logo logo
AI Search

کٹائی کے بدلے آدھی فصل دینا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

فصل کٹائی کے لئے اس طور پر دینا کہ جو فصل نکلے گی وہ دونوں میں تقسیم ہوگی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

پوچھی گئی صورت میں کاشتکاری ہوچکی ہے، صرف کٹائی باقی ہے اور کٹائی کروانے پر اجارہ درست ہے جبکہ شرعی اصولوں کے مطابق ہو اور ان اصولوں میں سے ایک اصول یہ بھی ہے کہ اسی فصل سے اجرت دینا طے نہ کیا جائے جبکہ آپ اسی فصل میں سے آدھی فصل دینے کی شرط کر رہے ہیں، لہٰذا ایسا کرنا جائز نہیں۔ جائز طریقہ یہ ہے کہ اجرت کی مقدار بیان کر دیں کہ مثلاً 50 بوری گندم اجرت دیں گے، یہ نہ کہا جائے کہ اسی فصل سے دیں گے، پھر کام ہوجائے تو اسی فصل میں سے بھی اجرت دینا جائز ہوگا۔

بہار شریعت میں ہے: اجارہ پر کام کرایا گیااور یہ قرار پایا کہ اسی میں سے اتنا تم اجرت میں لے لینا یہ اجارہ فاسد ہے مثلاً کپڑا بُننے کے ليے سوت دیا اور یہ کہہ دیا کہ آدھا کپڑا اجرت میں لے لینا یا غلہ اٹھا کر لاؤ اُس میں سے دوسیر مزدوری لے لینا یا چکی چلانے کے ليے بیل ليے اور جو آٹا پیسا جائے گا اس میں سے اتنا اجرت میں دیا جائے گایوہيں بھاڑ میں چنے وغیرہ بھنواتے ہیں اور یہ ٹھہرا کہ ان میں سے اتنے بھنائی میں ديے جائیں گے یہ سب صورتیں نا جائز ہیں۔ ان سب میں جائز ہونے کی صورت یہ ہے کہ جو کچھ اجرت میں دینا ہے اس کو پہلے سے علیحدہ کر دے کہ یہ تمہاری اجرت ہے مثلاً سوت کو دو حصہ کر کے ایک حصہ کی نسبت کہا کہ اس کا کپڑا بُن دو اور دوسرا دیا کہ یہ تمہاری مزدوری ہے یا غلہ اٹھانے والے کو اسی غلہ میں سے نکال کر دیدیا کہ یہ مزدوری ہے اور یہ غلہ فلاں جگہ پہنچادے۔ بھاڑ والے پہلے ہی اپنی بھنائی نکال کر باقی کو بھونتے ہیں اسی طرح سب صورتوں میں کیا جاسکتا ہے۔ دوسری صورت جو از کی یہ ہے کہ مثلاً کہہ دے کہ دو سیر غلہ مزدوری دیں گے یہ نہ کہے کہ اس میں سے دیں گے پھر اگر اُسی میں سے دیدے جب بھی حرج نہیں۔ (بہار شریعت، ج 3، ص 149، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Web-2558
تاریخ اجراء: 04 جمادی الاولٰی 1447ھ / 27 اکتوبر 2025ء