چھالیہ کی خرید و فروخت کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چھالیہ کی خرید و فروخت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
چھالیہ کی خرید و فروخت، اور اس کی سپلائی کا کیا حکم ہے؟
جواب
چھالیہ کی خرید و فروخت جائز ہے، اور ا س کی سپلائی کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں؛ کیونکہ کسی چیز کی بیع کے درست ہونے کے لیے مبیع (جس چیز کو بیچا جا رہا ہے، اس) کا ”مالِ متقوِم“ ہونا ضروری ہے اور کسی چیز کے ’’مال“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ: "اس کی طرف لوگوں کا رجحان ہو، لوگ اسے جمع کرتے ہوں، اسے لینے، دینے میں رغبت رکھتے ہوں۔ "جبکہ ”متقوم“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ: "اس چیز سے شریعت مطہرہ نے نفع اٹھانا، جائز رکھا ہو۔" اور چھالیہ ایک ایسی چیز ہے، جس کی طرف انسانی طبیعت کا میلان ہوتا ہے، اسے بوقتِ ضرورت ذخیرہ کیا جاتا ہے، اور شریعت نے اس سے نفع اٹھانے کی اجازت بھی دی ہے، لہذا یہ مالِ متقوم ہے اور اس کی خرید و فروخت درست ہے۔ اور جب اس کی خرید و فروخت درست ہے، تو اس کی سپلائی کرنا بھی درست ہے۔
بیع کے درست ہونے کے لیے مبیع کا ”مال متقوم“ ہونا ضروری ہے، جیسا کہ بیع کی شرائط بیان کرتے ہوئے امام کمال الدین ابنِ ہمام رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "في المبيع كونه مالا متقوما شرعا" یعنی جس چیز کو بیچا جارہا ہو، اس میں (یہ شرط ہے کہ) وہ شرعی طور پر مالِ متقوم ہو۔ (فتح القدیر، جلد 6، صفحہ 248، دار الفكر، بيروت)
مالِ متقوم سےکیا مراد ہے، اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: "فان المتقوم هو المال المباح الانتفاع به شرعا، وقدمنا اول البيوع تعريف المال بما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة" یعنی جس مال سے شرعاً نفع حاصل کرنا، جائز ہو وہ متقوم کہلاتا ہے۔ اور ہم کتاب البیوع کے شروع میں مال کی یہ تعریف بیان کر چکے ہیں کہ (مال وہ چیز ہے) جس کی طرف انسانی طبیعت مائل ہو اور اسے ضرورت کے وقت کے لیے جمع کرنا ممکن ہو۔ (رد المحتار، جلد 7، صفحہ 234، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے "مال وہ چیز ہے جس کی طرف طبیعت کا میلان ہو، جس کو دیا لیا جاتا ہو، جس سے دوسروں کو روکتے ہوں، جسے وقت ضرورت کے لیے جمع رکھتے ہوں۔" (بہار شریعت، جلد2، حصہ 11، صفحہ696، مکتبۃ المدینۃ )
بیع کا مدار نفع کی حلت پر ہے، چنانچہ جد الممتار میں ہے: "صحّة البيع إنّما يعتمد الانتفاع" ترجمہ: بیع درست ہونے کا مدار انتفاع پر ہے۔ (جد الممتار، جلد 6، صفحہ 150، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4967
تاریخ اجراء: 11 ذو القعدۃ الحرام1447ھ/29 اپریل 2026ء