کیا زمین کرایہ پر دینا حدیث سے ثابت ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
کیازمین کرایہ پر دینا حدیث سے ثابت ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
دورِ رسالت مآب علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں زمین کاشت کے لئےکرائے پر دی جاتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے اس کی اجازت عطا فرمائی ہے چنانچہ مشکوٰۃ شریف میں ہے: أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم نهى عن المزارعة و أمر بالمؤاجرة وقال: لا بأس بها‘‘ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے مزارعت سے منع فرمایا اور زمین کرایہ پر دینے کی اجازت دی اور فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ (مشکوۃ المصابیح، جلد2، صفحہ899، حدیث نمبر 2981، المکتب الاسلامی بیروت)
اس کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: اس ممانعت کی وجہ پہلے بیان ہو چکی کہ اگر کسی خاص حصۂ زمین کی پیداوار کو اجرت قرار دیا جائے تو مزارعت ممنوع ہے ورنہ جائز، یہاں وہی ممنوع صورت مراد ہے۔ یعنی زمین کو نقد، روپیہ پر دینا بلاکراہت درست(ہے)۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 4، صفحہ 334، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2521
تاریخ اجراء: 15 ربیع الآخر 1447ھ / 09 اکتوبر 2025ء