logo logo
AI Search

پروڈکٹ ہنٹنگ کا معاوضہ لینا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

Product Hunting کر کے رقم حاصل کرنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ

کوئی شخص ہمارے پاس آتا ہے اوروہ Product Hunting کرنے کا کہتا ہے یعنی کہتا ہے کہ آپ مختلف ویب سائٹس وغیرہ سے یہ تلاش کر کے دیں کہ اس وقت آئن لائن مارکیٹ میں کس چیزکی مانگ زیادہ ہے اگر آپ ہمیں یہ تلاش کردیتے ہیں تو اس کے بدلے آپ کوایک فکس رقم مثلا 10 ہزار روپیہ دیں گے۔ اب اس میں دوصورتیں ہوتی ہیں:

(الف) بسا اوقات ہم نے وہ کام پہلے سے کرکے رکھا ہوتا ہے تو ہم اسے بتادیتے ہیں کہ یہ ہم نے کام کر کے اپنے پاس رکھا ہوا ہے، آپ کو اتنی رقم کے بدلے وہ کام دے دیتے ہیں تووہ اس پر ایگری ہو جاتا ہے چنانچہ اس کا پروف اور سکرین شارٹس وغیرہ تحریری شکل میں ہمارے پاس ہوتے ہیں، وہ ہم اسے دیتے ہیں اور اس کے بدلے مخصوص رقم اس سے لے لیتے ہیں۔

(ب) بعض اوقات ہمارے پاس وہ کام پہلے سے کیاہوانہیں ہوتاتوایسی صورت میں پھرہم ڈیل کرلیتے ہیں کہ ٹھیک ہے ہم تلاش کر کے دیں گے اور اس کے بدلے مخصوص رقم لیں گے۔ اس پروہ وقت دیتاہے کہ مثلاایک ہفتے کے اندر اندر مجھے کر کے دے دیں۔ ویب سائٹ پرڈیٹاموجود ہوتا ہے، مخصوص کوڈوغیرہ خریدتے ہیں تو اس مطلوبہ مقام پرپہنچ جاتے ہیں، جہاں سے تلاش کرنا ہوتا ہے اورپھر ہم کوشش کرتے ہیں کہ مقررہ وقت میں کام ہوجائے، جب ہو جاتا ہے تو اسے سکرین شارٹس وغیرہ تحریری چیزیں اسے دے دیتے ہیں اور اس سے مخصوص رقم وصول کرلیتے ہیں۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ:

(1) پہلی صورت میں جب کام ہمارے پاس پہلے سے کیا ہوا ہوتا ہے اس صورت میں تحریری ثبوت اور شکرین شارٹس دے کر مخصوص رقم لینا کیسا ہے؟

(2) دوسری صورت میں جب کام ہمارے پاس پہلے سے کیا ہوا نہیں ہوتا تو تلاش کر کے اسے سکرین شارٹس وغیرہ تحریری چیزیں دے کر اس کے بدلے مخصوص رقم لینا کیسا ہے؟

جواب

(1) پہلی صورت میں جوتحریری پروف اورشکرین شارٹس وغیرہ آپ کے پاس پہلے سے موجودہوتے ہیں، وہ سب ایک پیج وغیرہ پر جمع کر کے، اس کی مخصوص قیمت وصول کرسکتے ہیں اور یہ قیمت باہمی رضا مندی سے کچھ بھی مقرر کی جاسکتی ہے۔

قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی کا ہو۔ (سورۃ النساء، پ 05، آیت 29)

بہار شریعت میں ہے بہت سے لوگ تعویذ کامعاوضہ لیتے ہیں یہ جائز ہے اس کو اجارہ کی حدمیں داخل نہیں کیا جاسکتا بلکہ بیع میں شمار کرنا چاہيے یعنی اُتنے پیسوں یا روپے میں اپنے تعویذ کو بیع کرتا ہے مگر یہ ضرور ہے کہ تعویذ ایسا ہو کہ اُس میں شرعی قباحت نہ ہو جیسے ادعیہ اور آیات یا ان کے اعداد یا کسی اسم کانقش مظہر یا مضمرلکھا جائے۔ (بھار شریعت، ج 3، حصہ 14، ص 147، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

