کیا درزی اپنی دکان میں کرسچن کاریگر رکھ سکتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

درزی کا اپنی دکان میں کرسچن کاریگر رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

درزی کا اپنی دکان میں کرسچن کاریگر رکھنا کیسا ہے؟

جواب

عیسائی کاریگر رکھنا جائز ہے، جبکہ صرف کام کی حدتک معاملہ رکھاجائے، لیکن اس کے ساتھ دلی محبت اور دوستی و روابط و غیرہ رکھنا جائز نہیں۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ ﳕ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍؕ-وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ

 ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، وہ (صرف) آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے بیشک ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (القرآن، پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت: 51)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”اس آیت میں یہود و نصارٰی کے ساتھ دوستی و موالات یعنی اُن کی مدد کرنا، اُن سے مدد چاہنا اور اُن کے ساتھ محبت کے روابط رکھنا ممنوع فرمایا گیا۔ ۔۔۔لہٰذا مسلمانوں کو کافروں کی دوستی سے بچنے کا حکم دینے کے ساتھ نہایت سخت وعید بیان فرمائی کہ جو ان سے دوستی کرے وہ انہی میں سے ہے، اس بیان میں بہت شدت اور تاکید ہے کہ مسلمانوں پر یہود و نصاریٰ اور دینِ اسلام کے ہرمخالف سے علیحدگی اور جدا رہنا واجب ہے۔“ (صراط الجنان، جلد2، صفحہ 448، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ”موالات ہر کافر سے مطلقاً حرام ہے۔۔۔ حاش کسی قسم کفار سے محبت کرنے کا اسلام نے حکم نہ دیا، باپ بیٹے کافر ہوں تو ان سے بھی محبت کو صریح حرام فرما دیا اور دلی محبت و اخلاص و اتحاد کرنے کو تو جا بجا صاف صاف ارشاد واعلام فرمادیا کہ وہ انہیں کافروں میں سے ہیں، انہیں ا و قیامت پر ایمان نہیں، انہیں ا و رسول وقرآن پر ایمان نہیں، بالجملہ وہ کسی طرح مسلمان نہیں، ہاں کافروں میں فرق ہوگا تو یہ کہ جس کا کفر اشد اس سے معاملات کا حرام وکفر ہونا اشد وزائد کہ علتِ حرمت کفر ہے علت جتنی زیادہ حکم سخت تر۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد14، صفحہ153، 155، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

کفار کو اجیر رکھنے کے متعلق النتف فی الفتاوی میں ہے

واما الذي هو غير مكروه فهو على ستة أوجه۔۔۔ استئجار الكفار للخدمة والصناعة من اي دين كانوا

 ترجمہ: غیر مکروہ اجارے چھ طرح کے ہیں۔ (ان میں سے ایک یہ ہے کہ ) خدمت اور کاریگری کے لیے کافر کو اجیر رکھنا چاہے وہ کسی بھی دین سے ہو۔ (النتف فی الفتاوی، کتاب الاجارۃ، جلد2، صفحہ 566، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے

”واسلامه لیس بشرط أصلا فتجوز الاجارۃ والاستجار من المسلم والذمی والحربی و المستأمن“

ترجمہ: اجارے کے لیے مسلمان ہونا اصلاً شرط نہیں، مسلمان، ذمی، حربی اور مستامن کو اجارے پر رکھنا اور ان سے اجارہ کرنا جائز ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الاجارۃ، جلد4، صفحہ410، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "غیر ذمی سے بھی خرید و فروخت، اجارہ و استیجار، ہبہ و استیہاب بشروطہا جائز۔۔۔ اسے نوکر رکھنا جس میں کوئی کام خلاف شرع نہ ہو۔۔۔ ایسے ہی امور میں اجرت پر اس سے کام لینا۔" (فتاوی رضویہ، جلد14، صفحہ421، ر ضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-4574

تاریخ اجراء: 06رجب المرجب1447ھ/27دسمبر2025ء