آن لائن بروکری میں کمیشن کی شرعی حد کیا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آن لائن بروکری کے کام کی ایک ناجائز صورت
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
زید ایک آنلائن کمپنی میں بطورِ بروکر کام کرنا چاہتا ہے، کام کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ زید کمپنی کی مختلف پروڈکٹس کی تصاویر اور مقررہ قیمتِ فروخت اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس(فیسبک، انسٹا گرام وغیرہ) پر لگائے گا اورجب وہاں سے کوئی آرڈر آئے گا تو زید کسٹمر کو بتا دے گا کہ میں اس کمپنی کی طرف سے بطورِ بروکر کام کر رہا ہوں، آپ کے اس آرڈر کے لئے میں نےآپ کا نام و نمبر وغیرہ کمپنی کو سینڈ کر دیا ہے، کمپنی آپ سے رابطہ کر لےگی، زید کسٹمر سے کوئی رقم نہیں لےگا، خرید و فروخت کا سارا معاملہ کمپنی خود کرے گی، زید کو کمپنی کی طرف سے ہر پروڈکٹ کی قیمت خرید اور فروخت بتا دی جائے گی اور قیمت خرید سے جتنا زیادہ نفع ہوگا، اس میں سے 50 فیصد نفع کمپنی کا ہوگا اور 50 فیصد نفع زید کو ملے گا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ زید مذکورہ طریقہ کار کے مطابق اس کمپنی میں بطورِ بروکر کام کر سکتا ہے یا نہیں؟ نیز زید کمپنی کو 1000 روپیہ فیس بھی جمع کروائے گا، جس کے عوض کمپنی زید کو ایک تحریری اجازت نامہ دے گی، تاکہ زید اس کمپنی کی طرف سے بطورِ بروکر کام کر سکے، اور زید کو کمپنی کی اشیاء کی قیمتِ خرید اور فروخت پر مشتمل ایک لسٹ بھی دی جائےگی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ کمپنی کی طرف سے بروکر بننے کے لئے زید ایک ہزار روپیہ فیس دے سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں دے سکتا تو اس کا کوئی درست حل بھی ارشاد فرما دیں۔
جواب
سوال کا جواب جاننے سے پہلے ایک شرعی اُصول سمجھ لیں کہ جب کوئی شخص بطورِ بروکر کسی کا سامان فروخت کروانے میں محنت وبھاگ دوڑ کرے اور اس سامان کو بکوا دے تو وہ اجرتِ مثل (اس کام پر مارکیٹ میں جتنی کمیشن رائج ہو) کا مستحق ہوتا ہے، اجرتِ مثل سے زیادہ رقم لینااس کے لئے جائز نہیں ہوتا۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں زید کو کمپنی کی طرف سےملنے والی کمیشن اگر اجرتِ مثل سےزائد ہے تو زید کا کمپنی کیساتھ اتنی کمیشن کیساتھ معاہدہ کرنا، جائز نہیں ہے۔ اور اگر زید کو کمپنی کی طرف سے ملنے والی کمیشن اجرتِ مثل کے برابر ہے تو تب بھی زید کا کمپنی کیساتھ مذکورہ طریقہ کار کے مطابق معاہدہ کرنے میں ایک شرعی خرابی پائی جارہی ہے کہ کمپنی میں کام کرنے لئے زید کو ایک ہزار روپیہ فیس دینا پڑے گی، اور زید یہ فیس اس لئے دے گا کہ اس کو کمپنی کی طرف سے بطورِ بروکر کام کرنےکا اجازت نامہ مل جائے یعنی زید یہ رقم اپنا کام نکلوانے کے لئے دےگا اور شرعی طور پر اپنا کام بنانے کے لیے صاحبِ امر کو کچھ دینا رشوت کہلاتا ہے، اور رشوت کا لین دینِ اسلام میں ناجائز وحرام اور باعثِ لعنت فعل ہے۔
جائزطریقہ: زید اگر اس کمپنی میں بطورِ بروکر کام کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنی کمیشن اجرتِ مثل مقرر کرے، اور کمپنی میں بطورِ بروکر کام کرنے کے لئے دی جانے والی فیس بھی ختم کروائے کہ شرعی طور پر یہ رقم رشوت ہے۔
