سودا نہ ہونے پر ٹوکن کی رقم ڈبل واپس لینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
زمین کا سودا نہیں ہوا تو بروکر کو دیا ہوا ٹوکن ڈبل قیمت میں واپس لینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بروکر نے زید کو بتایا کہ فلاں شخص زمین بیچے گا، جس کی مالیت 22 لاکھ ہے اور اس کا ٹوکن 2 لاکھ ہے، تم 2 لاکھ مجھے جمع کروادو، اگر اس شخص نے زمین بیچنے کے لیے مجھے کہا تو میں وہ زمین تجھے خرید دوں گا، چنانچہ زید نے 2 لاکھ روپے جمع کروادئیے، اور بروکر نے وہ پیسے بطور امانت اپنے پاس رکھ لیے، جن کو اس نے کبھی بھی استعمال نہیں کیا، پھر 2 سال بعد بروکر نے زید کو بتایا کہ یہ شخص زمین نہیں بیچ رہا، لہذا تم اپنے ٹوکن کے پیسے واپس لے لو، (اس دوران وہ 2 لاکھ کی رقم بروکر کے پاس ہی رہی، بروکر نے زمین والے کو نہیں دی تھی اور نہ اس کے ساتھ کوئی خریداری ہوئی تھی) اب زید کہتا ہے کہ میرا ٹوکن تم نے 2 سال تک اپنے پاس رکھا ہے، لہذا اب میں تم سے ڈبل پیسے یعنی 4 لاکھ واپس لوں گا، شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا زید کے لیے ٹوکن کا ڈبل یعنی 4 لاکھ لینا، شرعا درست ہے؟
جواب
صورت مسئولہ میں زید کے لیے 2 لاکھ سے زائد پیسوں کا مطالبہ کرنا، شرعا جائز نہیں ہے۔ کیونکہ زید نے جو پیسے بروکر کو دئیے تھے، زید کا حق صرف انہی پیسوں میں ہے اور بروکر پر صرف انہی کو لوٹانا لازم ہے، ان سے زائد پیسوں کا اس لیے مطالبہ کرنا کہ اتنے عرصے کے بعد جواب دیا جارہا ہے، تو یہ تعزیر بالمال اور مسلمان کا مال ناحق کھانے والی صورت ہے، جو کہ شرعا ناجائز و حرام ہے۔ رہا یہ معاملہ کہ بروکر کا ایسا کرنا کیسا تھا تو اس حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ اگر بروکر نے زید کے ساتھ کوئی دھوکہ کیا یا جھوٹ وغیرہ کا معاملہ کیا تو وہ گنہگار ہے، جس سے توبہ کرنا اس پرلازم ہے اور ساتھ میں زید سے بھی معافی مانگے اور اگر بروکر نے دھوکہ یا جھوٹ وغیرہ کوئی ناجائز معاملہ نہیں کیا تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں، بہرحال زید صرف 2 لاکھ ہی واپس لے سکتا ہے، اس سے زائد کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔
قرآن پاک میں ہے: ﴿وَ لَاتَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِہَاۤ اِلَی الْحُکَّامِ لِتَاْکُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ ترجمہ کنزالایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر۔ (سورۃ البقرۃ، پ 2، آیت 188)
سنن ترمذی وغیرہ کی روایت میں ہے "عن - النبي صلى اللہ عليه وسلم - قال: "«على اليد ما أخذت" ترجمہ: ہاتھ نے جولیا، اس پر اس کا لوٹانا لازم ہے۔ (سنن ترمذی، ابواب البیوع، ج 03، ص 558، مصطفی البابی الحلبی، مصر)
سنن الدار قطنی میں ہے ''لایحل مال امرء مسلم الا عن طیب نفس'' ترجمہ: کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی رضا کے لینا حلال نہیں ہے۔ (سنن الدار قطنی، ج 3، ص 424، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
رد المحتار میں ہے "لا یجوز لاحد من المسلمین اخذ مال احد بغیر سبب شرعی" ترجمہ: کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ بغیر کسی سبب شرعی کے کسی کا مال لے۔ (رد المحتار، کتاب الحدود باب التعزیر، ج 6، ص 98، کوئٹہ)
اگر وہ شخص اپنی خوشی سے ہر غیر حاضری کے جرمانہ میں سو ۱۰۰ لوٹے یا سو ۱۰۰ روپے دے تو بہت اچھا ہے اور اُن روپوں کو مسجد میں صرف کیا جائے لیکن جبراً ایک لوٹا یا ایک کوڑی نہیں لے سکتا "فان المصادرۃ بالمال منسوخ و العمل بالمنسوخ حرام" (کیونکہ مالی جرمانہ منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل کرنا حرام ہے)۔ (فتاوی رضویہ، ج 5، ص 117 - 118، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے جس قدر مطالبہ واجبی ثابت ہو اگر اس سے ۔۔۔ زیادہ لے لیا گیا ہے تو جتنا زیادہ ہو انہیں واپس دینا واجب ہے۔ قال صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم: "علی الید ما اخذت حتی تردھا" (ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا: ہاتھ پر وہ چیز واجب ہے جو اس نے لی، یہاں تک کہ وہ اس کو اداکردے۔)، و قال تعالٰی(و لا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل و تدلوا بھا الی الحکام لتاکلوا فریقا من اموال الناس) (ترجمہ: اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طور پر مت کھاؤ اور نہ ان کا مقدمہ حاکموں کے پاس اس لئے لے جاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناحق کھالو۔) (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 577، 578، رضا فانڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابوحفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-0380
تاریخ اجراء: 07 شوال المکرم 1443ھ / 09 مئی 2022ء