درمیانِ ماہ چھٹیاں ہوں تو ٹیوشن فیس لینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مہینے کے درمیان اسکول کی چھٹیاں ہوجائیں تو ٹیوشن والے پورے مہینے کی فیس لے سکتے ہیں؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ پیپرز كے بعد مہینے كے درمیان میں ہی اسكول كی چھٹیاں ہو جاتی ہیں اور اس وجہ سے ٹیوشن كی چھٹی بھی ہو جاتی ہے، ایسی صورت میں ٹیوشن میں مکمل مہینے کی فیس لے سکتے ہیں؟ یا جتنے دن پڑھائی ہوئی ہے، صرف انہیں دنوں کی فیس لی جائے گی؟
جواب
اجارہ وغیرہ معاملات کا دار و مدار عرف پر ہوتا ہے، حتی کہ جو اُمور عقد میں صراحۃً طے نہ ہوں ان کا تعین بھی عرف کے اعتبار سے کیا جاتا ہے۔ پوچھی گئی صورت میں بھی اکثر و بیشتر یہی عرف دیکھا اور سنا ہے کہ اگرچہ درمیان ماہ پیپرز کے بعد بقیہ ایام کی چھٹیاں ہوجائیں لیکن پھر بھی فیس پورے ماہ کی ہی لی جاتی ہے، اس اعتبار سے پیپرز کے بعد بقیہ ایام کی فیس لینا جائز ہوگا اِلّا یہ کہ وقتِ عقد ہی کہہ دیا جائے کہ مہینے کے درمیان ہونے والی چھٹیوں کی فیس نہیں دی جائے گی، اور اگر کہیں اس کا عرف نہیں تو ایسی صورت میں چھٹی والے ایام کی فیس اسی وقت لی جاسکتی ہے، جبکہ معاہدہ کے وقت لینے کی صراحت کردی گئی ہو ، ورنہ نہیں۔
عقد اجارہ وغیرہ معاملات کا دار و مدار عرف پر ہے۔ مبسوط میں علامہ شمس الائمہ سرخسی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
المعتبر في الإجارة عرف الناس
ترجمہ اجارے میں لوگوں کے عرف وتعامل کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ (المبسوط للسرخسی، الجزء 16، صفحہ 38، طبع: بیروت)
فتاوٰی رضویہ شریف میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں: بالجملہ اجارات وغیرہا معاملات میں مدار تعارف پر ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 450، طبع: رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
لیکن عرف کا اعتبار اس وقت ہے جبکہ اس کے خلاف تصریح نہ ہو، شرح سیر کبیر میں ہے:
و العادة تجعل حكما إذا لم يوجد التصريح بخلافه، فأما عند وجود التصريح بخلافه يسقط اعتباره
ترجمہ: اور جب عُرف و عادت کے خلاف صراحت موجود نہ ہو، تو اسے حَکَم و فَیْصل قرار دیا جائے گا، بہر حال جب عرف کے خلاف صراحت پائی جائے ، تو عرف کا اعتبار نہیں ہوگا۔ (شرح السیر الکبیر، جلد 1، صفحہ 208، طبع: بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے: المعروف کالمشروط قاعدہ کلیہ ہے، مگر جب صراحۃً معروف کی نفی کردے، تو مشروط نہیں رہے گا
لان الصریح یفوق الدلالۃ کما فی الخانیۃ و غیرھا
اس لیے کہ صریح کا درجہ دلالت سے اوپر ہے جیسا کہ خانیہ وغیرہ میں ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 9، صفحہ 646،طبع: رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
عقد اجارہ میں جن معاملات کی صراحت نہ ہو تو ان امور میں عرف کو دیکھا جائے گا، چنانچہ بنایہ شرح الہدایہ میں ہے:
أن الأصل في الإجارة إذا وقعت على عمل فما كان من توابع ذلك العمل و لم يشترط في الإجارة على الأجير فالمرجع فيه العرف
ترجمہ: اور اصول ہے کہ جب اجارہ کسی عمل پر ہو، تو اس عمل سے متعلق جو بھی لوازمات ہوں، اور اجارہ کرتے وقت اجیر پر ان کی شرط بھی نہ لگائی گئی ہو تو اس بارے میں تمام معاملات کا مدار عرف پر ہوگا۔ (البنایہ شرح الھدایہ، جلد 10، صفحہ 294، طبع: بیروت)
محیط برہانی میں علامہ ابن مازہ حنفی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں:
قال الفقيه أبو الليث رحمه الله: ومن يأخذ الأجرة من طلبة العلم في يوم لا درس فيه أرجو أن يكون جائزاً
ترجمہ: فقیہ ابواللیث علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جو چھٹی والے دن کی فیس بچوں سے لیتا ہے، میں امید کرتا ہوں کہ یہ جائز ہو گا۔ (المحیط البرھانی، جلد 6، صفحہ 190، طبع: بیروت)
اسی طرح کے سوال کے متعلق فتاوی بحر العلوم میں ہے: اجارات وغیرہ معاملات میں ان شرائط کے موافق حکم شرعی ہوگا جو متعاقدین میں باہم طے ہوں، اور طے نہ ہونے کی صورت میں اس کے موافق جو اس علاقہ اور اس زمانہ کا عرف ہو۔ فقہ کا یہ عام قاعدہ کلیہ ہے المعروف كالمشروط فتاوی رضویہ ششم، ص 144 میں ہے: اجارات وغیرہ معاملات میں عمل تعارف پر ہے تو طالب علم اور پرنسپل میں داخلہ کے وقت ہی طے ہو گیا ہو کہ مہینہ کے پورے دنوں کی فیس لی جائے گی۔ یا ادھر کا یہی عرف ہوتو پرنسپل کا تعطیل کے دنوں کی فیس وصول کرنا، جائز اور نہ معاملہ ہوا ہو، نہ ایسا عرف ہو، تو ناجائز۔ (فتاوی بحر العلوم، جلد 4، صفحہ 533، طبع: ضیاء اکیڈمی، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0700
تاریخ اجراء: 06 رجب المرجب 1447ھ / 27 دسمبر 2025ء