logo logo
AI Search

عیسائی سے دودھ خریدنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عیسائی دودھ فروش سے دودھ خریدنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

عیسائی اپنے گھر کے جانوروں کا دودھ بیچتا ہے، تو کیا وہ دودھ، اس سے خرید سکتے ہیں؟

جواب

عیسائی سے حلال جانورں کا دودھ خریدنا، جائز ہے، جبکہ اس کے ناپاک ہونے یا کسی حرام جانور کا ہونے کا قرینہ نہ ہو، البتہ !کفار چونکہ سخت ناپاکیوں میں ملوث ہوتے ہیں، ان کے بدن و برتن بھی عموما ناپاک ہوتے ہیں، اس لئے تقوی یہ ہے کہ ان سے نہ خریدیں، کسی مسلمان سے خریدیں، کہ اس میں مسلمان کی مدد بھی ہے۔ فتاویٰ رضویہ میں ہے "وفی نصاب الاحتساب بعد نقل ما فی الذخیرۃ بالاختصار قال العبد اصلحہ اللہ تعالٰی وماابتلینا من شراء السمن والخل واللبن والجبن وسائر المائعات من الھنود علی ھذا الاحتمال تلویث اوانیھم وان نساء ھم لایتوقین عن السرقین وکذا یأکلون لحم ماقتلوہ وذلک میتۃ فالاباحۃ فتوٰی والتحرز تقوٰی اھ ملخصا اقول واراد بالاباحۃ ما لا اثم فیہ وبالتقوی الرعۃ فافھم"

(نصاب الاحتساب میں ذخیرہ کی بحث بالاختصار نقل کرنے کے بعد فرمایا بندہ عرض کرتا ہے (اللہ تعالٰی اس کی اصلاح فرمائے) اور جو ہم گھی، سرکہ، دُودھ، پنیر اور دیگر مائع چیزیں ہندؤں سے خریدنے کے سلسلے میں مبتلا ہیں، حالانکہ ان کے برتنوں کے (نجاست سے) ملوث ہونے کا احتمال ہے، اور ان کی عورتیں گوبر سے اجتناب نہیں کرتیں، اور اسی طرح وہ اپنے ذبح شدہ جانور کا گوشت کھاتے ہیں، حالانکہ وہ مردار ہوتا ہے، پس فتوٰی کے اعتبار سے وہ مباح ہے، لیکن تقوٰی یہ ہے کہ اجتناب کرے (نصاب الاحتساب کی عبارت کاخلاصہ ختم ہوا) میں کہتاہوں: اباحت سے مراد وہ ہے جس میں گناہ نہ ہو اور تقوٰی سے مراد شبہات سے بچنا ہے۔ پس تم سمجھ لو۔) (فتاویٰ رضویہ، جلد 4، صفحہ 504، 505، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)  

فتاوی رضویہ میں ہے"ہندو کے یہاں کا گوشت اوراس کی جس شے کی نسبت معلوم ہو کہ اس میں کوئی چیز حرام یا نجس ملی ہے وہ ضرور حرام ہے اور جس شے کاحال معلوم نہیں وہ جائز ہے۔ " (فتاوی رضویہ، ج21، ص664، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4931
تاریخ اجراء:06 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/24 اپریل 2026ء