logo logo
AI Search

مردہ جانور کی کھال استعمال کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مردہ جانور کی کھال بیچنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ حلال یا حرام جانور بغیر ذبح شرعی اپنی طبعی موت مرجائے تو ان کی کھال (چمڑا) اُتار کر بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ براہ کرم اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں۔

سائل: سعید عطاری (G-5، نیو کراچی)

جواب

کوئی بھی جانور (خواہ وہ جانور حلال ہو یا حرام) اگر اپنی طبعی موت مرجائے یعنی اسے شرعی طریقے کے مطابق ذبح نہیں کیا گیا ہو تو اُس کی کھال (چمڑے) کو دَباغت دئے بغیر بیچنا ناجائز و حرام ہے، اگر بیچ دیا جائے تو یہ خرید و فروخت ناجائز و باطل ہوگی، کیونکہ مُردارکی کھال اُس کا ایک جزء (حصہ) ہے، اور بیع کی حقیقت اور رکن یہ ہے کہ مال کا مال سے تبادلہ کیا جائے جبکہ مردار مال نہیں ہے، لہذا بیع کی حقیقت اور رکن نہ پائے جانے کی وجہ سے مردار کی خرید و فروخت ناجائز و باطل ہے۔

البتہ اگر مردار کی کھال اُتار کر اُس کی دَباغت کردی جائے یعنی اس کو پکا کر یا دھوپ میں سکھا کر یا نمک یا مٹی لگا کر یا کوئی بھی کیمیکل استعمال کر کے اُس کے اندر کی بدبودار رطوبت، آلائش اور چکناہٹ کو ختم کرکے خشک کردیا جائے تو وہ پاک ہوجاتی ہے اور اس صورت میں اس دباغت کی ہوئی کھال کی خرید و فروخت یا کھانے کے علاوہ کسی اور قسم کا فائدہ اٹھانا (مثلاً: اس سے جیکٹ، بیگ، بیلٹ، پرس وغیرہ بنانا) جائز ہوجاتا ہے، البتہ مردار جانور کی سری، پائے، گوشت اور کھال وغیرہ کھانا بدستور ناجائز و حرام ہے۔

چنانچہ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِۚ- فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِؕ- اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(173)﴾ ترجمہ کنزالعرفان: اس نے تم پر صرف مردار اور خون اور سُور کا گوشت اور وہ جانور حرام کئے ہیں جس کے ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام بلند کیا گیا تو جو مجبور ہوجائے حالانکہ وہ نہ خواہش رکھنے والا ہو اور نہ ضرورت سے آگے بڑھنے والاہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں، بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (القرآن، پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت: 173)

مردار کی تعریف (Definition) اور اس کے متعلق تفصیلی احکام بیان کرتے ہوئے امام ابو بکر احمد بن علی جصاص الرازی الحنفی رحمۃ اللہ علیہ درج بالا آیتِ کریمہ کے تحت ارشاد فرماتے ہیں: ”الميتة في الشرع إسم للحيوان الميت غير المذكى، و قد يكون ميتة بأن يموت حتف أنفه من غير سبب لآدمي فيه ..... فإنه يتناول سائر وجوه المنافع، و لذلك قال أصحابنا: لا يجوز الانتفاع بالميتة على وجه و لا يُطعِمها الكلاب و الجوارح لأن ذلك ضرب من الانتفاع بها، و قد حرم اللہ الميتة تحريما مطلقا“ یعنی شرعاً الميتة اس مردہ حیوان کا نام ہے جس کو شرعی طریقے سے ذبح نہ کیا گیا ہو، نیز اس کو بھی مردار کہا جاتا ہے کہ جو آدمی کے کسی سبب (شکار) کے بغیر طبعی موت مرجائے .... پس یہ (حرمت) مردار سے منافع حاصل کرنے کی تمام صورتوں کو شامل ہے، اسی وجہ سے ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ مردار سے کسی بھی صورت میں نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے اور اسے کتے اور دیگر چیر پھاڑ کرنے والے جانوروں کو کھلانا بھی جائز نہیں، کیونکہ اس طرح بھی مردار سے نفع حاصل کرنا پایا جاتا ہے، حالانکہ اللہ پاک نے مردار کو مطلقا حرام قرار دیا ہے۔ (ملخص از احکام القرآن للجصاص، جلد 1، صفحہ 132، دار احياء التراث العربي، بیروت)

