logo logo
AI Search

بینک اور انشورنس کمپنی کو کمپیوٹر بیچنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بینک یا انشورنس کمپنی کو کمپیوٹر بیچنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا بینک یا انشورنس کے ادارے کو یا اس جیسے کسی اور ادارے یا کمپنی کو کمپیوٹر وغیرہ بیچنا جائز ہے؟

جواب

ایسے ادارے یا کمپنی، جن میں ناجائز و حرام کام بھی ہوتے ہیں، انہیں کمپیوٹر بیچنا شرعاً ممنوع نہیں، جبکہ گناہ پر معاونت کی کوئی نیت نہ ہو؛ کیونکہ کمپیوٹر ایک ایسا آلہ ہے، جس کا استعمال گناہ کے کاموں کے ساتھ متعین نہیں ہے، استعمال کرنے والے پر منحصر ہے، کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے۔

مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہوا: "ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر اور وی سی پی وغیرہ، سائنس و ٹیکنالوجی کے آلات کی مرمت کرنا اور ان کے ذریعے روزی کمانا جائز ہے؟"

تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: "سوال میں جن چیزوں کا ذکر ہے، یہ سب مشینی آلات کے قبیل (قسم) سے ہیں، ان کے جائز و ناجائز ہونے کا حکم فی نفسہ ان پر نہیں، بلکہ ان کے استعمال پر ہوتا ہے، ان کا جیسا استعمال ہو گا ویسا ہی حکم ہو گا۔" (وقار الفتاوی، جلد 1، صفحہ 218، بزم وقار الدین، کراچی)

مزید اسی طرح کے سوال کے جواب میں فرمایا: "ریڈیو اور ٹیلی ویژن مشینی آلات ہیں۔ ان سے جائز کام بھی لیے جاتے ہیں اور ناجائز کام بھی۔ یہ صرف حرام کام کے لیے استعمال نہیں ہوتے اور نہ محض غلط کاموں کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ جس طرح چھری اور بندوق وغیرہ جیسے آلات سے جہاد بھی کیا جاتا ہے اور اپنے ذاتی کاموں اور شکار میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں اور انہی سے انسان کو قتل کرنے والا فعل قبیح بھی کیا جاتا ہے۔ لہذا جو آلات صرف معصیت کے لیے متعین نہ ہوں، ان کا بنانا اور مرمت کرنا جائز ہے۔ تو ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی مرمت کرنا بھی جائز ہے۔ اسی طرح اس کی مرمت کی اجرت بھی حلال ہے۔" (وقار الفتاوی، جلد 1، صفحہ 218، 219، بزم وقار الدین، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4980
تاریخ اجراء: 16 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 04 مئی 2026ء