کنڈوم بیچنے کی ویب سائٹ بنانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کنڈوم بیچنے کی ویب سائٹ بنا کر دینا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک ویب ڈویلپر ہوں، میرا ایک کلائنٹ چاہتا ہے کہ میں اس کے لیے ایک ایسی ویب سائٹ تیار کروں جس پر وہ کنڈوم فروخت کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ
(1) شرعی اعتبار سے کنڈوم بیچنا جائز ہے؟
(2) کیا ایسی ویب سائٹ بنا کر دینا جائز ہے جس پر صرف یہی پروڈکٹ فروخت ہو گی؟
(3) اور اگر کوئی معاذ اللہ! گناہ کے لیے آن لائن خریدے گا، تو کیا اس کا گناہ بیچنے والے اور میرے اوپر بھی آئے گا؟
جواب
شریعتِ اسلامیہ کا ایک بنیادی اُصول ہے کہ ہر وہ چیز جو ناجائز کام کے لیے متعین ہو یا جس کا مقصودِ اعظم ہی گناہ کا حصول ہو، تو اسے فروخت کرنا یا اس پر اجارہ کرنا،ناجائز و گناہ ہےکہ یہ گناہ پر براہِ راست معاونت(Direct Support) کرنا ہے اور قرآن پاک میں گناہ پر معاونت کرنے سے واضح طور پر منع فرمایا گیا ہے، البتہ ایسی چیز جو گناہ کے لیے متعین نہ ہو اور معصیت (گناہ) اور غیرِ معصیت (جائز کام)دونوں میں استعمال ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو اور خریدنے یا بنوانے والی کی نیت بھی معلوم نہ ہو، تو اس کو بیچنا یا بنا کر دینا بلا شبہ جائز ہے اور یہ گناہ پر مدد کرنے کے زمرے میں نہیں آئے گا۔
اس اُصول کی روشنی میں آپ کے تینوں سوالات کا بالترتیب جواب یہ ہے کہ (1) کنڈوم (Condom) ایسی پروڈیکٹ (Product) ہے جس کا استعمال گناہ کے لیے متعین نہیں، بلکہ اس کا جائز استعمال بھی ہے، لہٰذا فی نفسہ کنڈوم بیچنا جائز ہے، اگرچہ لینے والے کی نیت معلوم نہ ہو، ہاں! اگر کسی کے بارے میں واقعتاً معلوم ہو کہ وہ گناہ کے لیے ہی خرید رہا ہے، تو ایسی صورت میں گناہ پر براہ راست معاونت کی وجہ سے بیچنا جائز نہیں۔
(2) جہاں تک اس کے لیے ویب سائٹ بنا کر دینے کا معاملہ ہے، تو اگر ویب سائٹ (Website) اس طرح بنائی جائے کہ اس میں کوئی بھی غیر شرعی بات، فحش مناظر، عورتوں کی تصاویروغیرہ نہ ہوں، تو ویب سائٹ بنا کر دینابھی جائز ہے کہ کسٹمر کو فقط جائز تجارتی کاموں (Commercial Operations) کے لئے ویب سائٹ بنا کردینا جائز ہے، شرعاً اس میں حرج نہیں، جبکہ ممانعت کی کوئی اور شرعی وجہ نہ ہو۔
(3) اور اگر معاذ اللہ! کوئی شخص گناہ کے لیے خریدے اور بیچنے والے کو لینے والے کی نیت کا علم نہ، تو ایسی صورت میں بائع (Seller) یا آپ ویب ڈویلپر (Web Developer) پر کوئی گناہ نہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص چھری، چاقو (Knife)، وغیرہ فروخت کرے، جس کے متعلق یہ معلوم نہیں کہ وہ اس کو سبزی، پھل، وغیرہ کاٹنے میں استعمال کرے گایا کسی کو ایذا پہنچانے کے لئے، تو ایسے شخص کو بیچنا جائز ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ اگر بیچنے والے کو معلوم ہوکہ فلاں شخص معاذ اللہ! گناہ کے لیے ہی اس پروڈکٹ کو خرید رہا ہے، تو ایسی صورت میں اگر وہ اس کو بیچے گا، تو اس بیچنے والے پر ضرور گناہ ہو گا۔
جزئیات فقہ:
اُصول یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو گناہ کے لیے متعین ہو یا جس کا مقصودِ اعظم ہی گناہ کا حصول ہو، تو اسے فروخت کرنا یا اس پر اجارہ کرنا، ناجائز و گناہ ہے کہ یہ گناہ پر براہ راست معاونت کرنا ہے، چنانچہ اِسی اُصول کو شرح و بسط کے ساتھ بیان کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) جدّ الممتار میں لکھتے ہیں:
