجائز و گناہ ہے، لہٰذا ابرو بنانے کی اُجرت حرام ہے، جس سے یہ اُجرت لی ہے، اسے واپس کرے، وہ نہ رہے ہوں، تو ان کے ورثہ کو دے، اور اگر پتا نہ چلے، تو اتنی رقم فقیروں پر صدقہ کردے۔ ہاں! اس میں جواز کی ایک صورت ہے کہ ابرو کے بال بہت زیادہ بڑھ چکے ہوں، بھدے (بُرے) معلوم ہوتے ہوں توصرف ان بڑھے ہوئے بالوں کو تراش کر اتنا چھوٹا کرسکتے ہیں، کہ بھدا پن دور ہوجائے۔ اور جب ایسا کرنے کی اجازت ہے، تو اس کی اجرت لینے کی بھی اجازت ہے۔
حدیث پاک میں ابرو بنوانے والی عورت پر لعنت آئی ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں ہے "عن عبداللہ قال: لعن اللہ الواشمات و المستوشمات و النامصات و المتنمصات و المتفلجات للحسن المغیرات خلق اللہ" حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالی کی لعنت ہے گودنے والیوں پر اور گودوانے والیوں پر اور بال اکھیڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں پر اور حسن کے لئے کھڑکیاں کرانے والیوں پر، جو اللہ کی خلقت کو بدلنے والیا ں ہیں۔ (صحیح مسلم، ص 845، رقم الحدیث 2125، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
مذکورہ بالا حدیث پاک کے الفاظ بال اکھیڑنے والیوں کی وضاحت کرتے ہوئے صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: یعنی جو عورت بھووں کےبال نوچ کر ابرو کو خوبصورت بناتی ہے اس پر لعنت ہے۔ (بہار شریعت، ج 3، حصہ 16، ص 595، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
اجرت کے حوالے سے حکم:
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: حرام فعل کی اجرت میں جو کچھ لیا جائے وہ بھی حرام کہ اجارہ نہ معاصی پر جائز نہ اطاعت پر۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 21، صفحہ 187، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
علامہ زین الدین ابن نجیم مصری علیہ رحمۃ اللہ القوی گناہ کے کاموں پر اجارے کا حکم بیان کرنے کے بعد اس کی اجرت کے متعلق فرماتے ہیں: "و ان اعطاہ الاجر و قبضہ لا یحل لہ و یجب علیہ ردہ علی صاحبہ۔" ترجمہ: اور اگر اس (یعنی ناجائز کام کے اجارے پر رکھنے والے) نے اسے (یعنی ناجائز کام کرنے پر رکھے ہوئے نوکر کو) اجرت دی، اور اس نے اس پر قبضہ کر لیا تو اس کے لئے یہ اجرت لینا حلال نہیں، اور اس پر واجب ہے کہ اسے (یعنی اجرت کو) اس کے مالک کو لوٹا دے۔ (البحر الرائق، کتاب الاجارہ، باب الاجارۃ الفاسدۃ، جلد 8، صفحہ 23، دار الکتاب الاسلامی، بيروت)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ان صورتوں میں اجرت لینا بھی حرام ہے، اگر لے لی ہوتو واپس کرے، اور معلوم نہ رہا کہ کس سے اجرت لی تھی تو اسے صدقہ کردے۔ (بہارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 144، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5047
تاریخ اجراء: 08 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 25 مئی 2026ء