بروکر صرف اجرتِ مثل کا مستحق ہوتا ہے، چنانچہ فتاوٰی قاضی خان،الاشباہ والنظائر لابن نجیم ،فتاوٰی عالمگیری اورمحیطِ برہانی میں ہے:
و اللفظ للمحیط: ”في الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن من كل عشرة دنانير كذا، فذلك حرام عليهم‘‘
ترجمہ: دلال اور سِمسَار(مختلف بروکرزکے اجارے) میں اجرتِ مثل واجب ہوتی ہے اور وہ جو یہ شرط لگاتے ہیں کہ ہر دس دینار میں اتنے دینار دینے ہوں گے، تو یہ حرام ہے۔ (محیطِ برھانی، کتاب، جلد7، صفحہ 485، دار الکتب العلمیہ بیروت)
اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”اگر بائع کی طرف سے محنت و کوشش و دوا دوش میں اپنا زمانہ صرف کیا، تو صرف اجر مثل کا مستحق ہوگا، یعنی ایسے کام میں اتنی سعی پر جو مزدوری ہوتی ہے، اس سے زائد نہ پائے گا، اگرچہ بائع سے قرارداد کتنے ہی زیادہ کا ہو۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 453، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
رشوت کی تعریف کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتےہیں:
”الرشوۃ بالکسر:ما یعطیہ الشخص للحاکم وغیرہ لیحکم لہ اویحملہ علی ما یرید“
ترجمہ: رشوت (راء کے زیر کے ساتھ): وہ چیز جو کوئی شخص حاکم یا کسی اور کو اس غرض سے دیتا ہے کہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کرے یا اسے اس کام پر آمادہ کرے جو وہ چاہتا ہے۔ (رد المحتار، کتاب القضاء، جلد 5، صفحہ 362، دار الفكر، بیروت)
اپنا کام بنانے کے لئے جو کچھ دیا جائے وہ رشوت ہے، چنانچہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340 ھ /1921ء) لکھتے ہیں: ”رشوت لینا مطلقاً حرام ہے، کسی حالت میں جائز نہیں۔ جو پرایا حق دبانے کے لیے دیا جائے رشوت ہے، یوہیں (یونہی) جو اپنا کام بنانے کے لیے حاکم کو دیا جائے رشوت ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 23، صفحہ 597، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
فقیہِ عصر، حضرت مولانا مفتی نظام الدین رضوی دامت برکاتہم العالیہ اسی طرح کی کمپنیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اس کے ناجائز ہونے کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ فیس کی شرعی حیثیت رشوت کی ہے، جو یقینا ًحرام ہے، وجہ یہ ہے کہ اپنا یا کسی کا بھی کام بنانے کے لیے ابتداء ً صاحبِ امر کو کچھ روپے وغیرہ دینا رشوت ہے اور یہاں کمپنی کو فیس اس لیے دی جاتی ہے کہ اسے اجرت پر ممبر سازی کا حق دے دیا جائے اور فیس کے مقابل کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ “ (ماہنامہ اشرفیہ، شمارہ مئی 2008ء، صفحہ38)
رشوت دینے اور لینے والے دونوں شخصوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے لعنت فرمائی، چنانچہ سنن ابی داؤد میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
”لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم الراشی والمرتشی“
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رشوت دینے اور لینے والے پر لعنت فرمائی۔(سنن ابی داؤد، باب فی کراھیۃ الرشوۃ، جلد 3، صفحہ 300، المکتبۃ العصریہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0210
تاریخ اجراء: 06 شعبان المعظم 1447ھ/26 جنوری 2026 ء