قسطوں پر خریدی ہوئی گاڑی کم قیمت میں واپس بیچنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قسطوں پر خریدی گئی گاڑی استعمال کے بعد کمپنی کو کم قیمت میں واپس بیچنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے یہاں ایک کمپنی ہے جو کہ گاڑی قسطوں پر بیچنے کا کاروبار کرتی ہے۔ گاڑی عقد ہونے اور ابتدائی قسط ادا کرنے کے بعد ہی ہمارے استعمال میں آ جاتی ہے۔ اس کمپنی نے یہ آفر نکالی ہے کہ اگر آپ 60 فیصد قسطیں ادا کرنے کے بعد اپنی گاڑی ہمیں بیچنا چاہیں تو ہم آپ سے وہ گاڑی کل قیمت کے 60 فیصد کے عوض خرید لیں گے۔ اس واپس خریداری کی پیمنٹ کی ادائیگی کا طریقہ کار یہ ہو گا کہ جو 40 فیصد قسطوں کی رقم ہم پر واجب الادا تھی، وہ منہا ہو جائے گی اور باقی 20 فیصد رقم کمپنی ہمیں ادا کر دے گی اور گاڑی اپنے نام کروا لے گی۔ میں نے اس کمپنی سے گاڑی خریدی ہوئی ہے اور اسے دو سال سے استعمال کر رہا ہوں۔ کیا میں اس آفر کے ذریعے کمپنی کو گاڑی واپس بیچ سکتا ہوں؟
نوٹ: یہ آفر اختیاری ہے، یعنی اگر ہم چاہیں تو گاڑی کمپنی کو واپس نہ بیچیں بلکہ مکمل قسطیں ادا کرنے کے بعد گاڑی کے کاغذات وغیرہ لے لیں اور گاڑی کے مسلسل استعمال کے باعث اس کی قیمت بھی کم ہو گئی ہے، میٹر بھی چل چکا ہے اور کچھ پارٹس بھی تبدیل ہو چکے ہیں اور کچھ وہی ہیں لیکن پہلے کی طرح نئے نہیں رہے۔
جواب
صورت مسئولہ میں آپ کا 60 فیصد کے عوض گاڑی اسی کمپنی کو واپس بیچنا جائز ہے۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ خریدی ہوئی چیز واپسی اسی شخص کو بیچنا چاہیں جس سے خریدی تھی تو اس کے متعلق شرعی اصول یہ ہے کہ اگر مکمل قیمت کی ادائیگی نہیں کی تو اسی بائع (بیچنے والے) کو کم قیمت میں بیچنا جائز نہیں ہے۔ البتہ یہ اصول اس صورت میں ہے جب خریدی گئی چیز میں خریدار کی طرف سے کوئی اضافی عیب پیدا نہ ہوا ہو۔ لہذا خریدار کی طرف سے یا اس کے استعمال کے سبب اگر عیب پیدا ہو جائے تو اسی بائع کو کم قیمت کے ساتھ بھی بیچا جا سکتا ہے۔ البتہ اس عیب سے مراد فقط مارکیٹ ویلیو میں کمی ہو جانا ہی نہیں ہے بلکہ من حیث الذات (Physically) ایسی تبدیلی ہو جانا مراد ہے جس سے اس کی قیمت میں کمی واقع ہو جائے۔
صورت مسئولہ میں بھی آپ نے 2 سال تک گاڑی مسلسل استعمال کی، جس کے دوران گاڑی کے استعمال اور چیزوں کی تبدیلی کے باعث تجار کے ہاں اس کی مارکیٹ ویلیو میں کمی واقع ہوئی لہذا عیب کے باعث آپ کا اسی بائع کو مکمل قیمت کی ادائیگی سے پہلے کم قیمت یعنی 60 فیصد کے مطابق گاڑی واپس فروخت کرنا جائز ہو گا۔
قیمت کی ادائیگی سے پہلے کم قیمت میں واپس بیچنے کے متعلق حدیث:
ايك عورت نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی بارگاہ میں حاضر ہو کر سوال کیا کہ میں نے ایک چیز، زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ کو 800 دراہم کی ادھار فروخت کی تھی اور پھر بعد میں وہی چیز 600 دراہم میں ان سے واپس خرید لی۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا: ”بئس ما اشتريت، أو بئس ما اشترى، أبلغي زيد بن أرقم: أنه قد أبطل جهاده مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا أن يتوب “ ترجمہ:کتنا ہی برا تو نے بیچا یا کتنا ہی برا انہوں نے خریدا۔ زید بن ارقم کو یہ بات پہنچا دو: اگر انہوں نے توبہ نہ کی تو ان کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا جہاد باطل ہو جائے گا۔ (مصنف عبد الرزاق، جلد 8، صفحہ 185، مکتب الاسلامی، بیروت)
قیمت کی ادائیگی سے پہلے کم قیمت میں واپس نہ بیچنے کے دلائل:
