logo logo
AI Search

کرکٹ گراؤنڈ بنا کر کرائے پر دے سکتے ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کرکٹ گراؤنڈ بنا کر کھیلنے والوں کو کرائے پر دینا کیسا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ زید کی ملکیت میں ایک وسیع زمین ہے۔ وہ اس پر کرکٹ گراؤنڈ بنانا چاہتا ہے، جہاں مسلمان اور غیر مسلم آ کر مخصوص وقت کے لیےگراؤنڈ بُک کر کے کرکٹ کھیلیں گے۔ اب سوال یہ تھا کہ کرکٹ کھیلنا تو شرعاً جائز نہیں ہے تو زید کا اس گراؤنڈ کو خاص کرکٹ کھیلنے کے لیے کرکٹ ٹیموں کو کرائے پر دینا کیسا ؟

جواب

اپنا گھر، دکان یا زمین کسی کو کرایے پر دینا جائز ہے اور اس کی اجرت حلال ہے۔ دوسرا شخص کرایے پر لینے کے بعد وہاں کوئی جائز یا ناجائز کام کرتا ہے، اس کا ذمہ دار وہ شخص ہے، نہ کہ زمین کا مالک اور یہاں تو دوسرے شخص یا اشخاص کا کام بھی کرکٹ کا کھیل ہے جو مطلقا ناجائز نہیں بلکہ نمازیں چھوڑنے، جوا کی شرط لگانے و غیرہا کی وجہ سے ناجائز ہو سکتا ہے اور یہ چیزیں کرکٹ کی ماہیت میں داخل نہیں بلکہ خارجی امور ہیں البتہ یہ ضروری ہے کہ ناجائز طریقوں کا فروغ ہوتا ہے تو ایسے کام کے لئے کرایے پر اپنی جگہ دینے سے بھی  بچنا چاہیے اور گناہ میں تعاون کی نیت تو ہرگز نہیں ہونی چاہیے کہ یہ بذاتِ خود گناہ ہوجائے گا۔

اس کی مثال کسی کافر یا فاسق کو مباح کام کے لیے جگہ کرایہ پر دینا ہے جیسے رہائش کے لیے مکان کرایہ پر دینا، اب وہ اس میں اگر کسی گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں تو چونکہ وہ فاعل مختار ہیں تو ان کے حرام افعال کی نسبت انہی تک محدود ہوگی اور کرایہ پر دینے والے کا اس سے کوئی تعلق نہ ہوگا، چنانچہ المحیط البرہانی میں ہے:

”وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا ليسكنها فلا بأس بذلك؛ لأن الاجارة وقعت على أمر مباح فجازت وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير، لم يلحق المسلم في ذلك شيء لأن المسلم لم يؤاجر لها إنما يؤاجر للسكنى، وكان بمنزلة ما لو أجر دارا من فاسق كان مباحا، وإن كان يعصي فيها“

ترجمہ: اور اگر کوئی ذمی (غیر مسلم) کسی مسلمان سے مکان اس نیت سے کرایہ پر لے کہ وہ اس میں رہے، تو اس میں کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ اجارہ (کرایہ کا معاملہ) ایک مباح امر پر واقع ہوا ہے، لہٰذا جائز ہے۔ اگر وہ اس گھر میں شراب نوشی کرے، صلیب کی عبادت کرے یا خنزیر داخل کرے، تو اس میں مسلمان پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ مسلمان نے مکان ان کاموں کے لیے کرایہ پر نہیں دیا بلکہ سکونت (رہائش) کے لیے دیا ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے اگر کوئی شخص اپنا مکان کسی فاسق کو کرایہ پر دے، تو اگرچہ وہ اس میں گناہ کرے، مگر اجارہ بہرحال جائز ہے۔ (المحیط البرھانی، ج7، ص482، 483، دار الكتب العلمية)

نیزہدایہ میں ہے:

”(ومن أجر بيتا ليتخذ فيه بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر بالسواد فلا بأس به) وهذا عند أبي حنيفة۔۔۔وله أن الاجارة ترد على منفعة البيت، ولهذا تجب الأجرة بمجرد التسليم، ولا معصية فيه، وإنما المعصية بفعل المستأجر، وهو مختار فيه فقطع نسبته عنه“

ترجمہ: (اور اگر کسی نے مکان اس غرض سے کرایہ پر دیا کہ اس میں آتش کدہ (بت خانہ)، گرجا گھر یا یہودی عبادت گاہ بنائی جائے، یا وہاں شراب فروخت کی جائے، تو اس میں کوئی حرج نہیں) یہ حضرت امام ابوحنیفہ رَحِمہ اللہ ُ تعالیٰ کا قول ہے۔۔۔امام ابوحنیفہ رَحِمہُ اللہ ُ تعالیٰ کی دلیل یہ ہے کہ اجارہ (کرایہ کا معاملہ) مکان کے نفع پر واقع ہوتا ہے، اسی لیے محض مکان حوالہ کرنے سے ہی کرایہ واجب ہو جاتا ہے، اور اس میں فی نفسہ کوئی گناہ نہیں۔ گناہ تو مستأجر (کرایہ دار) کے فعل سے ہوتا ہے اور وہ اس فعل میں خود مختار ہے، لہٰذا اس گناہ کی نسبت (مالکِ مکان کی طرف) منقطع ہو جاتی ہے۔ (الہدایہ مع فتح القدير، ج10، ص59، 60، دار الفکر)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: HAB-0652

تاریخ اجراء: 16ربیع الآخر 1447ھ/10 اکتوبر 2025 ء