جانور ذبح کرنے کی اجرت گوشت کے وزن کے حساب سے دینا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قصاب سے جانور ذبح کرنے کی اجرت گوشت کے مطابق طے کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا اجتماعی قربانی میں قصاب سے اس طرح اجرت طے کی جا سکتی ہے کہ ذبح کے بعد جانور میں سے جتنا گوشت نکلے گا، فی کلو کے حساب سے اِتنی اجرت دی جائے گی؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں قصاب سے اس طرح معاہدہ کرنا، ناجائز و حرام اور گناہ ہے، کیونکہ متعین طور پر معلوم نہیں کہ جانور میں سے کتنا گوشت نکلے گا اور اجرت کتنی بنے گی، تو قصاب کی اجرت مجہول ہوئی، جبکہ اجارے میں (دیگر شرائط کے ساتھ) اجرت کا متعین ہونا بھی ضروری ہوتا ہے، اگر اجرت مجہول ہو، تو اجارہ فاسد ہو جاتا ہے اور عقدِ فاسد کرنا، ناجائز و حرام اور گناہ ہے۔ پھر یہ حکم عام ہے، چاہے اجتماعی قربانی میں یوں اجارہ کیا جائے یا انفرادی قربانی میں یا قربانی کے علاوہ کسی جانور کو ذبح کرنے کا معاہدہ ہو، بہر صورت ناجائز ہے۔
سنن الکبریٰ للبیہقی میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’من استاجر اجيرا فليعلمه اجره‘‘ ترجمہ: جو کسی کو اجرت پر رکھے، تو چاہئے کہ اسے اس کی اجرت بیان کر دے۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی، کتاب الاجارہ، جلد 6، صفحہ 198، مطبوعہ بیروت)
النتف فی الفتاوی میں ہے: ’’واعلم ان صحة الاجارة متعلقة بشيئين، اعلام الاجر واعلام العمل، فاذا كان احدهما مجهولا فالاجارة فاسدة‘‘ ترجمہ: جان لے کہ اجارے کا درست ہونا دو چیزوں سے متعلق ہے، اجرت کا بیان ہونا اور عمل کا بیان ہونا، پس اگر ان میں سے کوئی ایک مجہول ہو تو اجارہ فاسد ہو جائے گا۔ (النتف فی الفتاوی، کتاب الاجارہ، جلد 2، صفحہ 558، مطبوعہ بیروت)
در مختار میں ہے: ”وتفسد بجھالۃ المسمی کلہ او بعضہ“ ترجمہ: کل یا بعض اجرت کے مجہول ہونے کی وجہ سے اجارہ فاسد ہو جائے گا۔ (در مختار، کتاب الاجارہ، جلد 9، صفحہ 80، مطبوعہ پشاور)
سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ ایک مسئلے پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”(اس عقد کو) اجارہ مانیں تو اجرت مجہول ہے اور ایسا اجارہ حرام اور عاقدین گناہگار اور دونوں پر اس کا فسخ واجب اور وہ نہ کریں تو حاکم پر لازم کہ جبراً فسخ کر دے، دفعاً للمعصیۃ یعنی گناہ کو دور کے لئے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 259، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
نوٹ: عموماً اس فیلڈ کے ماہرین کو اندازہ ہوتا ہے اور وہ جانور دیکھ کر بتا دیتے ہیں کہ اس میں تقریباً اتنا گوشت ہو گا، تو ذبح سے قبل جانور کسی ماہر کو دکھا کر قصاب سے متعین رقم (فکس اماؤنٹ) پر اجارہ کر لیا جائے، اس طرح اجارہ (بقیہ لوازمات کی موجودگی میں) درست ہو جائے گا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Pin-6758
تاریخ اجراء: 15 ذو القعدۃ الحرام 1442ھ/26 دسمبر 2021ء