(2) دوسری صورت میں جواجارہ ہے وہ کام پر ہے اور کام متعین ہوتاہے کہ اس اس طرح کی چیزتلاش کر کے دیں اورجہاں سے تلاش کرنا ہوتا ہے وہ ڈیٹا وغیرہ بھی موجود ہوتا ہے۔ لہذا کام میں جہالت بھی نہیں اور غرر بھی نہیں تو یہ کام کا اجارہ درست ہے۔ اور اس پر مخصوص اجرت وصول کرنا بھی درست ہے۔ اور یہ اجیر مشترک والی صورت ہے کہ اس میں وقت کا جو ذکر ہے، وہ عام طور پر تعجیل کے لیے ہوتا ہے تاکہ جلد از جلدکام ہوجائے، خاص وقت پر اجارہ کرنا مقصود نہیں ہوتا جیسے درزی کو کہا جائے کہ اگلے ہفتے فلاں تاریخ کو ہماری شادی ہے، اس سے پہلے کپڑے سلائی ہوجائیں یا عیدکے موقع پر دئیے جاتے ہیں عید پر پہننے کے لیے تو یہاں بھی اگرچہ وقت کا ذکر ہوتا ہے لیکن وہ بطور تعجیل ہوتا ہے، خاص وقت پر اجارہ کرنا مقصود نہیں ہوتا۔ پھر یہ بھی ہے کہ یہاں ایک وقت میں ایک کا کام کرنا ہی متعین نہیں ہوتا بلکہ کسی اور کا بھی کام کر سکتا ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے "و الإجارة على العمل إذا كان معلوما صحيحة بدون بيان المدة" ترجمہ: اور کام جب معلوم ہو تو کام پر اجارہ، مدت کے بیان کیے بغیر بھی درست ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الاجارۃ، ج 04، ص 500، کوئٹہ)

درمختارمیں ہے (الأجراء على ضربين: مشترك وخاص، فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط و نحوه (أو يعمل له عملا غير مؤقت) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا وإن لم يعمل لغيره (أو موقتا بلا تخصيص) كأن استأجره ليرعى غنمه شهرا بدرهم كان مشتركا، إلا أن يقول: و لا ترعى غنم غيري" الأجراء على ضربين: مشترك و خاص، فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط و نحوه (أو يعمل له عملا غير مؤقت) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا وإن لم يعمل لغيره (أو موقتا بلا تخصيص) كأن استأجره ليرعى غنمه شهرا بدرهم كان مشتركا، إلا أن يقول: و لا ترعى غنم غيري“ ترجمہ: اجیر کی دو قسمیں ہیں: (1) اجیر مشترک(2) اور اجیر خاص۔ اجیر مشترک وہ ہوتا ہے جو کسی ایک آدمی کے لئے کام نہیں کرتا جیسا کہ درزی وغیرہ، یا ایک آدمی کے لئے کام کرتا ہے لیکن وقت مقرر نہیں ہوتا مثلا کسی نے درزی کو اپنے گھر میں کپڑے سینے کے لئے اجیر رکھا اور مدت کے ساتھ مقید نہیں کیا تو وہ اجیر مشترک ہوگا اگرچہ اس وقت کسی اور کے لئے کام نہ کرے یا مقررہ وقت میں کام کرے لیکن بغیر تخصیص کے مثلا کسی نے کسی آدمی کو اجیر رکھا تاکہ وہ ایک درہم کے بدلے ایک مہینہ اس کی بکریاں چرائے تو یہ بھی اجیر مشترک ہوگا، ہاں اگر وہ کہہ دے کہ کسی اور کی بکریاں نہیں چراؤگے تو اجیر مشترک نہ رہے گا۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الاجارۃ، باب ضمان الاجیر، ج 9، ص 107 - 108، کوئٹہ(

بہارشریعت میں ہے اجیر دو قسم کے ہیں: اجیر مشترک و اجیر خاص۔ اجیر مشترک وہ ہے جس کے لیے کسی وقت خاص میں ایک ہی شخص کا کام کرنا ضروری نہ ہو اُ سوقت میں دوسرے کا بھی کام کرسکتا ہو، جیسے دھوبی، خیاط، حجام، حمال وغیرہم جو ایک شخص کے کام کے پابند نہیں ہیں اور اجیر خاص ایک ہی شخص کا پابند ہوتا ہے۔ کام میں جب وقت کی قید نہ ہو اگرچہ وہ ایک ہی شخص کا کام کرے یہ بھی اجیر مشترک ہے ۔ ۔ ۔ یوہیں اگر وقت کی پابندی ہے مگر دوسرے کا بھی اس وقت میں کام کرنے کی اجازت ہے مثلاً چرواہے کو بکریاں چرانے کوایک روپیہ ماہوار پر رکھا مگر یہ نہیں کہا ہے کہ دوسرے کی بکریاں نہ چرانا تویہ بھی اجیر مشترک ہے اور اگر یہ طے ہو جائے کہ دوسرے کی بکریاں نہیں چرائے گا تو اجیر خاص ہے۔اجیر مشترک میں اجارہ کا تعلق کام سے ہے لہٰذا وہ متعدداشخاص کے کام لے سکتا ہے اور اجیر خاص میں اُس مدت کے منافع کا ایک شخص کو مالک کرچکا لہٰذا دوسرے سے عقد نہیں کرسکتا۔ (بھار شریعت، ج 03، حصہ 14، ص 155، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-0550
تاریخ اجراء: 25 صفر المظفر 1444ھ / 22 ستمبر 2022ء