logo logo
AI Search

بولی لگا کر خرید و فروخت کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بولی لگا کر قربانی کا جانور خریدنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا بولی لگا کر قربانی کے لیے جانور خریدنا، جائز ہے؟ سائل: (عاطف عطاری، جھنگ)

جواب

بولی لگا کر اشیاء کی خرید و فروخت جائز ہے، البتہ یہ بات ضروری ہے کہ اس خرید و فروخت میں کسی طرح کے دھوکے اور جھوٹ سے کام نہ لیا جائے، مثلاً جس شخص کا خریدنے کا ارادہ نہ ہو، وہ اس لیے بولی لگائے کہ چیز کی قیمت مزید بڑھ جائے تاکہ اصل خریدار اس بولی کو سن کر مزید اوپر کی قیمت لگائے، تو ایسے شخص (جس کا خریدنے کا ارادہ نہ ہو اس) کا بولی میں شامل ہونا دھوکہ اور ناجائز و گناہ ہے۔ عموماً مارکیٹ میں ایسے لوگ بعض دوکانداروں نے رکھے ہوتے ہیں تاکہ وہ مصنوعی بولی لگا کر دوسرے خریداروں کو پھنساتے رہیں، یہ طریقہ جائز نہیں، حدیث پاک میں ایسی بولی سے منع کیا گیا ہے۔

بولی کے جائز ہونے سے متعلق جامع ترمذی میں ہے: ’’عن انس ابن مالک ان رسول اللہ صلى الله عليه وسلم باع حلسا وقدحا وقال: من يشتری هذا الحلس والقدح فقال رجل: اخذتهما بدرهم فقال النبی صلى اللہ عليه وسلم: من يزيد على درهم؟ من يزيد على درهم؟ فاعطاه رجل درهمين: فباعهما منه‘‘ ترجمہ: حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبیِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حلس (اونٹ کے کجاوے کے نیچے رکھنے والا کپڑا) اور پیالہ بیچنے سے پہلے ارشاد فرمایا: کون اس کپڑے اور پیالے کو خریدے گا؟ تو ایک شخص نے عرض کی: میں ان دونوں کو ایک درہم کے بدلے میں خریدوں گا، تو رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دو مرتبہ فرمایا: ایک درہم سے زیادہ میں کون خریدے گا؟ ایک شخص نے دو درہم پیش کیے، تو آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس کے ہاتھ دونوں چیزیں بیچ دیں۔ (جامع ترمذی، جلد 3، صفحہ 514، مطبوعہ شركة مكتبة ومطبعة، مصر)

مذکورہ حدیث پاک کی شرح میں علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1014ھ/1605ء) لکھتے ہیں: ”فيه جواز الزيادة على الثمن اذا لم يرض البائع بما عين الطالب فقال النووی رحمہ اللہ تعالیٰ هذا ليس بسوم لان السوم هو ان يقف الراغب والبائع على البيع ولم يعقداه فيقول الآخر للبائع: انا اشتريه وهذا حرام بعد استقرار الثمن واما السوم بالسلعة التی تباع لمن يريد فليس بحرام“ ترجمہ: اس حدیث میں اس بات کے جواز کا ثبوت ملتا ہے کہ شے کی قیمت میں زیادتی کرنا جائز ہے، بشرطیکہ ابھی تک بیچنے والا، خریدار کی بتائی ہوئی قیمت پر راضی نہ ہوا ہو۔ امام نووی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: یہ نا حق بولی لگانا نہیں، کیونکہ ممانعت اس صورت میں ہے کہ بیچنے والا اور خریدنے والا ایک قیمت پر راضی ہو چکے ہوں اور ابھی تک ایگریمنٹ نہ کیا ہو، پھر کوئی دوسرا شخص آکر بیچنے والے سے کہے: میں اسے (اس سے زیادہ قیمت میں ) خریدتا ہوں، تو قیمت طے ہونے کے بعد ایسا کرنا حرام ہے، البتہ جو سامان ابھی تک بولی پر بِک رہا ہو، تو اس کا ریٹ لگانا حرام نہیں۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، جلد 5، صفحہ 1940، مطبوعہ دار الفکر، بیروت )