مردار کی خرید و فروخت سے متعلق علامہ برہان الدین مرغینانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: البيع بالميتة و الدم باطل .... لإنعدام رکن البیع، و ھو مبادلۃ المال بالمال، فان ھذہ الأشیاء لا تعد ما لا عند أحد۔ یعنی مردار اور خون کی بیع باطل ہے .... بیع کے رکن کے نہ پائے جانے کی وجہ سے، اور وہ (رکن) مال کا مال سے تبادلہ ہے، کیونکہ کسی بھی امام کے نزدیک ان اشیا کو مال شمار نہیں کیا جاتا۔ (ملتقط از البنایۃ شرح الھدایۃ، جلد 8، صفحہ 139، دار الکتب العلمیۃ، بيروت)

صحیح بخاری شریف میں ہے: ”عن ابن عباس رضي اللہ عنهما، قال: وجد النبي صلى اللہ عليه و سلم شاة ميتة، أعطيتها مولاة لميمونة من الصدقة، فقال النبي صلى اللہ عليه و سلم: هلا انتفعتم بجلدها؟ قالوا: إنها ميتة، قال: إنما حرم أكلها“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ نبی پاک علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ایک مردہ بکری کو دیکھا جو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی کنیز کو دی گئی تھی۔ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمایا: تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ یہ مردہ ہے، تو آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے ارشاد فرمایا: اس کا تو صرف کھانا ہی حرام ہے (یعنی اس کی کھال استعما ل کرنا، جائز ہے)۔ (صحیح البخاری، کتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ علی موالی ازواج النبی صلی اللہ علیہ و سلم، جلد 1، صفحہ 202، مطبوعہ کراچی)

سنن الدارمی میں ہے: ”أيما إهاب دبغ فقد طهر“ یعنی جس چمڑے کو دباغت دی گئی تو وہ پاک ہوگیا۔ (سنن الدارمی، کتاب الاضاحی، باب الاستمتاع بجلود المیتۃ، جلد 1، صفحہ 38، دار الکتاب العربی)

تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ’’(و جلد ميتة قبل الدبغ) … لو بالثمن فباطل .... (و بعده) أي الدبغ (يباع) إلا جلد إنسان و خنزير و حية‘‘ یعنی دَباغت سے پہلے مردار کے چمڑے کی خرید و فروخت اگر ثمن (قیمت) کے بدلے ہو تو یہ باطل ہے البتہ دباغت کے بعد بیچا جاسکتا ہے سوائے انسان، خنزیر اور سانپ کی کھال کے۔

در مختار کی عبارت ’’إلا جلد إنسان و خنزير و حية‘‘ کے تحت خاتم المحققین علامہ ابنِ عابدین شامی دمشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”فلا يباع و إن دبغ لكرامته، و في الباقي لإهانته و لعدم عمل الدباغة فيه“ (یعنی ان کو بیچنا درست نہیں ہے اگرچہ دباغت کرلی جائے انسان کے قابلِ تکریم ہونے کی بنا پر اور باقی (دو) چیزوں میں اُن کی اہانت کی وجہ سے اور اُس میں دباغت کا عمل نہ ہونے کی وجہ سے) کہ خنزیر نجس العین ہے اور سانپ کی کھال دباغت ہی قبول نہیں کرتی) ملخص از در مختار مع رد المحتار، کتاب البیوع، جلد 7، صفحہ 266 - 267، مطبوعہ کوئٹہ)

