logo logo
AI Search

سودا ختم کرنے کی صورت میں چیز کی واپسی پر کم قیمت دینا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سودا ہونے کے بعد چیز واپس کرنے کی صورت میں کٹوتی کرنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی گاڑی ایک شخص کو فروخت کی، وہ شخص گاڑی لے گیا اور پوری رقم بھی ادا کر دی۔ اگلے دن وہ شخص واپس آیا اور کہا کہ مجھے مجبوری ہے، اس لیے آپ یہ گاڑی واپس لے لو اور مجھے پوری رقم واپس کردو۔ اس شخص کے ماموں نے کہا کہ جتنے میں گاڑی فروخت ہوئی ہے، اس میں سے اتنی رقم مثلاً پچاس ہزار مائنس کرلو اور باقی رقم اس کو واپس کر دو۔ جس شخص نے گاڑی خریدی تھی وہ رونے لگا کہ واقعی مجبوری ہے، اس لیے گاڑی واپس کر رہا ہوں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں اس شخص کا کچھ رقم مائنس کرکے رکھ لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ نیز اگر وہ شخص صرف رقم واپس لینے کے لیے بہانہ کر رہا ہو تو حکم کیا ہوگا اور اگر واقعی اس کی مجبوری ہو تو پھر شرعی رہنمائی کیا ہے؟

جواب

سودا مکمل ہونے کے بعد خریدار اور بیچنے والے کا باہمی رضامندی سے سودا ختم کردینا شرعی اصطلاح میں’’اقالہ‘‘ کہلاتا ہے۔ اقالہ شرعاً جائز بلکہ مستحب اور باعث ثواب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مسلمان سے اقالہ کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی لغزشوں کو معاف فرما دے گا۔ اقالہ میں ضروری یہ ہے کہ جس قیمت پر سودا ہوا تھا، اسی قیمت پر چیز واپس کی جائے، اس سے کم یا زیادہ قیمت کی شرط لگانا درست نہیں۔ اگر ایسی شرط لگائی جائے تو وہ معتبر نہیں ہوتی اور اصل قیمت ہی واپس کرنا لازم ہوتا ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں خریدار کی واقعی مجبوری ہے یا نہیں، اس تفصیل میں جائے بغیر اگر آپ اُس سے گاڑی واپس لے کر پوری رقم لوٹا دیں تو آپ ثواب کے مستحق ہوں گے، البتہ قیمت میں کمی کرنا جائز نہیں ہوگا۔

ہاں اگر پہلا سودا ختم کرنے کی بجائے نئے سرے سے خرید و فروخت کا سودا کرلیں تو اب جو چاہیں قیمت مقرر کرلیں کیونکہ جب  پہلے سودے میں خریدار نے پوری رقم ادا کردی ہے، تو اب کم قیمت میں بھی خریدنا شرعاً جائز ہوگا، ہاں اگر پوری قیمت وصول نہیں کی ہوتی تو کم قیمت پر خریدنا جائز نہیں ہوتا۔

بہار شریعت میں ہے: ’’دو شخصوں کے مابین جو عقد ہوا ہے اس کے اُٹھا دینے کو اقالہ کہتے ہیں یہ لفظ کہ میں نے اقالہ کیا، چھوڑ دیا، فسخ کیا یا دوسرے کے کہنے پر مبیع یا ثمن کا پھیر دینا اور دوسرے کا لے لینا اقالہ ہے۔۔۔ دونوں میں سے ایک اقالہ چاہتا ہے تو دوسرے کو منظور کرلینا، اقالہ کر دینا مستحب ہے اور یہ مستحق ثواب ہے‘‘۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 11، صفحہ 734، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اقالہ پہلے والی رقم کے ساتھ ہی ہوگا جس پر سودا ہوا، کم یا زیادہ کی شرط باطل ہے، چنانچہ ہدایہ میں ہے:

”الإقالة جائزة ‌في ‌البيع ‌بمثل ‌الثمن الأول" لقوله عليه الصلاة والسلام: "من أقال نادما بيعته أقال الله عثرته يوم القيامة "ولأن العقد حقهما فيملكان رفعه دفعا لحاجتهما" فإن شرطا أكثر منه أو أقل فالشرط باطل ويرد مثل الثمن الأول۔۔۔الا ان یحدث فی المبیع عیب فحینئذ جازت الاقالۃ بالاقل لان الحط یجعل بازاء ما فات بالعیب“