أن معنی ما تقوم المعصیۃ بعینہ أن یکون فی أصل وضعہ موضوعاً للمعصیۃ أو تکون ھی المقصودۃ العظمیٰ منہ فانہ اذا کان کک یغلب علی الظن أن المشتری انما یشتریہ لاتیان المعصیۃ لأن الأشیاء انما تقصد للاستمتاع بھا فما کان مقصودہ الأعظم تحصیل معصیۃ معاذ اللہ تعالیٰ کان شراؤہ دليلا واضحاً علیٰ ذالک القصد فیکون بیعہ اعانۃ علی المعصیۃ… و کذالک ما لم یکن موضوعاً لذالک بعینہ و لا ما ھو المقصود الأعظم منہ لکن قامت قرینۃ ناصۃ علیٰ أن مقصود ھذا المشتری انما یستعملہ معصیۃ
ترجمہ: وہ معنی جس کے عین کے ساتھ معصیت قائم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ شے اپنی اصل وضع میں معصیت کے لیےوضع کی گئی ہو یا اس کا بڑا مقصود معصیت ہو، تو جب اس طرح ہوگا تو اس بات کا ظن غالب ہوجائے گا کہ خریدار اس چیز کو معصیت کا ارتکاب کرنے کے لیے ہی خرید رہا ہے، کیونکہ چیزوں کی خرید و فروخت کا قصد اُن سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہی کیاجاتا ہے، تو جس کا بڑا مقصود معاذ اللہ معصیت کو حاصل کرنا ہو، تو اس کا خریدنا اس قصد پر واضح دلیل ہے، تو ایسے شخص کے ہاتھ اس شے کو بیچنا معصیت پر مدد کرنا ہوگا اور یہی حکم اس صورت میں ہے کہ کوئی چیز بعینہٖ معصیت کے لیےتو وضع نہ کی گئی ہو اور نہ ہی اس کا مقصود اعظم معصیت ہو لیکن کوئی ایسا قرینہ قائم ہو جو اس بات کو واضح کرنے والا ہو کہ اس خریدار کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ اسے معصیت کے طور پر استعمال کرے۔ (جد الممتار علیٰ رد المحتار، ملخصاً، جلد 07، صفحہ 76، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اور گناہ کے کام پر مدد کرنا گناہِ کبیرہ ہے جس سے خداوندِ قُدُّوس نے منع فرمایا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ- اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ
ترجمہ کنز العرفان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے۔(القرآن الکریم، پارہ 06، سورۃ المائدہ، الایۃ: 02)
اس آیتِ مبارکہ کے تحت امام ابو بکر احمد بن علی جصاص رازی حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 370ھ / 980ء) لکھتے ہیں:
نھی عن معاونۃ غیرنا علیٰ معاصی اللہ تعالیٰ
ترجمہ: اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر کسی کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (احکام القرآن للجصاص، جلد 3، صفحہ 296،دار احياء التراث العربی، بیروت)
علامہ ابو المَعَالی بخاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 616ھ / 1219ء) نے لکھا:
الاعانۃ علی المعاصی و الفجور و الحث علیھا من جملۃ الکبائر
ترجمہ: گناہوں اور فسق و فجور کےکاموں پر مدد کرنا اور اس پر ابھارنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ (المحیط البرھانی، جلد 8، صفحہ 312، دار الكتب العلميہ، بيروت)
جو چیز گناہ کے کام کے لیے متعین نہ ہو، اسے بیچنا یا اس پر اجارہ کرنا گناہ پر مدد کرنے کے زمرے میں نہیں آتا، چنانچہ امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ جد الممتار میں لکھتے ہیں:
ان الشئی اذا صلح فی حد ذاتہ لان یستعمل فی معصیۃ و فی غیرھا و لم یتعین للمعصیۃ فلم یکن اعانۃ علیھا لاحتِمال ان یستعمل فی غیر المعصیۃ و انما یتعین بقصد القاصدین و الشک لا یؤثر
