بینک یا انشورنس کمپنی کو کمپیوٹر بیچنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بینک یا انشورنس کمپنی کوکمپیوٹر بیچنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا بینک یا انشورنس کے ادارے کو یا اس جیسے کسی اور ادارے یا کمپنی کو کمپیوٹر وغیرہ بیچنا جائز ہے؟
جواب
ایسے ادارے یا کمپنی کہ جن میں ناجائز و حرام کام بھی ہوتے ہیں، انہیں کمپیوٹر بیچنا شرعاً ممنوع نہیں، جبکہ گناہ پر معاونت کی کوئی نیت نہ ہو؛ کیونکہ کمپیوٹر ایک ایسا آلہ ہے جس کا استعمال گناہ کے کاموں کے ساتھ متعین نہیں ہے، استعمال کرنے والے پر منحصر ہے کہ وہ اسے کیسے استعمال کرتا ہے، اور ایسی اشیا جو فی نفسہ اچھے اور برے دونوں کاموں میں استعمال ہو سکتی ہوں انہیں بیچنا جائز ہے، بشرطیکہ خریدار کی طرف سے اسے گناہ کے کام میں ہی استعمال کرنے کا یقین یا ظن غالب نہ ہو اور نہ ہی بیچنے والا گناہ پر اعانت کی نیت سے بیچے۔
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ”الذي يظهر لي أن الشيء إذا صلح في حد ذاته لأن يستعمل في معصية و في غيرها و لم يتعين للمعصية فلم يكن بيعه إعانة عليها لاحتمال أن يستعمل في غير المعصية و إنما يتعين ذلك بقصد القاصدين و الشك لا يؤثر و غلبة الظن في أمثال المقام ملتحق باليقين ... فاعلم أن معنى ما تقوم المعصية بعينه أن يكون في أصل وضعه موضوعا للمعصية أو تكون هي المقصودة العظمى منه“ ترجمہ: جو بات میرے نزدیک ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی چیز جب اپنی ذات میں اس لائق ہو کہ اسے معصیت میں استعمال کیا جا سکے اور غیر معصیت میں (بھی)، اور وہ معصیت کے لیے متعین نہ ہو تو اس کا بیچنا معصیت پر مدد کرنا نہیں ہوگا؛ اس احتمال کی وجہ سے کہ اسے غیر معصیت میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور معصیت کا تعین تو صرف ارادہ کرنے والوں کے ارادے سے ہوتا ہے اور (اس معاملے میں محض) شک کوئی اثر نہیں ڈالتا، البتہ ایسے مقام میں غالب گمان یقین کے ساتھ ملحق ہوتا ہے۔ پس جان لو کہ وہ چیز جس کے عین کے ساتھ معصیت قائم ہوتی ہے کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنی اصل وضع میں معصیت کے لیے بنائی گئی ہو یا اس سے مقصودِ اعظم معصیت ہی ہو۔ (جد الممتار، جلد 7، صفحہ 75-76، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہوا کہ مسلمان کو ہندو مردہ جلانے کے لیے لکڑیاں بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ تو جواباً ارشاد فرمایا: لکڑیاں بیچنے میں حرج نہیں، لأن المعصیة لا تقوم بعینها (یعنی اس لیے کہ معصیت اس کے عین کے ساتھ قائم نہیں)، مگر جلانے میں اعانت کی نیت نہ کرے، اپنا ایک مال بیچے اور دام لے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 168، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ / 1993ء) لکھتے ہیں: (خالی ویڈیو) کیسٹ صرف معصیت ہی میں نہیں، بلکہ نیک کاموں میں بھی استعمال ہوتا ہے، لہذا کیسٹ منگانے اور بیچنے میں کوئی حرج نہیں، استعمال کرنے والا جس جگہ استعمال کرے گا، وہ اس کا ذمہ دار ہوگا۔ (وقار الفتاوی، جلد 1، صفحہ 220، بزم وقار الدین، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1180
تاریخ اجراء: 10 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 28 اپریل 2026ء