آفس سے مسجد دور ہو تو جمعہ چھوڑنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مسجد آفس سے دور ہو اور وقفہ ٹائم کم ملے تو جمعہ کی نماز کا کیا حکم ہے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مسجد آفس سے دور ہو اور زیادہ وقفہ نہ ملتا ہو تو جمعہ کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب
شہر میں مقیم مکلف مرد پر جمعہ فرض ہے، جمعہ کے لئے بہرحال جانا فرض ہے اگرچہ کتنا ہی فاصلہ ہو اور جمعہ چھوڑنا حرام ہے، یہاں تک کہ اگر کہیں جمعہ پڑھنے نہ دیا جائے تو ایسی نوکری جائز نہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ- ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿۹﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو! جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ (پارہ 28، سورۃ الجمعۃ، الآیۃ: 9)
تفسیر خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں ہے: اس آیت سے نمازِ جمعہ کی فرضیّت اور بیع وغیرہ مشاغلِ دنیویہ کی حرمت اور سعی یعنی اہتمامِ نماز کا وجوب ثابت ہوا اور خطبہ بھی ثابت ہوا۔ مسئلہ: جمعہ مسلمان، مرد، مکلّف، آزاد، تندرست، مقیم پر شہر میں واجب ہوتا ہے۔ (تفسیر خزائن العرفان، صفحہ 1025، مکتبۃ المدینہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2371
تاریخ اجراء: 06 صفر المظفر1447ھ / 01 اگست2025ء