ترجمہ: اقالہ اسی پہلے والے ثمن کے ساتھ خرید و فروخت میں جائز ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے: ’’جس نے کسی نادم کی بیع کو فسخ کر دیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی لغزش معاف فرما دے گا‘‘۔اور اس لیے بھی کہ عقد دونوں کا حق ہے، تو وہ اپنی ضرورت دور کرنے کے لیے اسے ختم کر سکتے ہیں۔پس اگر وہ پہلے ثمن سے زیادہ یا کم کی شرط لگائیں تو یہ شرط باطل ہوگی اور پہلے ہی ثمن کے مثل کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ البتہ اگر بیچی جانے والی چیز میں کوئی عیب پیدا ہو جائے، تو اس صورت میں کم ثمن کے ساتھ اقالہ جائز ہے، کیونکہ قیمت میں کمی اس کے مقابلے میں ہوگی جو عیب کی وجہ سےفوت ہوا ہے۔ (الھدایہ، جلد 3، صفحہ  55، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ’’جو ثمن بیع میں تھا اُسی پر یا اُس کی مثل پر اقالہ ہوسکتا ہے اگر کم یازیادہ پر اقالہ ہواتو شرط باطل ہے اور اقالہ صحیح یعنی اُتنا ہی دینا ہوگا جو بیع میں ثمن تھا(ہدایہ)۔ مثلاً ہزار روپے میں ایک چیز خریدی اُ س کااقالہ ہزار میں کیا یہ صحیح ہے اور اگر ڈیڑھ ہزار میں کیا جب بھی ہزار دینا ہوگا اور پانسو (پانچ سو) کا ذکر لغو ہے اور پانسو (پانچ سو) میں کیا اور مبیع میں کوئی نقصان نہیں آیا ہے جب بھی ہزار دینا ہوگا اور اگر مبیع میں نقصان آگیا ہے توکمی کے ساتھ اقالہ ہوسکتا ہے‘‘۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 11، صفحہ 735، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

البتہ اگر آپس میں نیا سودا طے کرلیا جائے، تو  پچھلی قیمت کے مقابلے میں کم قیمت کے ساتھ خریدنا بھی جائز ہوگا، جبکہ خریدار نےپہلے سودے کی مکمل قیمت ادا کردی ہواور یہاں ایسا ہی ہے، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”شراء باَقل، قیمت ادا ہونے کے بعد بلا شبہ جائز ہے، مثلاً: ایک چیز زید نے عمرو کے ہاتھ ہزار روپے کو بیچی، عمرو نے روپے ادا کردئیے، پھر زید نے وہی چیز عمرو سے پانچ سو کو خریدلی کہ چیز کی چیز واپس آگئی اور پانچ سو مفت بچ رہے، یہ جائز وحلال ہے۔ درمختار میں ہے:

فسد شراء ماباع بالاقل قبل نقد الثمن وجاز بعد النقد اھ ملتقطا۔

اپنی ہی فروخت کی ہوئی چیز پہلے ثمن سے کم کے بدلے خریدنا ادائیگی ثمن سے پہلے ہو تو جائز نہیں اور اگر ادائیگی کے بعد ہو تو جائز ہے۔ اھ ملتقطا (ت)‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد  17، صفحہ 549، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

 بہارِشریعت میں ہے: ’’جس چیز کو بیع کردیا ہے اور ابھی ثمن وصول نہیں ہوا ہے اس کو مشتری سے کم دام میں خریدنا جائز نہیں اگرچہ اس وقت اس کا نرخ(مارکیٹ ریٹ) کم ہوگیا ہو‘‘۔۔۔’’(بائع نے) خود مشتری سے اُسی دام میں یازائد میں خریدی یا ثمن پرقبضہ کرنے کے بعد (پہلی قیمت سے کم میں) خریدی، یہ سب صورتیں جائز ہیں‘‘۔۔۔مزید لکھتے ہیں: ”کم داموں میں خریدنا اُس وقت ناجائز ہے جب کہ ثمن اُسی جنس کاہو اور مبیع میں کوئی نقصان نہ پیدا ہوا ہو اور اگر ثمن دوسری جنس کاہو یامبیع میں نقصان ہواہو تو مطلقاًبیع جائز ہے‘‘۔ملتقطاً (بہار شریعت، جلد  2، حصہ 11، صفحہ 708، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر:FAM-1082
تاریخ اجراء: 09 شعبان المعظم 1447ھ/29 جنوری 2026ء