ملازم کا ناقص کام کر کے پورے پیسے لینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اجیر کا ناقص کام کر کے پوری اجرت لینے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کمپنی ہے جہاں ایک بیڈ شیٹ بنتی ہے، اس شیٹ پر دو بندے اسے چیک کرنے کے لئے کھڑے ہوتے ہیں کہ اس میں دھبہ نہ ہو، اگر کچھ بھی نہیں ہے، تو پیس کو سمیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے، کمپنی کی طرف سے یہ کام دیا جاتا ہے۔آپ سے عرض یہ ہے کہ اگر کوئی بندہ ان پیسوں میں سے کچھ پیس چیک بھی کرتا ہے لیکن جلدی میں جان بوجھ کے کسی پیس پر معمولی دھبے باقی رہنے دیتا ہے، تو کیا اس صورت میں اس کا پیسے لینا حرام ہوگا ؟یا وہ بندہ گناہگار ہوگا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شخص کا جان بوجھ کر دھبے والی بیڈ شیٹ کو آگے بڑھا دینا، اور اس کے پیسے لینا جائز نہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ:
ہماری معلومات کے مطابق اس طرح کی فیکٹری میں ملازمین کا کام یہ ہوتا ہے کہ اگر بیڈ شیٹ پر کوئی دھبہ ہو تو اسے صاف کر دیں، اور اگر صاف ہو تو ان کو سمیٹ کر، اور تہہ کر کے رکھ دیں، اور یوں ان کو ہر بیڈ شیٹ کے بدلے مخصوص رقم دی جاتی ہے، اور دن بھر میں جتنی بیڈ شیٹس وہ سمیٹ کر، اور تہہ کر کے رکھیں گے۔ ان تمام کے بدلے میں جتنی رقم بنتی ہے، اتنی رقم اجرت میں دی جاتی ہے، جو اس بات پر دلیل ہے کہ ان ملازمین کا اجارہ کام پر ہوتا ہے، جتنا کام کریں گے، اتنی اجرت پائیں گے۔ اب اگر کوئی ملازم زیادہ بیڈ شیٹ تہہ کرنے کے لیے بعض پیس چیک کرتا ہے اور بعض کو یوں ہی جانے دیتا ہے کہ اسے صاف کرنے میں وقت لگ جائے گا، اور زیادہ بیڈ شیٹ تہہ نہیں کر سکے گا، تو اس کا یہ عمل فیکٹری کی طرف سے دئیے گئے طریقہ کار کے کے خلاف اور اپنے کام کو ناقص (ادھورے) طریقے سے ادا کرنا ہے، اور فقہائے کرام نے صراحت فرمائی ہے کہ: شرع کے مطابق لگائی گئی شرط کی پاسداری کرنا ملازم پر ضروری ہوتا ہے، نیز ناقص (ادھورا) کام کر کے پوری اجرت لینا حرام ہے، اور مذکورہ ملازم کے اس عمل میں فیکٹری کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا پہلو بھی موجود ہے، کہ اگر مارکیٹ میں بیڈ شیٹ داغ دھبے والی پہنچیں گی، تو لازمی طور پر فیکٹری کی ساکھ متاثر ہوگی، اور بلاوجہ شرعی کسی کو نقصان دینا جائز نہیں۔ بہرحال پوچھی گئی صورت میں مذکورہ ملازم کا جان بوجھ کر داغ دھبے والی بیڈ شیٹ، آگے بھیج دینا جائز نہیں، اس پر فرض و لازم ہے کہ اپنے اس عمل سے توبہ کرے اور اپنے ناقص کام کے بدلے میں جتنی رقم اضافی لے چکا ہے، وہ فیکٹری مالکان کو واپس کر دے۔
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ زید نے ملازمت کی اور ملازمت کرنے کے بعد جو کچھ قاعدے تھے معلوم ہوئے کہ ان قانون پر نوکری کرنا ہوگا۔ اگر زید ان قاعدوں کے خلاف کرے اور قاعدوں کے مطابق کام نہ کرے تو اس کو نوکری کا پیسہ کھانا جائز ہے یا ناجائز ؟ تو آپ علیہ الرحمہ نے جواب میں فرمایا: ”جو جائز پابندیاں مشروط تھیں ان کا خلاف حرام ہے ۔۔۔۔اور ناقص کام کر کے پوری تنخواہ لینا بھی حرام ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 521، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
دوسروں کو نقصان دینے کے متعلق حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’لاضرر ولاضرار فی الاسلام‘‘ ترجمہ: اسلام میں نہ اپنے آپ کو ضرر میں ڈالنا ہے، نہ دوسرے کو ضرر دینا۔ (المعجم الاوسط، ج 5، ص 238، دار الحرمین، قاہرہ)
اپنے کام کے مطابق جتنی اجرت بنتی تھی اس سے زیادہ لی گئی اجرت کے متعلق امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: ’’اتنے کام کے لائق جتنی اجرت ہے لے، اس سے جو کچھ زیادہ ملا مستاجر کو واپس دے، وہ نہ رہا ہو اس کے وارثوں کو دے، ان کا بھی پتہ نہ چلے مسلمان محتاج پر تصدُّق کرے اپنے صَرف میں لانا یا غیرِ صدقہ میں اسے صَرف کرنا حرام ہے ۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 407، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5263
تاریخ اجراء: 21 صفر المظفر 1448ھ/05 اگست 2026ء