logo logo
AI Search

گندم کے بدلے آٹا خریدنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گندم کے بدلے آٹا خریدنے کا شرعی حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ درمیانے درجے کی گندم کے بدلے میں آٹا خریدنا کیسا ہے؟ کبھی کبھار ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے، اور کبھی ایک ہفتے بعد لیا جاتا ہے، پوچھنا یہ تھا کہ کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟

جواب

گندم کو گندم کے آٹے کے عوض فروخت کرنا سود ہے، لہذا نہ برابر بیچنا جائز ہے اور نہ کمی و زیادتی کے ساتھ، اسی طرح نہ ہاتھوں ہاتھ بیچنا جائز ہے، اور نہ ادھار۔ فتاوی عالمگیری میں ہے

و لا يصح بيع البر بالدقيق و السويق متساويا أو متفاضلا

ترجمہ: اور گندم کی آٹے یا ستو کے عوض بیع کرنا جائز نہیں، نہ برابر برابر اور نہ کمی وزیادتی کے ساتھ۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 3، صفحہ 118، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے گیہوں کی بیع آٹے یا ستو سے یا آٹے کی بیع ستو سے مطلقاً ناجائز ہے اگرچہ ماپ یا وزن میں دونوں جانب برابر ہوں یعنی جب کہ آٹا یا ستو گیہوں کا ہو اور اگر دوسری چیز کا ہو مثلاً جو کا آٹا یا ستو ہو تو گیہوں سے بیع کرنے میں کوئی مضایقہ نہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 2، حصہ 11، صفحہ 773، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4784
تاریخ اجراء: 09رمضان المبارک1447ھ / 27فروری2026ء