logo logo
AI Search

قسطوں پر چیزیں بیچنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قسطوں پر چیزیں بیچنے کا حکم؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ قسطوں پر چیزیں بیچنے کا کاروبار کرنا جائز ہے؟ اس میں ویسے جو عام قیمت ہوتی ہے اس سے زیادہ پر چیزوں کو بیچا جاتا ہے۔

جواب

قسطوں پر چیزیں بیچنے کا کاروبار کرنا، ادھار خرید و فروخت کرنے ہی کی ایک صورت ہے جس کی شرعاً اجازت ہے، لہذا یہ کاروبار بھی جائز ہے جبکہ اس میں ان امور کا لحاظ رکھا جائے:

(۱) خرید و فروخت کے وقت ایک قیمت پر باہمی اتفاق ہو جائے اگرچہ وہ قیمت نقد خریداری کی قیمت سے زیادہ ہو۔

(۲) قسطوں کی مدت مقرر کر لی جائے کہ اتنے ماہ یا سال میں اس انداز پر ادائیگی کر دی جائے گی تاکہ کوئی جہالت باقی نہ رہے جو بعد میں جھگڑے کا باعث بنے۔

(۳) قسط تاخیر سے جمع کروانے کی صورت میں کوئی اضافی رقم بطور جرمانہ ادا کرنے کی شرط نہ رکھی جائے کہ مالی جرمانہ شرعاً جائز نہیں۔

(۴) اسی طرح مخصوص دورانیہ میں ادائیگی مکمل نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ چیز مع ادا شدہ رقم ضبط کر لینے یا انشورنس وغیرہ جیسی خلافِ عقد کوئی شرط لاگو نہ کی جائے۔

واضح رہے! اگرچہ قسط کی تاخیر کی صورت میں جرمانہ نہیں لیا جا سکتا، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ بلا وجہ ایسا کرنا درست ہو، بلکہ جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے طے شدہ وقت پر قسط کی ادائیگی نہ کرنا، ظلم اور ناجائز و حرام ہے، ایسا کرنے والا گناہ گار ہوگا۔

علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر الفرغانی المرغینانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 593ھ / 1197ء) لکھتے ہیں:

و يجوز البيع بثمن حال و مؤجل إذا كان الأجل معلوما لإطلاق قوله تعالى﴿وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾

ترجمہ: ارشاد باری تعالیٰ اور اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا کے عموم کی وجہ سے ثمن حال (نقد قیمت) پر اور ثمن مؤجل (ادھار قیمت) پر جبکہ مدت معلوم ہو، خرید و فروخت کرنا جائز ہے۔ (الهدایة شرح بدایة، كتاب البيوع، جلد 3، صفحہ 24، دار احیاء التراث العربي، بيروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں:

و ما التنجیم الا نوع من التأجیل

ترجمہ: اور قسطیں کرنا مدت مقرر کرنے (ادھار بیع کرنے) ہی کی ایک قسم ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 493، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: بیع میں ثمن کا معین کرنا ضروری ہے، اور جب ثمن معین کر دیا جائے تو بیع چاہے نقد ہو یا ادھار سب جائز ہے، اور یہ بھی ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنی چیز کو کم یا زیادہ، جس قیمت پر مناسب جانے بیع کرے، تھوڑا نفع لے (یا) زیادہ، شرع سے اس کی ممانعت نہیں، مگر صورت مسئولہ میں یہ ضرور ہے کہ نقد یا ادھار دونوں سے ایک صورت کو معین کر کے بیع کرے اور اگر معین نہ کیا، یوہیں مجمل رکھا کہ نقد اتنے کو اور ادھار اتنے کو تو یہ بیع فاسد ہوگی اور ایسا کرنا جائز نہ ہوگا۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 3، صفحہ 181 ملخصاً، مکتبہ رضویہ، کراچی)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے: تعزیر بالمال منسوخ ہے اور منسوخ پر عمل جائز نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 111، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ / 1993ء) لکھتے ہیں: فروخت کرنے والے کو شریعت نے یہ اختیار دیا ہے کہ نقد کی قیمت اور رکھے اور ادھار کی قیمت اور مقرر کرے، مگر شرط یہ ہے کہ ادھار کی مدت متعین کر دی جائے...جتنی مدت زیادہ ہو ، اتنی قیمت زیادہ ہو سکتی ہے۔ مگر سوال میں جو صورت بعد میں لکھی ہے کہ اگر وہ لیٹ کریں، تو دو فیصد یا چار فیصد جرمانہ لیا جائے گا، یہ ناجائز ہے، شریعت میں مال پر جرمانہ جائز ہی نہیں ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 264، بزم وقار الدین، کراچی)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: قسطوں پر سامان لینا جائز ہے اور قسطوں کی صورت میں جو زیادہ پیسہ دیا جاتا ہے، یہ سود نہیں ہے۔ اس میں ناجائز ہونے کی صورت مندرجہ ذیل ہو گی کہ اگر مالک سے قیمت متعین کر کے کوئی چیز خریدی گئی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اتنے روپے مالک کے خریدار کے ذمہ واجب ہیں اور خریدار اس چیز کا مالک ہو گیا، اب خریدار مالک کو یہ روپیہ نقد نہ دے بلکہ یہ کہے کہ میں قسطوں میں اس سے زیادہ ادا کروں گا تو اس صورت میں یہ زیادتی سود ہے اور حرام ہے۔ ( وقار الفتاوی، جلد 3، صفحہ 271، بزم وقار الدین، کراچی)

صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، مسند احمد وغیرہ کثیر کتب حدیث میں ہے:

عن أبي هريرة رضي اللہ عنه أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم قال: مطل الغني ظلم

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: مالدار کا (دین کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (صحيح البخاري، كتاب الحوالات، باب في الحوالة... الخ، جلد 2، صفحہ 799، حدیث 2166، دار ابن كثير، دمشق)

علامہ زین الدین محمد عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1031ھ / 1622ء) اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں:

تسويف القادر المتمكن من اداء الدين الحال ظلم منه لرب الدين فهو حرام بل كبيرة

ترجمہ: ایسا قادر شخص جو ادائیگی کی استطاعت رکھتا ہو اس کا دینِ حال ادا کرنے میں ٹال مٹول کرنا، اس کی طرف سے دائن پر ظلم ہے، پس یہ حرام ہے بلکہ کبیرہ گناہ ہے۔ (التيسير بشرح الجامع الصغير، حرف الميم، جلد 2، صفحہ 376، مكتبة الإمام الشافعي، الرياض)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1092
تاریخ اجراء: 20 شعبان المعظم 1447ھ / 09 فروری 2026ء