رنگائی میں کپڑا بڑھ جائے تو اضافی کپڑا کس کا ہوگا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کپڑا رنگنے والے کا زائد کپڑا خود رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ
(1) زید کی کپڑا رنگنے کی فیکٹری ہے، اس میں لوگ اپنے کپڑے رنگنے کے لئے دیتے ہیں، تو فیکٹری کا عملہ کپڑا ناپ کر کپڑا رنگتا ہے، کپڑا رنگنے کے دوران ہِیٹ کی وجہ سے کپڑا کچھ لمبا ہو جاتا ہے، پھر جب کپڑا رنگ ہوجاتا ہے تو عملے نے جتنا کپڑا وصول کیا ہوتا ہے، اتنا ہی ناپ کر کے کاٹ کر دیتے ہیں، اور جو کپڑا رنگائی کے دوران لمبا ہوا تھا وہ اصل مالک کو نہیں دیتے،شرعی رہنمائی فرمائیں کہ جو کپڑا رنگائی کے دوران لمبا ہو جائے، وہ مالک کو واپس کرنا ضروری ہے یا فیکٹری کا عملہ خود رکھ سکتا ہے؟
(2) اگر واپس کرنا ضروری ہے تو جو اضافی کپڑا پہلے یوں عملے والوں نے اپنے پاس رکھا، اسے کیسے واپس کیا جائے؟ جبکہ اصل مالکان کا علم نہیں۔
جواب
(1) جو کپڑا رنگائی کے دوران لمباہوا وہ مالک ہی کا کپڑا ہے، اور رنگنے والے کے پاس امانت ہے، لہٰذا اس پرلازم ہے کہ مالک کو یہ کپڑا واپس کرے، ہاں اگروہ اجازت دے دے کہ بڑھ جانے والا کپڑا آپ رکھ لیں تب وہ اسے رکھ سکتا ہے۔
جوہرہ میں ہے: فالمشترك كل من لا يستحق الأجرة حتى يعمل كالقصار و الصباغ) ۔ ۔ ۔ ۔ (قوله: و المتاع أمانة في يده" ترجمہ: اجیر مشترک ہروہ اجیر ہے جو اس وقت تک اجرت کامستحق نہ ہوجب تک کہ وہ کام نہ کرلے، جیسے دھوبی اور رنگریز اور اس کے ہاتھ میں سامان امانت ہے۔ (الجوھرۃ، ج 01، ص 582، مطبوعہ لاہور)
فتاوی ہندیہ میں ہے ”لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق“ ترجمہ: مسلمانوں میں سے کسی کے لئے بھی، دوسرے کا مال بغیر سبب شرعی کے لینا ناجائز ہے یونہی بحر الرائق میں ہے۔ (فتاوی ھندیۃ، کتاب الحدود، ج 2، ص 167، مطبوعہ کوئٹہ)
در مختار میں ہے ”لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه“ ترجمہ: کسی دوسرے کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف جائز نہیں۔ (در مختار، کتاب الغصب، ج 9، ص 334، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: دھوبی کو دوسرے کے کپڑے پہننا جائز نہیں کہ امانت میں تصرف کرنا خیانت ہے مگر پہننے کے بعد اُس نے اوتار کر رکھ دیا تو اب ضامن نہیں رہا جس طرح ودیعت کا حکم ہے جس کو پہلے بیان کیا گیا۔ (بھار شریعت، جلد 3، حصہ 14، صفحہ 158، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
(2) زائد کپڑا امانت ہے جیساکہ اوپر مذکور ہوا اور امانت کی حفاظت لازم ہے یہاں تک کہ جب مالک ملے تو اسے پہنچادی جائے۔
اگر کوئی شخص امانت رکھ کر غائب ہو جائے تو اس کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے:غاب المودع ولاید ری حیاتہ و لا مماتہ یحفظھا ابدا حتی یعلم بموتہ وورثتہ كذا في الوجيز للكردري ولا يتصدق بها بخلاف اللقطة، كذا في الفتاوى العتابية فان مات ولم يكن عليه دين مستغرق يرد على الورثة‘‘ ترجمہ: مودِع (مال کا مالک) غائب ہو گیا اور موت یا زندہ رہنے کا پتہ نہیں تو اس کا مال محفوظ رکھا جائے گا حتی کہ اس کا مرنا اور وارث معلوم ہوجائے جیساکہ وجیز للکردری میں ہے۔ اور ودیعت کو صدقہ نہیں کیا جا سکتا، بر خلاف لقطہ کے جیساکہ فتاوی عتابیہ میں ہے، پھر اگر امانت رکھوانے والا وفات پا جائے اور اس پر دین مستغرق نہ ہو، تو امانت اس کے ورثا کے حوالے کر دے۔ (فتاوی ہندیہ جلد 4، صفحہ 354، کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-1065
تاریخ اجراء: 25 ربیع الاخر 1445ھ / 10 نومبر 2023ء