شیخ الاسلام ابو الحسن على بن حسین سُغْدى حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 461ھ /1068ء) لکھتے ہیں: ” الثالث عشر بيع من يزيد ويجوز لكل احد ان يدخل فيه ويزيد على ثمن صاحبه وياخذه به“ ترجمہ: خرید و فروخت کی تیرہویں قسم بیع من یزید (بولی کی بیع) ہے۔ ہر شخص کے لیے جائز ہے کہ وہ اس بیع میں شامل ہو کر دوسرے کی قیمت پر مزید اضافہ کرے اور اس زیادہ قیمت کے بدلے چیز کو حاصل کر لے۔ (النتف فی الفتاوى، جلد 1، صفحہ 441، مطبوعہ مؤسسة الرسالة، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”اگر اب تک دام طے نہیں ہوا ایک ثمن پر دونوں کی رضامندی نہیں ہوئی ہے، تو دوسرے کو دام چُکانا منع نہیں، جیسا کہ نیلام میں ہوتا ہے اس کو بیع من یزید کہتے ہیں یعنی بیچنے والا کہتا ہے جو زیادہ دے لے لے، اس قسم کی بیع حدیث سے ثابت ہے۔“ (بھارِ شریعت، جلد 2، حصہ 11، صفحہ 723، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

جس شخص کا خریدنے کا ارادہ نہ ہو، اُسے بولی کی بیع میں شامل ہونے سے متعلق صحیح بخاری میں ہے: ”نهى النبی صلى الله عليه وسلم عن النجش‘‘ ترجمہ: نبیِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بیع میں نجش (جھوٹی بولی لگانے) سے منع فرمایا۔ (صحیح البخاری، جلد 3، صفحہ 192، مطبوعہ دار طوق النجاۃ، بیروت)

مذکورہ حدیث کی شرح میں فقیہِ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1421ھ/2000ء) لکھتے ہیں: ”نجش کے معنی شکار بھڑکانے کے ہیں۔ یہاں مراد یہ ہے کہ کچھ عیار سودا بیچنے والے دو ایک آدمیوں کو رکھتے ہیں جب کوئی گاہک دام لگاتا ہے، تو وہ آ جاتا ہے اور بڑھ کر بولی بولتا ہے تاکہ گاہک بھی مزید دام بڑھا دے، چونکہ یہ دھوکہ ہے اس لیے حرام ہے۔“ (نزھۃ القاری شرح بخاری، جلد 3، صفحہ 494، مطبوعہ فرید بک سٹال، لا ھور )

علامہ بُر ہانُ الدین مَرْغِینانی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593ھ/1196ء) لکھتے ہیں: ”نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن النجش: وھو ان یزید فی الثمن ولایرید الشراء لیرغب غیرہ قال علیہ السلام: ولا تناجشوا“ ترجمہ: رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے نجش سے منع فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئی شخص قیمت میں اضافہ کرے، حالانکہ اس کا خریدنے کا ارادہ نہ ہو، تاکہ دوسرا شخص اس چیز کو خریدنے میں رغبت رکھے۔ نبیِ کریم عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَ السَّلام نے فرمایا: نجش نہ کرو۔ (الهدایہ، جلد 03، صفحہ 53، مطبوعہ دار احياء التراث العربی، بيروت)

بہارِ شریعت میں ہے: ”نجش مکروہ ہے۔ حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے منع فرمایا۔ نجش یہ ہے کہ مبیع کی قیمت بڑھائے اور خود خریدنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو، اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ دوسرے گاہک کو رغبت پیدا ہو اور قیمت سے زیادہ دے کر خریدلے اور یہ حقیقۃً خریدار کو دھوکا دینا ہے، جیسا کہ بعض دُکانداروں کے یہاں اس قسم کے آدمی لگے رہتے ہیں، گاہک کو دیکھ کر چیز کے خریدار بن کر دام بڑھا دیا کرتے ہیں اور ان کی اس حرکت سے گاہک دھوکا کھا جاتے ہیں ۔ گاہک کے سامنے مبیع کی تعریف کرنا اور اُس کے ایسے اوصاف بیان کرنا جو نہ ہوں تاکہ خریدار دھوکا کھا جائے، یہ بھی نجش ہے۔“ (بھارِ شریعت، جلد 2، حصہ 11، صفحہ 723، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9923
تاریخ اجراء: 25 شوال المکرم 1447ھ / 14 اپریل 2026ء