پالتو جانوروں کی خرید و فروخت کے لیے Pet Shop کھولنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
پالتو جانوروں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرنا کیسا ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا پالتو جانوروں کی دوکان (Pet shop) ڈالنا جائز ہے؟ جس میں مختلف اقسام کے کتے، بلی، پرندے وغیرہ گھریلو پالتو جانور (Domestic pets) بیچے جائیں؟
جواب
عمومی طور پر ایسی دوکانوں میں وہی جانور فروخت کیے جاتے ہیں، جن کو پالنے اور خرید و فروخت کرنے کی شرعاً اجازت ہوتی ہے، لہذا ایسی پالتو جانور بیچنے کی دکان (Pet Shop) بنانا جائز ہے جبکہ اور کوئی مانع شرعی نہ ہو۔ جہاں تک مختلف جانوروں کی بیع و شرا کے حکم کا تعلق ہے تو اس کی تفصیل درج ذیل ہے۔
قوانین شرعیہ کی رو سے خنزیر ایسا جانور ہے جس کا پالنا بھی حرام ہے اور اس کی خرید و فروخت بھی مطلقاً ناجائز ہے۔ اسی طرح وہ جانور جن سے کوئی مباح نفع حاصل نہیں کیا جا سکتا، جیسے عمومی حشرات الارض مثلاً چوہا، گرگٹ، چھپکلی، بچھو وغیرہ اور مچھلی کے علاوہ پانی کے دیگر جانور مثلاً مینڈک، کیکڑا وغیرہ، ان سب کی خرید و فروخت بھی ناجائز ہے۔ ان کے علاوہ وہ تمام جانور جن سے شرعاً کوئی جائز نفع اٹھایا جا سکتا ہے، خواہ وہ پرندے ہوں یا دیگر حیوان، مثلاً طوطے، چڑیاں، کبوتر اور مختلف قسم کے خرگوش، بلیاں، مچھلیاں وغیرہ، ان سب کا پالنا اور ان کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے۔ اسی طرح مختلف نسل کے کتوں کی بیع بھی جائز ہے، بشرطیکہ وہ حفاظت وغیرہ کے لیے سدھانے کے قابل ہوں، اگرچہ فی الحال سدھائے ہوئے نہ ہوں؛ کیونکہ وہ کتا یا شکاری جانور جو بالکل قابلِ تعلیم نہ ہو، اس کی بیع درست نہیں۔
واضح رہے کہ جب تک جانور دوکان دار کی ملکیت میں اس کے پاس رہیں، ان کے دانہ پانی کا خیال رکھنا اس پر لازم ہے، اس میں کوتاہی برتنا اور انہیں بھوکا پیاسا رکھنا سخت گناہ کا باعث ہے۔
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”جانورانِ خانگی مثل خروس و ماکیان و کبوتر اہلی وغیرہا کا پالنا بلاشبہ جائز ہے، جبکہ انہیں ایذا سے بچائے اور آب و دانہ کی کافی خبرگیری رکھے۔ رہا جانورانِ وحشی کا پالنا جیسے طوطی، مینا، لال، بلبل وغیرہا، عالمگیری میں قنیہ سے اس کی ممانعت نقل کی اگرچہ آب و دانہ میں تقصیر نہ کرے، مگر نص صریح حدیث صحیح و اقوال ائمۂ نقد و تنقیح سے صاف جواب و اباحت مستفاد ہبے، جبکہ خرگیری مذکور بروجہ کافی بجا لائے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 643-645 ملتقطاً، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر لکھتے ہیں: ”اور ا ن احکام سے خنزیر مستثنی ہے، اس کی کھال یا ہڈی کسی حال میں اصلاً خرید و فروخت یا کسی قسم کے انتفاع کے قابل نہیں، لنجاسۃ عینہا (یعنی اس کے نجس العین ہونے کی وجہ سے)۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 162، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ/1836ء) نقل کرتے ہیں:
”ويجوز بيع سائر الحيوانات سوى الخنزير وهو المختار“
ترجمہ: خنزیر کے علاوہ تمام جانوروں کی خرید و فروخت جائز ہے، اور یہی مختار قول ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، جلد 5، صفحہ 69، دار الفکر، بیروت)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:
