مخلوط آمدنی والے سے تنخواہ لینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مخلوط آمدنی والے کے پاس نوکری کر کے اس سے اجرت لینے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اِس بارے میں کہ ایک شخص کسی کمپنی میں کام کرتا ہے، اُس کے ذمہ جو کام ہیں، وہ سب جائز ہیں، کوئی خلافِ شرع کام نہیں کرنا پڑتا، البتہ کمپنی کے اخراجات کیلئے حلال و حرام دونوں طرح کا پیسہ استعمال ہوتا ہے، اِسی طرح ورکرز کو سیلری بھی بسا اوقات اُسی مال سے دی جاتی ہے، پوچھنا یہ تھا کہ اگر حلال و حرام مال سے اجرت دی جائے، تو کیا اُجرت لینا جائز ہے؟
جواب
جس کے پاس حلال و حرام مال جمع ہوں، مثلاً جائز کاروبار بھی کرتا ہے، اور سود یا رشوت وغیرہ حرام بھی لیتا ہے، تو ایسے شخص کے پاس جائز ملازمت کرنا جائز ہے، اور ایسا شخص جو اجرت دے، اُس کے بارے میں جب تک یقینی طور پر یہ معلوم نہ ہوجائے، کہ یہ جو ہمیں دے رہا ہے، یہ بعینہ مالِ حرام ہے، اُس وقت تک اُس سے اُجرت لینا بھی شرعاً جائز ہے، اِس میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ! اگر یقینی طور پر معلوم ہوجائے، کہ اُجرت بعینہ مالِ حرام سے دی جارہی ہے، (جو مال اس نے سود یا رشوت وغیرہ حرام معاملے میں لیا ہے، وہی مال دے رہا ہے) تو ایسی صورت میں اُس مال سے اجرت لینا جائز نہیں ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں بھی یہی حکم ہوگا، یعنی جس مال سے سیلری دی جارہی ہے، اگر اُس کے بارے میں یقینی طور پر معلوم ہوجائے، کہ یہ بعینہ مالِ حرام ہے، تو ایسی صورت میں اُس مال سے سیلری لینا جائز نہیں ہے، اور اگر اُس مال کا بعینہ حرام مال ہونا یقینی طور پر معلوم نہ ہو، تو ایسی صورت میں اُس مال سے سیلری لیناجائز ہے۔
فتاوی رضویہ میں ہے جس مال کا بعینہ حرام ہونا معلوم ہو، اُس سے اُجرت لینا جائز نہیں۔۔۔۔ ورنہ فتوی مطلقاً جواز پر ہے یعنی اگر چہ اُس کے پاس اموال حرام ہونا یقینی ہو مگر یہ روپیہ کہ اِس کرایہ میں دیتا ہے بعینہ اِس کا حرام ہونا معلوم نہیں، تو لینا جائز اگر چہ اُس کا اکثر مال حرام ہی ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 443، 444، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید ایک اور مقام پر ہے جس کے پاس مال حلال و حرام مختلط ہو مثلاً تجارت بھی کرتا ہے اور سود بھی لیتا ہے، اُس کے یہاں کی نوکری شرعاً جائز ہے اور جو کچھ بھی وہ دے اُس کے لینے میں حرج نہیں جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ یہ چیز جو ہمیں دے رہا ہے، بعینہ مالِ حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 500، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4844
تاریخ اجراء: 26 رمضان المبارک 1447ھ / 16 مارچ 2026ء