logo logo
AI Search

کافر کے ذبح کیے جانور کا گوشت بنا کر دینا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

غیر مسلم کے ذبح کیے ہوئے جانور کا گوشت بنا کر دینا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی ہندو شخص اپنے بتوں کے چڑھاوے کے لئے کسی جانور کو خود اپنے ہاتھ سے ذبح کر دے، تو کیا بطورِ قصاب، اجرت پر اس جانور کا صرف گوشت بنا کر دیا جا سکتا ہے، جبکہ ذبح کرنے میں اس قصاب کا کوئی کردار نہ ہو ؟

جواب

جس جانور کو کسی غیر کتابی کافر جیسے کہ ہندو یا مجوسی وغیرہ نے ذبح کیا ہو، یہ جانور حلال نہیں، بلکہ مردار ہے۔ اور کفار بھی چونکہ فروعی شرعی احکام کے مکلف ہوتے ہیں، تو اس کا کھانا شرعاً غیر مسلم کے لئے بھی جائز نہیں، لہذا اس جانور کا گوشت بنا کر دینا در جِ ذیل دو وجوہات کی بنیاد پر شرعاً ناجائز و ممنوع ہے:

(1) ۔ کافر کو کھانے کے لئے مردار کا گوشت بنا کر دینا اس کو کھانے پر مدد کرنا ہے، جبکہ ہماری شریعتِ مطہرہ نے گناہ پر معاونت کو بھی ناجائز و گناہ قرار دیا ہے اور گناہ پر اجارہ بھی جائز نہیں، لہذا کافر کو مردار جانور کا گوشت بنا کر دینا، خواہ اجرت پر ہو یا بلا اجرت، کسی صورت بھی جائز نہیں ۔

(2) ۔ شراب اور مردار جانور وغیرہ چونکہ نجس ہوتے ہیں اور مردار کا گوشت بنانے میں بلا ضرورتِ شرعیہ اس کو ہاتھ لگانا اور اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھنا پایا جائے گا، جوکہ شرعاً جائز نہیں، کیونکہ بلاحاجت نجاست سے متلوث ہونا، جائز نہیں، اور نجاست کو یوں اٹھانا بھی جائز نہیں جیسا کہ فقہائے کرام نے فرمایا کہ مردار کو اٹھا کر کتوں کے آگے بھی نہیں ڈال سکتے، کیونکہ اس میں بلا ضرورتِ شرعی نجاست کو اٹھانا پایا جا رہا ہے۔

غیر کتابی کافر کا ذبیحہ حلال نہیں ، بلکہ مردار ہے، چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے۔ (پارہ 6، سورۃ المائدہ ، آیت 5)

اس آیتِ مبارکہ کے تحت البحر المحیط میں ہے: ”والظاهر أن ذبيحة المجوسي لا تحل لنا لأنهم ليسوا من الذين أوتوا الكتاب“ ترجمہ: ظاہر یہ ہے کہ مجوسی کا ذبیحہ ہمارے لیے حلال نہیں، کیونکہ وہ اہلِ کتاب میں سے نہیں۔ (البحر المحیط، جلد 4، صفحہ 183، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

در مختار شرح ِ تنویر الابصار میں ہے: ”(لا) تحل (ذبيحة) غير كتابي من (وثني ومجوسي)“ ترجمہ: غیر کتابی جیسے کہ وثنی اور مجوسی کا ذبیحہ حلال نہیں۔ (در مختار علی تنویر الابصار ، صفحہ 640، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

امامِ اہلسنت، اعلی حضرت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”جو قصدا تکبیر نہ کہے گا یا حرام الذبیحۃ مثلا ہندو، مجوسی، مرتد ہوگا تو جانور حرام مردار ہوجائے گا۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 244، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

کفار بھی فروعات کے مکلّف ہیں اور مردار کھانا ان کے لئے بھی حرام ہے، چنانچہ البحر الرائق میں ہے: ”هما حرامان عليهما لأن الكفار مخاطبون بالحرمات، وهو الصحيح من مذهب أصحابنا“ ترجمہ: یہ دونوں (شراب اور مردار) کفار پر بھی حرام ہیں، کیونکہ یہ حرام امور (سے بچنے) کے مکلف ہیں اور ہمارے اصحاب کا صحیح مذہب یہی ہے۔ (البحر الرائق، جلد 6، صفحہ 117، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں:’’صحیح یہ ہے کہ کفار بھی مکلّف با لفروع ہیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 382، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

کافر کو مردہ جانور کا گوشت بنا کر دینا، گناہ پر معاونت ہے، جو کہ شرعاً سخت ناجائز و گناہ ہے ، چنانچہ ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ شدید عذاب دینے والا ہے۔ (پارہ 6، سورۃ المائدہ ، آیت 2)

اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں امام ابوبکر احمد بن علی قاضی جصاص حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 370ھ/ 980ء) لکھتے ہیں: ”نهي عن معاونة غيرنا على معاصي اللہ تعالى“ ترجمہ: (مذکورہ آیت مبارکہ میں) اللہ تعالیٰ کی نافرمانی والے کاموں پر دوسروں کی مدد کرنے سے ممانعت کی گئی ہے۔ (أحكام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 381، دار الكتب العلمية، بيروت)