مبسوط سرخسی میں ہے: ”وإن اشتراه بأقل من ذلك الثمن لم يجز ذلك في قول علمائنا رحمهم الله استحسانا وفي القياس يجوز ذلك، وهو قول الشافعي۔۔۔۔۔۔ إلا أنا استحسنا لحديث عائشة رضي الله عنها۔۔۔ فهذا دليل على أن فساد هذا العقد كان معروفا بينهم وأنها سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ لأن أجزية الجرائم لا تعرف بالرأي وقد جعلت جزاءه على مباشرة هذا العقد بطلان الحج والجهاد فعرفنا أن ذلك كالمسموع من رسول الله صلى الله عليه وسلم واعتذار زيد رضي الله عنه إليها دليل ذلك؛ لأن في المجتهدات كان يخالف بعضهم بعضا وما كان يعتذر أحدهم إلى صاحبه فيها۔۔۔۔والمعنى فيه أنه اشترى على ما ليس في ضمانه «ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ربح ما لم يضمن» وبيان ذلك أن الثمن لا يدخل في ضمانه قبل القبض فإذا عاد إليه الملك الذي زال عنه بعينه وبقي له بعض الثمن، فهذا ربح حصل لا على ضمانه“
ترجمہ: اگر بیچی ہوئی چیز کو پہلے ثمن سے کم میں خریدا تو یہ ہمارے علما رحمہم اللہ کے قول کے مطابق استحسانا جائز نہیں ہے۔ قیاس کے مطابق یہ جائز ہے اور یہی امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے لیکن ہم حدیث عائشہ رضی اللہ عنھا کی وجہ سے استحسانا ً، ناجائز کہتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس عقد کا فساد ان کے درمیان مشہور تھا اور انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہوا تھا کیونکہ جرائم کی جزائیں اپنی رائے سے نہیں جانی جا سکتیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے اس عقد کو انجام دینے کی جزا حج اور جہاد کے باطل ہونے کو قرار دیا لہذا ہم نے جان لیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے ہوئے کی طرح ہے۔ اور حضرت زید رضی اللہ عنہ کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے معذرت کرنا بھی اس پر دلیل ہے کیونکہ اجتہادی امور میں صحابہ رضوان اللہ تعالی اجمعین میں اختلاف تھا اور وہ اس میں ایک دوسرے سے معذرت نہیں کرتے تھے۔ اور اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے وہ چیز اس ثمن کے بدلے میں خریدی جو ابھی اس کے ضمان میں نہیں آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’ربح ما لم یضمن‘‘ سے منع فرمایا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ثمن قبضے سے پہلے بائع کے ضمان میں داخل نہیں ہوا اور جب وہ چیز بعینہ اسی طرح اس کی ملکیت میں واپس آ گئی اور کچھ ثمن باقی رہا تو یہ اس چیز سے منافع حاصل ہوا جو اس کے ضمان میں نہیں۔ (المبسوط للسرخسي، جلد 13، صفحہ، 122، دار المعرفۃ، بیروت)
امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”ثالثاً شراء ماباع باقل مما باع‘‘ عندالتحقیق ’’ربح ما لم یضمن‘‘ کے سبب حرام ہے یعنی جو چیز اپنی ضمان میں نہ آئی اس پر نفع لینا کہ رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وآلہ و سلم نے اس سے منع فرمایا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 547، رضا فانڈیشن، لاہور)
عیب کی تعریف:
بہار شریعت میں ہے: ’’عرف شرع میں عیب جس کی وجہ سے مبیع کو واپس کرسکتے ہیں وہ ہے جس سے تاجر وں کی نظر میں چیز کی قیمت کم ہو جائے۔‘‘ (بہار شریعت، جلد 2، صفحہ 673، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
امام خصاف رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنی مشہور کتاب ”الحیل“ میں فرماتے ہیں: ”ان احدث المشتري في الثوب من هذا المتاع حدثا يكون ذلك عيبا فيه ونقصانا من قيمته جاز له ان يشتري ذلك باقل مما باعه منه“ ترجمہ: اگر مشتری اس سامان کے کسی کپڑے میں کوئی ایسا تصرف کر دے جو عیب ہو اور اس کی قیمت میں کمی کا باعث ہو تو اس کے لیے اسے اس قیمت سے کم میں خریدنا جائز ہے جتنے میں اس نے پہلے بیچی۔ (كتاب الخصاف في الحيل، صفحه 12، مطبوعه القاهره)
عیب پیدا ہو جانے پر کم قیمت میں بیچنے کا جواز:
