بغیر بتائے کام چھوڑنے پر تنخواہ نہ دینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پہلے سے بتائے بغیر کام چھوڑنے پر اجرت نہ دینا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اِس مسئلہ کے بارے میں کہ اکثر دکانوں پر لڑکے کام کے لیے رکھے جاتے ہیں تو ان سے یہ طے کیا جاتا ہے کہ اگر کام چھوڑنے کا ذہن ہو تو بتا کر چھوڑنا ہے، ورنہ بیچ مہینے میں بغیر بتائے چھوڑ کر گئے، تو اس مہینے میں کام کیے ہوئے جتنے دن ہوں گے، اُن کی تنخواہ نہیں ملے گی۔ یہ چیز دکانوں پر لڑکے رکھتے ہوئے عموماً طے ہوتی ہے۔ کیا یہ طریقہ کار شرعاً درست ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
جواب
اجارہ کرتے ہوئے یہ طے کرنا کہ اگر بغیر بتائے چھوڑ کر گئے تو مہینے میں جتنے دن کام کر چکے ہو، اُس کی بھی تنخواہ نہیں ملے گی، یہ شرط فاسد ہے اور ایسی شرط لگانا، ناجائز وگناہ ہے۔ دکان دار اور جس ملازم نے یہ ناجائز عقدِ اجارہ کیاہو، وہ دونوں گناہگار ہوں گے اور اُن پر توبہ لازم ہو گی اور اگر سوال میں بیان کردہ صورت کے مطابق عقد ہو چکا ہو اور ایک وقت آنے پر ملازم بغیر بتائے مہینے کے دوران کام چھوڑ گیا، تو مالک کو قطعاً یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی خلافِ شرع لگائی ہوئی شرط کے مطابق اُس کی تنخواہ ضبط کرے، بلکہ اِس صورت میں مالک پر لازم ہے کہ جتنے دن ملازم نے کام کیا ہے، اُتنے دن کی حساب لگا کر اُجرت مثل ادا کرے۔ اجرتِ مثل کا مطلب یہ ہے کہ جتنے دن اُس کام کی عرفاً اجرت بنتی ہو، وہ ادا کرے، اگرچہ طے زیادہ کی ہو۔
شروطِ باطلہ یا فاسدہ کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں ہے، چنانچہ ابو عبداللہ امام محمد بن اسماعیل بخاری رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 256ھ / 870ء) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّمَ نے برسَر منبر ارشاد فرمایا:
ما بال أقوام يشترطون شروطا، ليس في كتاب اللہ من اشترط شرطا ليس في كتاب اللہ، فليس له، و إن اشترط مائة مرة۔
ترجمہ: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں، جو خدا کی کتاب میں نہیں ہیں اور جو بندہ ایسی شرط لگائے کہ جو کتاب اللہ کی رُو سے جائز نہ ہو، وہ باطل ہے، اگرچہ سو شرطیں ہوں۔ (صحیح البخاری، جلد 01، باب ذکر البیع و الشراء علی المنبر، صفحہ 98، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)
فتاویٰ عالَمگیری میں ہے:
إن تكاراها إلى بغداد على أنها إن بلغته بغداد فله أجر عشرة دراهم و إلا فلا شيء له فالإجارة فاسدة و عليه أجر مثلها بقدر ما سار عليها. كذا في المبسوط۔
ترجمہ: اگر کسی نے بغداد جانے کے لیے سواری کرائے پر لی اور شرط یہ رکھی کہ اگر اِس سواری نے اُسے بغداد پہنچا دیا تو مالک کو دس درہم کرایہ دیا جائے گا اور اگر نہ پہنچایا، (بلکہ بیچ راہ چھوڑ دیا) تو مالک کو بالکل بھی کوئی اجرت نہیں ملے گی، تو شرعاً یہ اجارہ فاسدہ ہے اور اُس شخص پر لازم ہے کہ سواری کے ذریعے جتنا سفر کیا، مالک کو اُس کی اجرتِ مثل ادا کرے۔ (الفتاوى الھندیۃ، جلد 04، صفحہ 443، مطبوعہ مکتبۃ رشیدیۃ)
اور اجرت مثل کے متعلق اِسی کتاب میں ہے:
فالفاسد يجب فيه أجر المثل ولا يزاد على المسمى إن سمى في العقد مالا معلوما، و إن لم يسم يجب أجر المثل بالغا ما بلغ۔
ترجمہ: اجارہ فاسدہ میں اجرتِ مثل لازم ہوتی ہے، مگر وہ اجرت پہلے سے طے شدہ اجرت سے زائد نہ ہو، اور اگر پہلے کچھ طے نہیں کیا گیا تھا، تو جتنی بھی اجرتِ مثل بنتی ہو، وہی لازم ہے۔ (الفتاوى الھندیۃ، جلد 04، صفحہ 439، مطبوعہ مکتبۃ رشیدیۃ)
امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ / 1921ء) سے اِسی نوعیت کا سوال ہوا تو آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواباً لکھا: ملازمت بلااطلاع چھوڑ کر چلا جانا اُس وقت سے تنخواہ قطع کرے گا، نہ کہ تنخواہ واجب شدہ کو ساقط، اور اِس پر کسی تاوان کی شرط کرلینی، مثلاً نوکری چھوڑنا چاہے، تو اتنے دنوں پہلے سے اطلاع دے، ورنہ اتنی تنخواہ ضبط ہوگی، یہ سب باطل و خلاف شرعِ مطہر ہے۔ پھر اگر اس قسم کی شرطیں عقدِ اجارہ میں لگائی گئیں، جیسا کہ بیانِ سوال سے ظاہر ہے کہ وقتِ ملازمت اِن قواعد پر دستخط لے لیے جاتے ہیں یا ایسے شرائط وہاں مشہور و معلوم ہو کر ”المعروف کالمشروط“ ہوں، جب تو وہ نوکری ہی ناجائز و گناہ ہے کہ شرطِ فاسد سے اجارہ فاسد ہوا، اور عقدِ فاسد حرام ہے اور دونوں عاقد مبتلائے گناہ، اور اُن میں ہر ایک پر اِس کا فسخ واجب، اور اس صورت میں ملازمین تنخواہ مقرر کے مستحق نہ ہوں گے، بلکہ اجر مثل کے جو مشاہرہ معینہ سے زائد نہ ہو، اجر مثل اگر مسمی سے کم ہے تو اس قدر خود ہی کم پائیں گے، اگرچہ خلاف ورزی اصلاً نہ کریں۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 19، صفحہ 506، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-8585
تاریخ اجراء: 10 ربیع الآخر 1445ھ / 26 اکتوبر 2023ء