logo logo
AI Search

بیچی ہوئی چیز کم قیمت میں واپس خریدنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لین دین میں سود سے بچنے کا ایک طریقہ

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید مجھ سے ایک لاکھ کا موبائل نقد یا ادھار میں خریدے اور پھر وہی موبائل بکر کو ایک لاکھ دس ہزار روپے میں ادھار پر قسطوں کی صورت میں فروخت کر دے، پھر بکر میرے پاس وہی موبائل لائے اور کہے کہ تم یہ موبائل 95000 میں نقد خرید لو، تو کیا میرے لیے اس موبائل کو بکر سے کم قیمت میں خریدنا، جائز ہوگا؟ جبکہ میں نے یہی موبائل زید کو ایک لاکھ کا بیچا ہوتا ہے اور اس سے میرا یہ کچھ طے نہیں ہوتا کہ میں واپس خریدوں گا۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ کا بکر سے وہ موبائل کم قیمت میں خریدنا، جائز ہے چاہے آپ نے زید کو وہ موبائل نقد بیچا ہو یا ادھار، کیونکہ بائع (یعنی فروخت کرنے والا) جب کسی کے ہاتھ چیز فروخت کردے، پھر خریدار اس چیز پر قبضہ کرلینے کے بعد اسے آگے فروخت کردے، تو اِس صورت میں (بائع اول یعنی) پہلی بار فروخت کرنے والے شخص کے لیے جائز ہے کہ اُس نے وہ چیز جتنی قیمت میں پہلے خریدار کو فروخت کی تھی، دوسرے خریدار سے اُس سے کم قیمت میں خرید لے۔ البتہ اگر پہلے خریدار نے ابھی تک چیز کی مکمل قیمت ادا نہ کی ہو اور بائع اول اس پہلے خریدار ہی سے یا اس کے وکیل سے وہی چیز کم قیمت میں خرید لے، تو یہ جائز نہیں ہے۔

خریدار چیز آگے بیچ دے، اس کے بعد بائع اول وہی چیز دوسرے خریدار سے کم قیمت میں خرید لے، تو یہ جائز ہے۔ چنانچہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ”لو باع المشتری من رجل، ثم أن البائع الاول اشتراہ من المشتری الثانی باقل مما باع، جاز“  ترجمہ: خریدار نے چیز دوسرے شخص کو بیچ دی، پھر بائع اول نے وہ چیز اس دوسرے خریدار سے اس قیمت سے کم میں خرید لی کہ جتنے میں اس نے (پہلے خریدار کو) بیچی تھی، تو یہ جائز ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب البیوع، الباب التاسع، الفصل العاشر، ج 3، ص 141، مطبوعہ کراچی)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بائع نے اُس سے خریدی، جس کے ہاتھ مشتری نے بیع کردی ہے یا ہبہ کر دی ہے یا مشتری نے جس کے لیے اُس چیز کی وصیت کی، اُس سے خریدی یا خود مشتری سے اُسی دام میں یا زائد میں خریدی یا ثمن پر قبضہ کرنے کے بعد خریدی، یہ سب صورتیں جائز ہیں۔ (بھارِ شریعت، حصہ 11، ج 2، ص708، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

چیز کی مکمل قیمت ملنے سے پہلے وہی چیز اسی خریدار یا اس کے وکیل سے کم قیمت میں خرید لینا، جائز نہیں ہے ۔ چنانچہ تنویر الابصار و درِ مختار میں ہے: و فسد شراء ما باع بنفسہ او بوکیلہ من الذی اشتراہ و لو حکماً کوارثہ بالاقل من قدر الثمن الاول قبل نقد کل الثمن الاول، صورتہ: باع شیئاً بعشرۃ و لم یقبض الثمن ثم شراہ بخمسۃ لم یجز و ان رخص السعر، للربا“  ترجمہ: ایک شخص نے یا اس کے وکیل نے کوئی چیز دوسرے کو بیچی ہو، تو اُسی سے ثمنِ اول کی مکمل ادائیگی سے پہلے ثمن میں کمی کر کے خرید لینا، بیع فاسد ہے، اگرچہ وہ حکما خریدار ہو، جیساکہ خریدار کے وارث سے خریدنا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کسی شخص نے دس (روپے) کی کوئی چیز بیچی اور ثمن پر ابھی قبضہ نہیں کیا تھا، پھر اُسی شخص سے پانچ کی خرید لی، تو ایسا کرنا، سود کی وجہ سے جائز نہیں ہے، اگرچہ مارکیٹ ہی میں اس کی قیمت کم ہوگئی ہو۔ رد المحتار میں”و فسد شراء ما باع الخ“ کے تحت ہے: ای: سواء کان الثمن الاول حالاً او مؤجلاً، ھدایۃ“  ترجمہ: یعنی برابر ہے کہ ثمنِ اول نقد ہو یا ادھارہو۔ (الدر المختار مع رد المحتار، ج 7، ص 268، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جس چیز کو بیع کر دیا ہے اور ابھی ثمن وصول نہیں ہوا ہے، اس کو مشتری سے کم دام میں خریدنا، جائز نہیں، اگرچہ اس وقت اس کا نرخ کم ہو گیا ہو۔ یوہیں اگر مشتری مرگیا، اُس کے وارث سے خریدی، جب بھی جائز نہیں۔ مالک نے خود نہیں بیع کی ہے بلکہ اس کے وکیل نے بیع کی، جب بھی یہی حکم ہے کہ کم میں خریدنا، ناجائز۔ (بھارِ شریعت، حصہ 11، ج 2، ص 708، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Aqs-1942
تاریخ اجراء: 14 ربیع الآخر 1442ھ / 30 نومبر 2020ء