ترجمہ: بیشک جب کوئی چیز فی نفسہ معصیت اور غیرِ معصیت میں استعمال ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو اور گناہ کے لیے متعین نہ ہو، تو (اسے بیچنا یا اجارہ پر دینا) معصیت پر مدد نہیں ہے، کیونکہ احتمال ہے کہ وہ غیرِ معصیت میں استعمال ہو اور متعین تو ارادہ کرنے والوں کے ارادے سے ہی ہو گی اور محض شک مؤثر نہیں ہو سکتا۔ (جد الممتار، جلد 7، صفحہ 75, 76، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
لہٰذا جب وہ گناہ کے لیے متعین نہیں، تو اس کے لیے جائز چیزوں پر مشتمل ڈیجٹل پلیٹ فارم بنا کر دینا بھی گناہ نہیں، اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو مکان کرایہ پر دے، اگر کرایہ دار اس میں شراب بیچے، تو اس کا گناہ مالکِ مکان پر نہیں ہوگا،جبکہ معصیت پر معاونت کی نیت نہ ہو، جیساکہ علامہ بُر ہانُ الدین مَرْغِینانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593ھ / 1196ء) نے ہدایہ میں لکھا اور بحر الرائق، مجمع الانہر، رد المحتار وغیرہا کتب فقہ میں ہے،
و اللفظ للاول: و من أجر بيتا ليتخذ فيه بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر بالسواد فلا بأس به… لأن الاجارة ترد على منفعة البيت، و لهذا تجب الأجرة بمجرد التسليم، و لا معصية فيه، و إنما المعصية بفعل المستأجر، و هو مختار فيه فقطع نسبته عنه۔ ملخصاً
یعنی: جس نے گاؤں میں مکان کرایہ پر دیا تاکہ اس میں آتش کدہ یا گِرجا یا کلیسا بنایا جائے یا وہاں شراب فروخت کی جائے تو وہ کرایہ پر دینا جائز ہے، کیونکہ اجارہ کا انعقاد مکان کی منفعت پر ہوا ہے، اسی وجہ سے اُجرت محض سونپنے سے ہی لازم ہو جاتی ہے اور اس میں کوئی گناہ نہیں ہے، گناہ تو کرایہ دار کے فعل سے متعلق ہے اور وہ اس میں صاحبِ اختیار ہے،تو اس سے گناہ کی نسبت منقطع ہوگئی۔ (الهداية في شرح البداية، جلد 04، صفحہ 378، دار احیاء التراث، بیروت)
جب مذکورہ کام پر اجارہ جائز ہے، تو اس کی اجرت بھی حلال ہے، چنانچہ جائز کام کی اجرت کے متعلق کیے گئے ایک سوال کے جواب میں امام اہلسنت رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہِ لکھتے ہیں: بہرحال نفسِ اجرت کہ کسی فعلِ حرام کے مقابل نہ ہو، حرام نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 501، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اور اگر کوئی گناہ کے لیے خریدے گا، تو وہ خود ہی اس کا ذمہ دار ہوگا، وبال بھی اسی پر آئے گا، بیچنے والے یا ویب سائٹ بنا کر دینے والے پر نہیں آئے گا،چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى
ترجمہ کنز العرفان: کوئی بوجھ اٹھانے والا آدمی کسی دوسرے آدمی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (پارہ 08، سورۃ الانعام، الایۃ:164)
اس کے تحت تفسير ابن عطیہ میں ہے:
أي لا تحمل حاملة حمل أخرى، و إنما يؤخذ كل واحد بذنوب نفسه
یعنی: کوئی بھی جان کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گی، بلکہ ہر شخص کو خود اس کے گناہوں کے بدلے میں پکڑا جائے گا۔(تفسير ابن عطية، جلد 05، صفحہ 205، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
مفتی محمد وقار الدین رضوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1413ھ / 1992ء) لکھتے ہیں: (ویڈیو) کیسٹ صرف معصیت ہی میں نہیں، بلکہ نیک کاموں میں بھی استعمال ہوتاہے، لہذا کیسٹ منگانے اور بیچنے میں کوئی حرج نہیں، استعمال کرنے والا جس جگہ استعمال کرے گا، وہ اس کاذمہ دار ہوگا۔ (وقار الفتاوی، جلد 1، صفحہ 220، بزم وقار الدین، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9742
تاریخ اجراء: 30 رجب المرجب 1447ھ / 20 جنوری 2026 ء