شراب کے ہوٹل میں اکاؤنٹنٹ کی جاب کرسکتے ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شراب کے ہوٹل میں اکاؤنٹنٹ کی جاب کرنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میں ایک شراب کے ہوٹل میں اکاؤنٹنٹ کی جاب کرتا ہوں، کیا میرے لیے یہ نوکری کرنا جائز ہے؟
جواب
اگر آپ کے کام میں شراب کی خرید و فروخت کرنا یا اس کی قیمت وصول کرنا یا اس کا حساب کتاب کرنا شامل ہے، تو آپ کا وہاں نوکری کرنا، جائز نہیں کیونکہ شراب کی خرید و فروخت کرنا، اس کی قیمت وصول کرنا یا اس کے حساب و کتاب کا خیال رکھنا بھی ناجائز ہے، کہ یہ گناہ کے کام پر مدد کرنا ہے، اور گناہ کے کام پر مدد کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔ (القرآن، پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت: 2)
اس آیت مبارکہ کے تحت احکام القرآن للجصاص میں ہے
”نھی عن معاونۃ غیرنا علیٰ معاصی اللہ تعالی“
ترجمہ: اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر کسی کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (احکام القرآن، جلد 02، صفحہ 381، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے، فرمایا:
”لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة له“
ترجمہ: رسول اﷲ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے شراب کے بارے میں دس شخصوں پر لعنت فرمائی: اس کو نچوڑنے والے پر، نچوڑوانے والے پر، پینے والے پر، اٹھانے والے پر، جس کی طرف اٹھا کر لائی جائے اس پر، پلانے والے پر، بیچنے والے پر، اس کی قیمت کھانے والے پر، خریدنے والے پر، اور جس کے لیے خریدی جائے اس پر۔ (سنن الترمذی، صفحہ 506، حدیث: 1295، دار ابن کثیر)
شراب کے حساب کتاب والی نوکری کرنے کے متعلق سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”شراب کابنانا، بنوانا، چھونا، اٹھانا، رکھنا، رکھوانا، بیچنا، بکوانا، مول لینا، دلوانا سب حرام حرام حرام ہے۔ اور جس نوکری میں یہ کام یا شراب کی نگہداشت، اس کے داموں کا حساب کتاب کرنا ہو، سب شرعاًناجائز ہیں۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 566، 565 ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوٰی رضویہ میں ہے ”حرام فعل کی اُجرت میں جو کچھ لیا جائے وہ بھی حرام۔۔۔ ناجائز کا ترک واجب اور اجرت اس پر لینا حرام۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 21، صفحہ 187، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4691
تاریخ اجراء: 10 شعبان المعظم 1447ھ/30 جنوری 2026ء