انٹرنیٹ کمپنی میں کام کرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی میں کام کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میری ایک کمپنی میں ملازمت ہے جو انٹرنیٹ/ڈیٹا وائی فائی فراہم کرتی ہے، جبکہ زیادہ تر صارفین اس کو گانوں، فلموں اور دیگر غیر شرعی کاموں میں استعمال کرتے ہیں، کیا ایسی ملازمت کرنا جائز ہے؟
جواب
ڈیٹا یا وائی فائی فراہم کرنے والی کمپنی میں ملازمت کرنا یا ایسی کمپنی میں کام کرنا جہاں انٹرنیٹ سروس دی جاتی ہو، جائز ہے، بشرطیکہ برے کام میں مدد دینے کی نیت نہ ہو، کیونکہ انٹرنیٹ یا وائی فائی ایک عام چیز ہے، جس کا استعمال اچھے اور برے دونوں کاموں میں ہو سکتا ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص اسے غلط استعمال کرے گا تو اس کا گناہ اسی استعمال کرنے والے پر ہوگا، سروس دینے والے یا ملازم پر نہیں۔
ڈیٹا وائی فائی اور کیبل کے کام میں فرق ہے: کیبل والے کام میں اسے ناجائز چینل بھی سیٹ کرکے دینے ہوتے ہیں، اس لئے وہ ناجائز ہے جبکہ وائی فائی میں یوزر خود استعمال کرتا ہے، وہ جو بھی کرے، اُس کا گناہ اِس پر نہیں ہے۔
ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے: ﴿اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى﴾ ترجمہ: (وہ بات یہ ہے) کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ (القرآن، پارہ 27، سورۃ النجم: 38)
گناہ کے کام میں مدد کرنے کے متعلق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔ (القرآن، پارہ 06، سورۃ المائدۃ، آیت: 02)
اس آیت مبارکہ کے تحت احکام القرآن للجصاص میں ہے: ”نھی عن معاونۃ غیرنا علیٰ معاصی اللہ تعالی“ ترجمہ: اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر کسی کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (احکام القرآن، جلد 02، صفحہ 381، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
در مختار میں ہے "(و) جاز (إجارة بيت۔۔۔۔۔ ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر)" ترجمہ: گھر کرائے پر دینا جائز ہے۔۔۔۔کہ اس گھر میں آتش کدہ بنایا جائے یا کنیسہ ( یہودیوں کی عبادت گاہ ) یا گرجا گھر ( عیسائیوں کی عبادت گاہ ) یا اس میں شراب فروخت کی جائے گی۔
اسکے تحت علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: "لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبيته عنه" ترجمہ: کیونکہ اجارہ، گھر کی منفعت پر ہوا ہے، اس لئے گھر سپرد کرتے ہی اجرت واجب ہو جائے گی اور اس میں کوئی گناہ نہیں، گناہ تو مستاجر (اجرت پر لینے والا) کے فعل کے ساتھ ہے اور وہ مستاجر اپنے فعل میں مختار ہے لہذا گناہ کی نسبت، کرائے پر دینے والے سے منقطع ہو گئی۔(رد المحتار علی الدر المختار، جلد 9، صفحہ 646، 647، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے "اس نے تو سکونت و زراعت پر اجارہ دیا ہے نہ کسی معصیت پر اور رہنا، بونا فی نفسہٖ معصیت نہیں۔ اگر چہ وہ جہاں رہیں معصیت کریں گے، جو رزق حاصل کریں معصیت میں اٹھائیں گے، یہ ان کا فعل ہے جس کا اس شخص پر الزام نہیں ﴿لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى﴾ ترجمہ: کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔" (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 441، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وقارالفتاوی میں ہے "(ویڈیو) کیسٹ صرف معصیت ہی میں نہیں بلکہ نیک کاموں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لہذا کیسٹ منگانے اور بیچنے میں کوئی حرج نہیں، استعمال کرنے والا جس جگہ استعمال کرے گا، وہ اس کاذمہ دار ہوگا۔" (وقار الفتاوی، جلد 01، صفحہ 220، بزم وقار الدین، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4984
تاریخ اجراء: 18 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 06 مئی 2026ء