امام اہل سنت، اعلی حضرت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”معصیت پر اعانت خود ممنوع و معصیت (ہے) ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 149، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

البنایہ شرح الھدایہ میں ہے: ”(ولا أن يسقي ذميا): أي ولا يجوز، لأن فيه اقترابا للخمر، وهو مأمور بالاجتناب عنه وإعانة على المعصية“ ترجمہ: ذمی (کافر ) کو شراب پلانا بھی جائز نہیں، کیونکہ اس میں شراب سے قربت اختیار کرنا ہے، حالانکہ اس سے اجتناب کا حکم ہے اور اس لئے بھی یہ جائز نہیں کہ یہ معصیت پر اعانت ہے ۔ (البنایہ شرح الھدایہ، جلد 12، صفحہ 398، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

یونہی فتاوی عالمگیری میں ہے: ”ويوقد تحت قدره إذا لم يكن فيها ميتة أو لحم خنزير“ ترجمہ: اور اس (کافر باپ) کی ہانڈی کے نیچے مسلمان بیٹا آگ جلا سکتا ہے، جبکہ اس میں مردار یا خنزیر کا گوشت نہ ہو۔ (الفتاوی العالمگیریہ ، جلد 5، صفحہ 431، مطبوعہ مطبعۃ مصطفی البابی، مصر)

معصیت پر اجارے کے متعلق شمس الآئمہ، امام سَرَخْسِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:483ھ/1090ء) لکھتے ہیں: ”ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو؛ لأنه معصية والاستئجار على المعاصي باطل“ ترجمہ: گانے، نوحہ کرنے، مزامیر یا طبلہ بجانے وغیرہ پر اور لہو کے کسی کام پر اجارہ جائز نہیں، کیونکہ یہ معصیت ہے اور معصیت پر اجارہ باطل ہے ۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 16، صفحہ 37، 38، مطبوعہ دار المعرفہ، بیروت )

امامِ اہلسنت، اعلی حضرت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”وہ (ملازمت) جس میں خود ناجائز کام کرنا پڑے... ایسی ملازمت خود حرام ہے، اگرچہ اس کی تنخواہ خالص مالِ حلال سے دی جائے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 515، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بلا ضرورتِ شرعی نجاست کو اٹھانے کے متعلق امام قوام الدين الكاكی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 749ھ) لکھتے ہیں: ”لا تحمل الميتة إلى الكلب ولو نقل الكلب إلى الميتة لا بأس به، وكذا الفأرة لا تحمل إلى الهرة، ولكن الهرة تحمل إلى الفأرة كيلا تصير حاملا للنجاسة بلا ضرورة ترجمہ: مردار كو كتے کے پاس اٹھا کر نہیں لا یا جائے گا اور اگر کتے کو مردار کی جانب لے آئے، تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، یونہی چوہیا کواٹھا کر بلی کی جانب نہیں لایا جائے گا، بلکہ بلی کو چوہیا کی جانب لائیں گے، تاکہ یہ شخص بلا ضرورت، نجاست کو اٹھانے والا نہ ہو جائے۔ (معراج الدرایہ فی شرح الھدایہ، جلد 8، صفحہ 198، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

تبیین الحقائق میں ہے: ”قال شيخ الإسلام خواهرزاده قالوا يجب أن تحمل الخل إلى الخمر ولا تحمل الخمر إلى الخل كي لا يصير حاملا للنجاسة من غير حاجة ونظير هذا ما قالوا في الميتة أن تدعو الكلاب إلى الميتة ولا تحمل الميتة إلى الكلاب“ ترجمہ: شیخ الاسلام خواہر زادہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فقہائے کرام سے نقل فرماتے ہیں کہ سرکے کو شراب کی جانب اٹھا کر لانا لاز م ہے، جبکہ شراب کو اٹھا کر سرکے کی جانب نہیں لایا جائے گا، تاکہ یہ بلا ضرورت نجاست کو اٹھانے والا قرار نہ پائے اور اس کی نظیر وہ مسئلہ ہے کہ کتوں کو مردار کی جانب لایا جائے گا، جبکہ مردار کو کتوں کی جانب نہیں لایا جائے گا۔ (تبیین الحقائق شرح کنزا لدقائق، جلد 7، صفحہ 108، مطبوعہ کوئٹہ)

امامِ اہلسنت، اعلی حضرت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”جس کسی نے یہ کہا کہ سور اور مردار کا گوشت پکانے اور غیر مسلموں کو کھلانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا یا کچھ مضائقہ نہیں اور خطرہ نہیں وہ شخص مذکور غلط بات کہنے کا مرتکب ہوا بغیر علم و تحقیق کے اس قسم کا فیصلہ صادر کر دینا ہر گز مناسب نہیں بغیر شرعی مجبوری کے گندگیوں سے آلودہ ہونا سخت ممنوع اور ناجائز ہے ۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 616، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: Pin-7169

تاریخ اجراء: 07 صفر المظفر 1448ھ/22 جولائی 2026ء