”ان جواز البيع يدور مع حل الانتفاع“
ترجمہ: بیع کا جواز انتفاع کے حلال ہونے کے ساتھ محصور ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، جلد 5، صفحہ 51، دار الفکر، بیروت)
علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ/1562ء) لکھتے ہیں:
”صح بيع الكلب والفهد والسباع والطيور لما رواه أبو حنيفة رضي الله تعالى عنه أنه صلى الله عليه وسلم رخص في ثمن كلب الصيد ولأنه مال متقوم آلة الاصطياد فصح بيعه كالبازي بدليل أن الشارع أباح الانتفاع به حراسة واصطيادا فكذا بيعا... أطلقه فشمل المعلم وغيره... لا يجوز بيع الكلب العقور الذي لا يقبل التعليم... ويجوز بيع الهرة لأنها تصطاد الفأرة والهوام المؤذية فهي منتفع بها ولا يجوز بيع هوام الأرض كالخنافس والعقارب والفأرة والنمل والوزغ والقنافذ والضب ولا هوام البحر كالضفدع والسرطان وكذا كل ما كان في البحر إلا السمك وما جاز الانتفاع بجلد ه أو عظمه“
ترجمہ: کتے، چیتے، درندوں اور پرندوں کی بیع درست ہے، اس حدیث کی بنا پر جسے امام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شکاری کتے کے ثمن کی اجازت دی ہے، اور اس لیے کہ یہ مال متقوم اور شکار کا آلہ ہے، پس اس کی بیع درست ہے، جیسے کہ باز کی، اس دلیل سے کہ شارع نے اس سے نگہبانی اور شکار کرنے کی صورت میں نفع اٹھانا جائز قرار دیا ہے، پس اسی طرح اس کی بیع بھی (جائز قرار پائی)۔ مصنف نے کتے کو مطلق رکھا، جس میں سکھایا ہوا اور غیر سکھایا ہوا دونوں شامل ہو گئے۔ (البتہ) کاٹنے والے کتے کی بیع جائز نہیں جو قابل تعلیم نہ ہو۔ اور بلی کی بیع جائز ہے؛ کیونکہ وہ چوہے اور تکلیف دہ کیڑے مکوڑے پکڑتی ہے، پس وہ قابلِ انتفاع ہے، اور حشرات الارض کی بیع جائز نہیں، جیسے بھنورا، بچھو، چوہا، چیونٹی، چھپکلی، لمبے لمبے کانٹوں والا سیہ اور گوہ، اور نہ ہی سمندری جانوروں کی جیسے مینڈک، کیکڑا اور اسی طرح سمندر کی ہر چیز سوائے مچھلی کے اور اس کے جس کی کھال یا ہڈی سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، كتاب البيع، باب مسائل متفرقة في البيع، جلد 6، صفحہ 187ملتقطاً، دار الكتاب الإسلامي)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”کتا، بلی، ہاتھی، چیتا، باز، شکرا، بہری، ان سب کی بیع جائز ہے۔ شکاری جانور معلّم (سکھائے ہوئے) ہوں یا غیر معلم دونو ں کی بیع صحیح ہے، مگر یہ ضرور ہے کہ قابل تعلیم ہوں، کٹکھنا (بہت زیادہ کاٹنے والا)کتا جو قابل تعلیم نہیں ہے، اُس کی بیع درست نہیں۔ ... مچھلی کے سوا پانی کے تمام جانور مینڈک، کیکڑا وغیرہ اور حشرات الارض، چوہا، چھچھوندر، گھونس، چھپکلی، گرگٹ، گوہ، بچھو، چیونٹی کی بیع ناجائز ہے۔“ (بھار شریعت، جلد 2، حصہ 11، صفحہ 809-811، مکتبة المدینہ، کراچی)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”(پالتو جانوروں کی) خبرگیری کی یہ تاکید ہے کہ دن میں ستر دفعہ پانی دکھائے، کما ورد فی الحدیث (جیسا کہ حدیث میں وارد ہے)، ورنہ پالنا اور بھوکا پیاسا رکھنا سخت گناہ ہے، فانہ ظلم (اس لیے کہ یہ ظلم ہے)۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 644، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1077
تاریخ اجراء: 7 شعبان المعظم 1447ھ/27 جنوری 2026ء