میوزک والے کھلونوں کی خریدو فروخت کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
میوزک والے کھلونوں کی خرید و فروخت کا حکم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کی ایک کھلونوں کی دکان ہے، جہاں وہ ہر قسم کے بچوں کے کھلونے فروخت کرتا ہے۔ ان کھلونوں میں بعض ایسے ہیں جو بیٹری، سیل وغیرہ سے ہی چلتے ہیں اور بٹن دباتے ہی کھلونا اور میوزک اکٹھے ساتھ چل پڑتے ہیں۔ مارکیٹ میں ان میوزک والے کھلونوں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے میوزک والے کھلونوں کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں زید کا میوزک والے کھلونے کی خرید و فروخت کرنا شرعاً ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ ایسے کھلونے کا استعمال یہ نہیں ہوتا کہ بغیر چلائے محض اسے رکھ کر یا ہاتھوں سے اٹھا کر کھیلا جائے، بلکہ اس کا بڑا استعمال یہی ہوتا ہے کہ اس کے طریقے کے مطابق چلایا جائے جس میں میوزک اور کھیل دونوں شامل ہوتے ہیں اور ایسی چیز کا بیچنا گناہ پر معاونت کی صورت ہے اور قرآن ِکریم میں گناہ پر معاونت کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
گناہ پر تعاون نہ کرنے کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ کرو۔ (پارہ 6، سورۃ المائدۃ، آیت 2)
اس آیت کے تحت امام ابو بکر احمد الجصاص علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: ”﴿وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ﴾ نهي عن معاونة غيرنا على معاصی اللہ تعالى“ یعنی آیت کریمہ میں اللہ تعالی کی نافرمانی والے کاموں میں دوسرے کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 429، مطبوعہ کراچی)
جس چیز کے عین کے ساتھ معصیت قائم ہو، اُسے بیچنے کے بارے میں علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”قلت: وافاد كلامهم أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما“ ترجمہ: میں کہتا ہوں کہ ان فقہاء کا کلام اس بات کا فائدہ دیتا ہے کہ جس چیز کے عین کے ساتھ معصیت قائم ہو، اسے بیچنا مکروہ تحریمی ہے۔ (در مختار، کتاب الجھاد، باب البغاۃ، جلد 6، صفحہ 409، مطبوعہ کوئٹہ)
ایسی چیز کو بیچنے کے ناجائز ہونے کی وجہ کو بیان کرتے ہوئے علامہ ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”وظاهر كلامهم في الأول أن الكراهة تحريمية لتعليلهم بالإعانة على المعصية“ ترجمہ: فقہاء کے کلام کا ظاہر یہ ہے کہ اس پہلی صورت (عین کے ساتھ معصیت) میں کراہت سے مراد کراہت تحریمی ہے، کیونکہ انہوں نے یہ علت بیان کی ہے کہ اسے بیچنا گناہ پر مدد کرنا ہے۔ (بحر الرائق، جلد 5، صفحہ 155، مطبوعہ دار الكتاب الإسلامي)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9957
تاریخ اجراء: 11 ذی القعدۃ 1447 ھ / 29 اپریل 2026 ء