logo logo
AI Search

ڈیوٹی کے دوران نفلی روزہ رکھنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ڈیوٹی کے دوران نفلی روزہ رکھنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر نوکری کے دوران نفلی روزہ رکھنے سے کام میں کوئی کمی یا خلل واقع نہ ہوتا ہو، تو ایسی صورت میں روزہ رکھ سکتے ہیں، البتہ! اگر کام میں خل یا کمی پیدا ہوتی ہو، تو ایسی صورت میں مستاجر (یعنی جس کے پاس کام کرتے ہوں، اس) کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہیں رکھ سکتے، ایسی صورت میں اس کی اجازت ہو، تو ہی رکھ سکتے ہیں۔

علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ ”السراج الوھاج“ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: ”في السراج: إن كان صومه يضر بالمستأجر بنقص الخدمة فليس له أن يصوم تطوعا إلا بإذنه وإلا فله لأن حقه في المنفعة فإذا لم تنتقص لم يكن له منعه“ ترجمہ: السراج الوھاج میں ہے: اگر اجیر کا روزہ رکھنا، خدمت کی کمی کی وجہ سے مستاجر کو ضرر دے، تو وہ مستاجر کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہیں رکھ سکتا، اور اگر ایسا نہیں، تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے، کیونکہ مالک کا حق منفعت حاصل کرنے میں ہے، لہٰذا جب منفعت میں کمی نہ ہو،تو اسے روکنے کا حق نہیں۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 478، مطبوعہ: کوئٹہ)

النتف فی الفتاوی للسغدی“ میں ہے ”من لا يجوز لهم ان يصوموا نفلا الا بأذن سبعة نفر ۔ ۔ ۔ السادس الاجير لا يصوم الا بإذن استاذه اذا اضره صومه“ ترجمہ: جن کو بغیر اجازت نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں،وہ سات قسم کے افراد ہیں ۔ ۔ ۔ چھٹا اجیر ہے کہ جب اس کا روزہ رکھنا مالک کو ضرر دیتا ہو،تو وہ اجازت کے ساتھ ہی نفلی روزہ رکھ سکتا ہے۔ (النتف فی الفتاوی،جلد 1، صفحہ 148، 149، مطبوعہ: بیروت)

اسی مسئلہ کو علامہ دہلوی ہندی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے یوں لکھا: الاجیر الذی یستاجرہ للخدمۃ لا یصوم تطوعا الا باذن المستاجر اذا کان الصوم یضر بہ فی الخدمۃ، و ان کان لایضر فلہ ان یصوم بغیر اذنہ“ ترجمہ: اجیر، جس کو خدمت کے لیے کام پر رکھا ہو، تو وہ مالک کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہیں رکھ سکتا،جبکہ روزہ کی وجہ سے خدمت کے معاملہ میں مالک کو ضرر ہو، اور اگر ضرر نہیں ہوتا، تو وہ بغیر اجازت بھی روزہ رکھ سکتا ہے۔ (فتاویٰ تاتارخانیہ، جلد 2، صفحہ 144،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے مزدور یا نوکر اگر نفل روزہ رکھے تو کام پورا ادا نہ کر سکے گا تو مستاجر یعنی جس کا نوکر ہے یا جس نے مزدوری پر اُسے رکھا ہے، اُس کی اجازت کی ضرورت ہے اور کام پورا کر سکے تو کچھ ضرورت نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1008، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتوی نمبر:
WAT-5290
تاریخ اجراء: 02 صفر المظفر 1448ھ / 17 جولائی 2026ء