فقیہ النفس، امام اہلسنت، سیدی اعلیٰ حضرت، الشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے فتاویٰ رضویہ شریف میں سوال ہوا کہ کھال مردہ کا بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ اور ہڈی بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ بعض عالم کہتے ہیں جائز نہیں ہے اور بعض کہتے ہیں جائز ہے۔ تو اس کے جواب میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: کھال اگر پکا کر یا دھوپ میں سکھا کر دباغت کرلی جائےتو بیچنا جائز ہے لطھارتہ و حل الانتفاع (بسبب اس کی طہارت کے اور حلال ہونے اس سے نفع حاصل کرنے کے) ورنہ حرام و باطل ہے لانہ جزء میتۃ و بیع المیتۃ باطل (کیونکہ وہ مردار کی جزء ہے اور مردار کی بیع باطل ہے) ہڈی پر اگر دسومت نہ ہو خشک ہو تو اس کی بیع جائز ہے لما تقدم لان الحیاۃ لاتحلہ (اس وجہ سے جو پہلے گزرچکی ہے کیونکہ حیات اس میں سرایت نہیں کرتی) اور ان احکام سے خنزیر مستثنیٰ ہے اس کی کھال یا ہڈی کسی حال میں اصلاً خرید و فروخت یا کسی قسم کے انتفاع کے قابل نہیں لنجاسۃ عینھا (اس کے نجس عین ہونے کی وجہ سے)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 161، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: خنزیر کے بال یا اورکسی جز کی بیع باطل ہے اور مُردار کے چمڑے کی بھی بیع باطل ہے جبکہ پکایا نہ ہو، اور دباغت کرلی ہو تو بیع جائز ہے اور اس کو کام میں لانا بھی جائز ہے۔ (بھارِ شریعت، جلد 2، صفحہ 707، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

کھال سری، پائے وغیرہ اسی حلال جانور کے کھانا جائز ہے جسے شرعی طریقے کے مطابق ذبح کیا گیا ہو، چنانچہ فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے: مذبوح حلال جانور کی کھال بے شک حلال ہے، شرعاً اس کا کھانا ممنوع نہیں، اگرچہ گائے بھینس بکری کی کھال کھانے کے قابل نہیں ہوتی۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 20، صفحہ 233، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوٰی فقیہِ ملت میں ہے: حلال جانور کا چمڑا کھانا، جائز ہے بشرطیکہ مذبوح شرعی کا چمڑا ہو۔ (فتاوٰی فقیہ ملت، جلد 02، صفحہ 239، مطبوعہ لاہور)

تنبیہ:

یاد رہے کہ! خنزیر اور انسان کی کھال کا حکم اس سے علیحدہ ہے، کیونکہ ان کی کھال کی خرید و فروخت یا اُس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانا چاہے دباغت سے پہلے ہو یا اس کے بعد بہرحال جائز نہیں ہے، جیسا کہ درج بالاجزئیات سے معلوم ہوا، کہ خنزیر نجسُ العین ہے، جبکہ انسان اپنے تمام اجزاء سمیت قابلِ تکریم ہے، لہذا اُس کے کسی جزء کی بیع یا کسی اورقسم کے انتفاع کے ذریعے اُسےابتذال سے محفوظ رکھا جائے گا۔ نیز چونکہ بعض علمائے کرام نے ارشاد فرمایا کہ سانپ کی کھال سخت ہونے کے باعث دباغت کو قبول نہیں کرتی، لہذا سانپ کی کھال بھی دباغت سے قابل استعمال نہیں ہوگی۔

نزہۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے: ہمارے یہاں انسان اور سانپ اور خنزیر کےعلاوہ ہر جانور کی کھال دباغت سے پاک ہوجاتی ہے، انسان کی کھال اس وجہ سے کہ انسان مکرم و محترم ہے، اگر دباغت سے اس کی کھال کو قابل انتفاع ہونے کا فتویٰ دے دیا جائے، تو انسان کی ناموس خطرے میں پڑ جائے۔ سانپ کی کھال اتنی سخت ہوتی ہے کہ وہ دباغت کو قبول ہی نہیں کرتی اور خنزیر نجس العین ہے اس کی کھال کے پا ک ہونے کا سوال ہی نہیں۔ (نزھۃ القاری، جلد 02، صفحہ 975، مطبوعہ فرید بک سٹال)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: FMD-0331
تاریخ اجراء: 18 رجب المرجب 1447ھ / 08 جنوری 2026ء