تبیین الحقائق میں ہے: ”وشرطنا أن يكون المبيع على حاله لم ينتقص؛ لأنه إذا تعيب في يد المشتري فباعه من البائع بأقل من الثمن الأول جاز؛ لأن المانع ربح ما لم يضمن“ ترجمہ: ہمارے نزدیک ناجائز ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ مبیع میں نقص پیدا نہ ہو کیونکہ جب مشتری کے پاس عیب پیدا ہو گیا اور اس نے اسے بائع کو پہلی قیمت سے کم میں بیچ دیا تو یہ جائز ہے کیونکہ ممنوع ربح ما لم یضمن ہے۔ (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي، جلد 4، صفحہ 55، القاهرة)
محیط برہانی اور بدائع میں ہے: ”(واللفظ للمحیط) وإنما شرطنا أن تكون السلعة قائمة على حالها لم تنتقص بعيب؛ لأن بعدما انتقص لا يتأتى شبهة الربا؛ لأن نقصان الثمن يجعل بمقابلة ما فات بالعيب، فيصير مشترياً ما باع بمثل الثمن الأول معنى وذلك جائز“ ترجمہ: ہم نے (کم قیمت میں خریدنے کے ناجائز ہونے کے لیے) یہ شرط لگائی کہ سامان اپنی حالت پر قائم ہو، اس میں کوئی عیب نہ پیدا ہوا ہو کیونکہ نقص پیدا ہونے کے بعد اس میں شبہ ربا نہیں رہے گا کہ قیمت میں کمی اس نقص کے مقابلے میں ہو جائے گی جو عیب کی وجہ سے ہوئی تو بائع حکماً ثمن اول پر ہی اپنی چیز کو خریدنے والا ہو گا ا ور یہ جائز ہے۔ (المحيط البرهاني في الفقه النعماني، جلد 6، صفحہ 386، دار الکتب العلمیہ، بیروت) (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، جلد 5، صفحہ 199، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
فتح باب العنایہ میں ہے: ”لو تعيّب في يد المشتري، فباعه من البائع بأقل من الثمن جاز، لأنّ ما نقص من الثمن بمقابلة العيب الحادث، فكان البائع مشترياً ما باع بمثل الثمن الأول معنًى. وقيّدنا النقصان بكونه في الذَّات، لأنّه لو كان في القيمة: بأن تغيّر سعره لم يجز شراؤه بأقل ممّا باع، لأنّ تغيّر السعر غير معتبرٍ في حقّ الأحكام“ ترجمہ: اگر مبیع مشتری کے ہاتھ میں عیب زدہ ہو گئی پھر اس نے بائع کو پہلی قیمت سے کم میں بیچا تو یہ جائز ہے کیونکہ ثمن اول سے جتنی قیمت کم ہو گی، وہ نئے عیب کے مقابلے میں ہو جائے گی تو گویا کہ بائع نے ثمن اول کے برابر ہی اس کو خریدا۔ اور ہم نے من حیث الذات نقصان کی قید اس لئے لگائی کہ اگر قیمت میں نقصان ہوا جیسے کہ اس کی مارکیٹ ویلیو کم ہو گئی تو پہلی قیمت سے کم قیمت میں خریدنا جائز نہیں ہے کیونکہ قیمت میں کمی ان احکامات میں معتبر نہیں ہے۔ (فتح باب العنایہ، جلد 2، صفحۃ 340، دار ارقم، بیروت)
تنویر الابصار و الدر المختار مع رد المحتار میں ہے: ”(و فسد شراء ما باع بنفسه أو بوكيله بالأقل قبل نقد الثمن) ای: لو باع شيئا وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لا يجوز، زيلعي: أي سواء كان الثمن الأول حالا أو مؤجلا هداية، (وإن رخص السعر للربا۔۔۔ فإن اختلف جنس الثمن أو تعيب المبيع جاز مطلقا) لأن المبيع لو انتقص يكون النقصان من الثمن في مقابلة ما نقص من العين سواء كان النقصان من الثمن بقدر ما نقص منها أو بأكثر منه بحر عن الفتح“ ترجمہ: ثمن کی ادائیگی سے پہلے جتنے میں چیز بیچی اس سے کم قیمت پر اس سے خود یا اپنے وکیل کے ذریعے اس چیز کو خرید لینا فاسد ہے، یعنی اگر کسی نے کوئی چیز بیچی اور مشتری نے اس پر قبضہ کر لیا لیکن بائع نے ثمن پر قبضہ نہیں کیا اور پہلی قیمت سے کم پر اس سے وہی چیز خرید لی تو یہ جائز نہیں ہے، زیلعی۔ یعنی پہلا ثمن نقد ہو یا ادھار، ہدایہ۔ اگرچہ مارکیٹ ویلیو میں کمی ہو جائے کیونکہ اس میں سود (کاشبہ) پایا جاتا ہے۔ لیکن اگر ثمن کی جنس تبدیل ہو جائے یا مبیع عیب زدہ ہو جائے تو مطلقا ً جائز ہے کیونکہ اگر مبیع میں نقص پیدا ہو گیا تو ثمن میں کمی اس چیز میں نقص کے مقابل ہو جائے گی، قطع نظر اس بات کے کہ قیمت میں کمی نقصان کے برابر ہو یا اس سے زائد ہو۔ بحر الرائق از فتح القدیر۔ (تنویر الابصار و الدر المختار مع رد المحتار، جلد 5، صفحہ 74، دار الفکر، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: NRL-0374
تاریخ اجراء: 25 ربیع الاول 1447 ھ / 17 ستمبر 2025ء