جوا اسکیم والی نوکری کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
جوئے پر مشتمل اسکیم کی ترغیب دلانے کی نوکری کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ کا یہ نوکری کرنا شرعاً ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ مذکورہ ادارے کی انعامی اسکیم جوئے پر مشتمل ہے، وہ یوں کہ جن افراد کا قرعہ اندازی میں نام نکل آئے گا، ادارے کی طرف سے انہیں تو انعام مل جائے گا، لیکن جن کا نام نہ آیا، ان کی (کوڈ سینڈ کرنے پر کٹ جانے والی) رقم ضائع ہو جائے گی اور جوئے کی تعریف بھی یہی ہے کہ اپنے مال کو اس طرح خطرے پہ ڈالنا کہ یا تو زائد مال مل جائے یا اپنا بھی چلا جائے اور جوئے کی حرمت و مذمت قرآن کریم میں صراحتاً موجود ہے، اب جب یہ انعامی اسکیم جوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہے، تو لوگوں کو اس میں شرکت کےلئے اس کی معلومات فراہم کرنا اور ترغیب دلانا حرام اور گناہ میں تعاون کرنا ہے اور جس نوکری میں کوئی ناجائز کام کرنا پڑے یا کسی بھی طرح گناہ میں معاونت کرنی پڑے، تو ایسی نوکری کرنا، شرعاً ناجائز و حرام ہے، لہذا آپ اس گناہ کے کام سے بچیں اور اللہ عزوجل کی ذات پہ کامل بھروسہ رکھیں، اس کی برکت سے امید ہے اللہ عزوجل رزقِ حلال کے لئے کوئی بہترین ذریعہ پیدا فرما دے اور ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے جہاں سے ملنے کا گمان تک بھی نہ ہو۔
اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ (2) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ- وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗؕ-﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اور جو اللہ سے ڈرے، اللہ اس کے لئے نجارت کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا، جہاں اس کا گمان نہ ہو اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔ (پارہ 28، سورۃ الطلاق، آیت 2تا 3)
اس آیت کے تحت تفسیر ابن کثیر میں ہے: و من یتق اللہ فیما امرہ بہ و ترک ما نھاہ عنہ، یجعل لہ من امرہ مخرجا ﴿وَ يَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ﴾ ای: من جھة لا تخطر ببالہ‘‘ ترجمہ: جو اللہ عزوجل سے ڈرتے ہوئے ان امور کو بجا لائے جن کا اس نے حکم دیا اور جن سے منع کیا انہیں چھوڑ دے، تو اللہ عزوجل وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو، یعنی ایسی جگہ سے جہاں سے رزق ملنے کا اسے وہم بھی نہ ہوا ہو۔“ (تفسیر ابن کثیر، سورۃ الطلاق، تحت آیت 2 تا 3، جلد 8، صفحہ 146، مطبوعہ دار طیبۃ للنشر و التوزیع)
معجم لغۃ الفقہاء میں جواکی تعریف یوں کی گئی ہے: تعلیق الملک علی الخطر، و المال من الجانبین“ یعنی اپنی ملکیت کو خطرے میں ڈالنا، اس حال میں کہ مال دونوں طرف سے ہو۔ (معجم لغۃ الفقھاء، صفحہ 369، مطبوعہ دار النفائس)
اور محیطِ برہانی میں ہے: القمار مشتق من القمر الذی يزداد و ينقص، سمي القمار قماراً، لان كل واحد من المقامرين ممن يجوز ان يذهب ماله الى صاحبه و يستفيد مال صاحبه، فيزداد مال كل واحد منهما مرة و ينتقص اخرى، فاذا كان المال مشروطاً من الجانبين كان قماراً و القمار حرام و لان فيه تعليق تمليك المال بالخطر و انه لا يجوز‘‘ ترجمہ: لفظ ’’قمار‘‘ ’’قمر‘‘ سے بنا ہے جو گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہےاور قمار کو قمار اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں بھی بازی لگانے والوں میں سے ہر ایک کا مال دوسرے کے پاس جانا ممکن ہوتا ہے اور وہ مدِ مقابل کے مال سے نفع حاصل کر لیتا ہے، پس اس طرح ان میں سے ہر ایک کا مال بھی کبھی گھٹتا ہے اور کبھی بڑھتا ہے، پس جب مال جانبین سے مشروط ہو، تو یہ قمار ہو گا اور قمار حرام ہے، اس لیے کہ اس میں اپنے مال کو خطرےپر پیش کرنا ہے اور یہ جائز نہیں۔ (محیط برھانی، کتاب الکراھیۃ، جلد 6، صفحہ 54، مطبوعہ کوئٹہ)
جوئے کی مذمت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اے ایمان والو! شراب اور جوا اور بت اور قسمت معلوم کرنے کے تیر ناپاک شیطانی کام ہی ہیں، تو ان سے بچتے رہو کہ تم فلاح پاؤ۔ (پارہ 7، سورۃ المائدہ، آیت 90)
اور ارشاد فرماتا ہے ﴿اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ- فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ﴾ ترجمہ: شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ شراب او ر جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض و کینہ ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے، تو کیا تم باز آئےہو؟۔ (پارہ 7، سورۃ المائدہ، آیت 91)
اس انعامی اسکیم کی ترغیب دلانا گناہ پر تعاون ہے، جو جائز نہیں۔ اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ- اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِٛ ﴾ ترجمہ ٔ کنز العرفان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرواور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے۔ (پارہ 6، سورۃ المائدہ، آیت 2)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: گناہ اور ظلم میں کسی کی بھی مدد نہ کرنے کا حکم ہے، ۔ ۔ بلا وجہ کسی انسان کو پھنسا دینا، ظالم کا اس کے ظلم میں ساتھ دینا، حرام و ناجائز کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں کسی بھی طرح شریک ہونا، بدی کے اڈوں میں نوکری کرنا یہ سب ایک طرح سے برائی کے ساتھ تعاون ہے اور ناجائز ہے۔ (صراط الجنان، جلد 2، صفحہ 379، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مفتی پاکستان حضرت مولانا مفتی وقار الدین رضوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ناجائز کام کےلئے ملازمت کرنا اور اس سے تعاون کرنا بھی ناجائز ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 326،مطبوعہ بزم وقار الدین، کراچی)
ایک اور مقام پہ فرمایا: ’ایسی ملازمت جس میں ناجائز کام کرنے پڑیں، وہ ناجائز ہے، لہذا مسلمان کو یہ عقیدہ پختہ رکھنا چاہئے کہ رازق اللہ تبارک وتعالیٰ ہے، اس کی رضا مندی کے لئے ایسی ملازمت کو چھوڑ دے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے رزقِ حلال کے اور ذرائع پیدا فرما دے گا۔ (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 328، مطبوعہ بزم وقار الدین، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-6650
تاریخ اجراء: 03 جمادی الثانی 1442ھ / 17 جنوری 2021ء